مضامین
کیا ہم اشرفُ المخلوقات ہیں.... ؟

شاید اتر جائے ترے دل میں مری بات!
کافی انتظار کے بعد بالآخر وادیٔ کشمیر اور پیر پنجال رینج میں اچھی خاصی برف باری دیکھنے کو ملی، جس نے عوام کو مسرت و شادمانی سے سرشار کر دیا۔ بوڑھا ہو یا جوان، عورت ہو یا مرد، بچہ ہو یا بچی—سب نے برف کی سفید چادر سے لطف اندوز ہو کر خوشی کا اظہار کیا۔ یہ برف باری جہاں خوشحال طبقے کے لیے تفریح کا سامان بنی، وہیں کاشت کاروں کے لیے امید کی ایک کرن ثابت ہوئی اور سیاحوں کے لیے باعثِ فرحت رہی۔
یہ برف باری اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی جو بلا لحاظِ مسلک و ملت نازل ہوئی، مگر اس رحمت نے انسان کو ایک امتحان میں بھی ڈال دیا۔ انسان اشرفُ المخلوقات ہے، مگر یہ شرف اسے یونہی حاصل نہیں ہوا۔ قدرت کا اصول ہے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے، اور جنت کے حصول کے لیے بھی قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ علامہ حالیؒ نے کیا خوب فرمایا:
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
یقیناً انسان کو فرشتوں سے بہتر ثابت ہونے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے، کیونکہ اسے ہر حال میں اپنے اشرفُ المخلوقات ہونے کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔
یہ برف باری جہاں خوشی کا سبب بنی، وہیں بعض افراد کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں رہی۔ کچھ لوگ بے گھر ہو گئے، کچھ بے سروسامان رہ گئے۔ ایک یومیہ مزدور اس امید پر سویا تھا کہ صبح محنت کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالے گا، مگر برف نے اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ایک اور شخص کو یہ خبر نہ تھی کہ اس کا آشیانہ ہی منہدم ہو جائے گا۔
یہیں سے ہمارا اصل امتحان شروع ہوتا ہے:
کیا ہم واقعی اشرفُ المخلوقات ہیں، یا پھر اولٰئک کالانعام بل ہم اضل کے مصداق؟
یہ شرف محض انسان ہونے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ عقل و شعور کی بنیاد پر ہے۔ عقل ہی انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے اور یہی عقل اسے سکھاتی ہے کہ مشکل حالات میں دوسروں کے کام آئے، خاص طور پر ایسے محنت کش افراد کے لیے جو ہاتھ پھیلانے کو گناہ سمجھتے ہیں مگر نانِ شبینہ کے محتاج ہو جاتے ہیں۔
ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ لوگ اپنے گھروں سے نکالی گئی برف سڑکوں پر ڈال رہے ہیں، جس سے عام راہگیروں، بچوں، بزرگوں اور ٹرانسپورٹروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ کام عام لوگ نہیں بلکہ پڑھے لکھے جاہل انجام دے رہے ہیں، جو ہمیں پھر اسی قرآنی حقیقت کی طرف لے جاتا ہے کہ بعض انسان جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود غریب اور مزدور طبقے کا خیال رکھیں اور اپنے آنگن سے نکالی گئی برف سڑکوں پر ڈالنے سے گریز کریں۔ یہی عملی رویہ ہمیں حقیقی معنوں میں اشرفُ المخلوقات ثابت کر سکتا ہے۔
مضمون نگار ایک معلم، موٹیویشنل اسپیکر اور ٹریڈ یونین لیڈر ہیں۔
رابطہ: lonenaziagul@gmail.com