ادب
غزل :..... ڈاکٹر ارشد عبداللّہ /عشیار

✍️:. ڈاکٹر ارشد عبداللّہ / عشیار
آج پھر ایسے ملے جیسے کہ ہم انجان ہیں
بچپنا باقی ہے اب بھی اب بھی ہم نادان ہیں
--------------------------------------------
مختصر ہے زندگی ضایع نہ اسکو کیجۓ
پل دو پل کی زندگی ہے ہم یہاں مہمان ہیں
--------------------------------------------
ہوں کٹھن گر راستے تاریکیاں ہوں زور پہ
ہم سفر ہو ساتھ تو رستے سبھی آسان ہیں
-------------------------------------------
تیرا جانا بھی قیامت ڈھا گیا ہے سر بہ سر
پہلے جو آباد تھے وہ شہر اب ویران ہیں
--------------------------------------------
مسکراہٹ سے تری کھِلتے رہے تھے جو چمن
بعد تیرے جانِ جاں اب وہ چمن سنسان ہیں
-----------------------------------------------
ہم نے حاضر سر کو رکھا اک اشارہ جب ہوا
کیا خبر تھی ہم ضرورت کا تری سامان ہیں