تبصرہ کُتب
اقلیتوں کی صورتِ حال اور اصلاح کی راہیں – عبدالرّحمان کی کتاب پر ایک نظر"

مجھے خوشی ہے کہ مجھے ہندوستان کے ایک عظیم انسان، عبدالرّحمان، جنہوں نے پولیس میں بیس اکیس سال خدمات انجام دی ہیں، کی کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ اپنی کم علمی اور محدود فہم کے باوجود میں یہ تبصرہ پیش کر رہا ہوں۔
یہ کتاب 20 ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب کے آخر میں حوالہ جاتی نوٹس موجود ہیں جو درست اور انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ ریویو کو سمجھنے میں آسانی کے لیے پہلے ابواب کی فہرست پیش کی جاتی ہے:
1. Introduction
2. Two Reports
3. Reaction to the Reports
4. Minorities and their Right
5. Population of Muslims and Related Issues
6. Educational Condition
7. Urdu
8. Madrasas
9. Economic and Employment Condition
10. Access to Banks and Bank Credit
11. Social and Physical Infrastructure
12. Poverty, Consumption and Standards of Living
13. Government Employment
14. Wakf Property
15. Deprived Sections in Muslims and Affirmative Actions
16. Government Programmes and Schemes in the Post-Sachar Era
17. Status of Implementation of Sachar Committee Recommendations
18. Status of Implementation of Rangnath Mishra Commission Recommendations
19. Reports after Two Reports
20. Conclusion
ان ابواب میں مسلمانوں اور غیر مسلم اقلیتوں کی سماجی، تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی حالت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے، اور آخر میں تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں کہ کس طرح یہ اقلیتیں پسماندگی سے نکل کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
پہلے باب میں ہی مصنف لکھتے ہیں: “We Indians celebrated our 72nd Independence Day.” یہاں مصنف نے ایک گہرا نکتہ اٹھایا کہ ہم ہندوستانی کس بنیاد پر اپنی آزادی اور مساوات کو دیکھتے ہیں۔ وہ آئین ہند (26 جنوری 1950) کی اہمیت بیان کرتے ہیں جو سماجی مساوات پر زور دیتا ہے۔ اسی باب میں وہ لکھتے ہیں: “Economic, social, educational and political inclusion of all on the basis of equality and justice is essential for the unity and integrity of the country.”
اسی طرح ہر باب میں مصنف نے ٹھوس شواہد اور حوالہ جات کے ساتھ یہ دکھایا ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی حالت نہ صرف دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات سے بھی بدتر ہے بلکہ ان کی ترقی میں کئی رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔
مصنف نے سچر کمیٹی رپورٹ (2006) اور رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ (2007) کا تفصیل سے ذکر کیا ہے، اور یہ بتایا ہے کہ کس طرح ان رپورٹس کو سیاست کا شکار بنا کر نافذ نہیں ہونے دیا گیا۔
اردو، مدارس، وقف جائیداد، بینکنگ تک رسائی، غربت، حکومتی ملازمتوں میں کمی، سماجی انفراسٹرکچر کی قلت، اور مسلمانوں میں پائی جانے والی داخلی تقسیم (اشراف و اجلاف/ارزال) پر بھی گہرائی سے بات کی گئی ہے۔
کتاب کے آخر میں مصنف اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مسلمانوں کو اپنی حالت بہتر کرنے کے لیے خود تعلیم، بیت المال، وقف کے درست استعمال، جدید ٹیکنالوجی، اسلامی بینکنگ اور سماجی اتحاد پر زور دینا ہوگا۔ ورنہ ان کی پسماندگی مزید گہری ہوتی جائے گی۔