مضامین
کشمیر... مناظروں کی گونج میں ڈوبتی ہوئی وحدت

📞 رابطہ: 9797888975
Email: asifhussain1635@gmail.com
کشمیر وہ سرزمین جو کبھی وحدت اخوت محبت اور روحانیت کا استعارہ تھی وہ وادی جہاں صوفیاء و اولیاء کرام نے دلوں کو جوڑا نفرتوں کو پگھلایا اور مختلف طبقات کو ایک ہی دسترخوانِ محبت پر جمع کیاوہی کشمیر آج اختلافات مناظروں اور تکفیر کی گونج میں اپنی شناخت کھو رہا ہے.
یہ وہی سرزمین ہے جہاں ماضی میں ہر مسلک ہر خاندان اور ہر طبقے کے لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرتے تھے. محفلِ ذکر سے لے کر میلاد، محفلِ مناجات سے لے کر درباروں کی خاموش فضا تک ہر لمحہ وحدت کا پیغام لیے ہوتا تھا. یہاں کے لوگ اپنے عقائد کے ساتھ ساتھ دوسروں کے جذبات اور مقدسات کو بھی احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے لیکن افسوس وقت کی گردش نے منظر بدل ڈالےآج اس خطے میں ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے. مناظرے جھگڑے الزامات تردید تکفیر اور دل آزاری اختلاف اب اختلاف نہیں رہا ناراضگی نفرت اور دشمنی کی سرحدوں کو چھونے لگا ہے. علم اپنا وزن کھو بیٹھا ہے، دلیل اپنی وقار کھو چکی ہے اور علمی گفتگو اب تنقید کے تیز تیروں میں بدل چکی ہے کبھی علم بلند تھا آج آواز بلند ہےکشمیر میں جب صوفیاء آتے تھے تو وہ دلیل سے نہیں کردار سے دل جیتتے تھے وہ سوچ اور اخلاق کی ایسی خوشبو چھوڑ گئے جو نسلوں تک محسوس کی گئی لیکن آج ہمارا ماحول بدل چکا ہے. اب ایسے لوگ نمایاں ہیں جن کے لیے علم کا مقصد سمجھنا نہیں بلکہ جیتنا بن چکا ہے.
مقصد تحقیق نہیں
مقصد مقبولیت ہے
مقصد مسئلے کا حل نہیں
مقصد مخاطب کو نیچا دکھانا ہے
یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی وحدت جو کبھی دلوں کے ریشمی دھاگوں سے جڑی ہوئی تھی آج تیزی سے بکھر رہی ہے مساجد، خانقاہیں، مدرسے، درسگاہیں جو کبھی روحوں کو جوڑنے کے مراکز تھے، اب تقسیم کی حد بندیوں میں جکڑی جا رہی ہیں تاریخ آئینہ ہے… ہم دیکھنا نہیں چاہتےیہ بات اتنی واضح ہے کہ انکار ممکن نہیں امت کا زوال ہمیشہ باہر سے نہیں، اندر سے شروع ہوتا ہے اور اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا سبق ہمارے سامنے موجود ہے. سقوطِ بغداد
بغداد،جو محدود جغرافیہ نہیں تھا بلکہ پوری امت کی علمی نبض تھا
دنیا وہاں سے ادب سائنس، فقہ، فلسفہ حکمت اور طب سیکھنے آتی تھی لیکن کیا ہوا ستاون اسلامی سلطنتوں کا مرکز تلوار سے پہلے مناظروں اور افتراق سے شکست کھا چکا تھا مکتب ایک دوسرے کو رد کرتے رہے، گروہ ایک دوسرے کو بدعتی کہہ کر پکارنے لگے اور جب تاتاری لشکر کے قدم بغداد کی دہلیز تک پہنچے تو اہلِ علم ایک دوسرے کے لیے میدان سجا رہے تھے—اور پھر وہ دن آیا جب علم کی کتابیں دجلہ میں بہہ گئیں اور امت کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں تاریخ کا وہ باب آج کشمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اگر ہم نے اختلافات کو دشمنی اور مناظروں کو ایمان کا کمال سمجھا تو انجام بعید نہیں۔
کشمیر کو پھر صوفیاء کی خوشبو چاہیےکشمیر کی روح ہمیشہ اس وقت قوی رہی جب یہاں کا ماحول محبت، رواداری برداشت اور مزاجِ احترام سے بھرپور تھا
جب اختلاف کے باوجود قلبی قرب باقی رہتا تھا اب ضرورت ہے کہ مناظروں کی جگہ مکالمہ لے مقابلے کی جگہ محبت لےتکفیر کی جگہ تحقیق آئے الزام کی جگہ اصلاح کا جذبہ پیدا ہوہمارے نوجوانوں کو علم کی گہرائی چاہیے، اخلاق کی تربیت چاہیے اور امت کے درد کی ضرورت ہے ہمارے خطباء کو دل جوڑنے کی حکمت چاہیے نہ کہ زبان کی تیزی ہمارے مدارس کو فکرِ وحدت اور آپس میں تعاون کا پیغام واپس لانا ہوگا اگر ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر دوبارہ روحانیت کا مرکز بنے توہمارے لہجوں میں نرمی،ہمارے دلوں میں گنجائشاور ہمارے معاشرے میں وحدت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا آخر میں یہی دعا ہے کہ
اللہ تعالیٰ کشمیر کو دوبارہ محبت رواداری اور وحدت کی وہی روشنی عطاء فرمائے جس نے صدیوں تک اسے امن کی جنت بنا رکھا تھا اے اللہ ہمارے دلوں سے نفرت کے پردے ہٹا، زبانوں سے تلخی دور کر اور اس وادی کو پھر سے اخوت کی آغوش بنا دے.
آمین یا رب العالمین