مضامین
فرقہ وارانہ سیاست اور امت کا اجتماعی نقصان

یہ تحریر کسی ایک جماعت، مسلک یا فکر کے خلاف نہیں بلکہ ایک درد مند عوامی سوال اور اپیل ہے۔ یہ جماعت اسلامی، تبلیغی جماعت، بریلوی مکتب فکر اور اہل حدیث کے معزز علما اور خطیب حضرات کے سامنے رکھی جا رہی ہے۔
ہم سب ایک ہی کلمہ پڑھتے ہیں، ہمارا قرآن ایک ہے، ہمارے قائد حضرت محمد ﷺ ایک ہ ہے اور ہمارا قبلہ بھی ایک ہے۔ اس کے باوجود ہمارے منبر، ہماری تقاریر اور ہماری محفلیں اکثر ایک دوسرے کی نفی میں زیادہ اور امت کی تعمیر میں کم کیوں نظر آتی ہیں۔
مظلوم عوام آپ سب سے ایک مختصر مگر بڑا سوال پوچھ رہی ہے۔ کیا کبھی معاشرتی زوال، بے روزگاری، منشیات، ظلم، خانہ جنگی اور دیگر مسائل پر ہم آپ کو منبر سے بات کرتے سنیں گے۔ کیا کبھی یہ رہنمائی ملے گی کہ آج کے دور میں کون سے اختلافات کو منبر تک لایا جائے اور کون سے علمی مجالس تک محدود رکھا جائے۔
کیا ملت کے کارواں سے یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ پورے معاشرے کے لئے آج کے خطیب کا موضوع کیا ہونا چاہئے۔ یا ہر خطیب کو مکمل آزادی دے دی جائے کہ وہ صرف اپنے مسلکی انداز میں یہ بتاتا رہے کہ بدعتی کون ہے، گمراہ کون ہے اور صحیح یا غلط کون ہے۔
کیا اس سے کچھ بلند ہو کر یہ سوچا نہیں جا سکتا کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی راہ کیسے دکھائی جائے۔ نشے، خودکشی، مایوسی اور تشدد میں ڈوبتی قوم کو کیسے بچایا جائے۔ یتیموں، غریبوں، مظلوم بیواؤں اور بے سہارا والدین کا سہارا کون بنے۔ جو نوجوان کم عمری میں دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، ان کے پیچھے رہ جانے والے زخمی خاندانوں کو معاشرے میں توازن کیسے دیا جائے۔
اس غیر ضروری لڑائی میں ان والدین کا کیا بنے گا جن کے بچوں کو حقوق سکھانے کے بجائے صرف مسلکی رنگ دیا جا رہا ہے۔ جہاں حقوق العباد کے بجائے موقع پرستی عام ہوتی جا رہی ہے۔ یہ معاشرہ اس قدر ٹوٹ کیوں رہا ہے اور یہ جڑ کیسے سکتا ہے۔
یہ ایک تلخ مگر سچی حقیقت ہے کہ کیا یہ باہمی اختلافات ہمیں دنیا کے کسی بھی میدان میں کامیاب بنا رہے ہیں۔ کیا جنت میں ہم سے یہی پوچھا جائے گا کہ ہم نے کس مسلک کا دفاع کیا تھا۔ یا یہ سوال ہو گا کہ آنے والی نسل کے لئے ہم نے کیا کیا۔ بے روزگار نوجوانوں کے لئے کیا کوئی حکمت عملی تھی۔ بے سہارا ماں باپ کے لئے کیا کوئی سہارا بنا۔ یتیموں اور غریبوں کے زخموں پر کیا کوئی مرہم رکھا گیا۔
اگر ان اختلافات سے معاشرتی یا فکری انقلاب آ رہا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ اگر نہیں تو یہ شور، تلخی اور شدت کس کے فائدے کے لئے ہے۔
اختلاف ہونا برا نہیں۔ اختلاف رحمت ہو سکتا ہے۔ لیکن جب یہ نفرت، تکبر، مفاد، تذلیل اور حقارت میں بدل جائے تو یہی امت کو کھا جاتا ہے۔ مسئلہ اختلاف کا نہیں بلکہ اختلاف کے طریقے کا ہے۔
میں عوام کی طرف سے ہر جماعت کے ذمہ داروں اور رسول ﷺ کے وارثوں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتا ہوں کہ امت خصوصا کشمیر کے جلتے ہوئے مسائل کو ترجیح دیں۔ منبر کو اصلاح، شعور اور اتحاد کی جگہ بنائیں۔ اختلافات کو علم تک محدود رکھیں اور انہیں عوامی نفرت نہ بننے دیں۔
جب ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ہم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ ہم کس مسلک کے دفاع میں تھے۔ سوال یہ ہو گا کہ جب خودکشیاں عام ہو رہی تھیں تو ہم نے بطور مسلمان اور عالم کیا کیا۔ جب خاندان ٹوٹ رہے تھے تو ہم نے انہیں جوڑنے کے لئے کیا کوشش کی۔ جب نوجوان والدین کی بے حرمتی کر رہے تھے تو ہم نے کیا کردار ادا کیا۔ جب نکاح مشکل ہو رہا تھا تو ہم نے کیا راستہ دکھایا۔ کیا ہم نے نوجوانوں کو امید دی یا صرف مناظرے سکھائے۔
یہ تحریر کسی کے خلاف نہیں بلکہ امت اور انسانیت کے حق میں ایک فریاد ہے۔ اگر اب بھی ہم نہ سمجھے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ممکن ہے آنے والی نسلیں ہماری قبروں پر صرف تصویریں کھینچنے آئیں۔