مضامین
بچوں پر موبائل فون کے مضر اثرات

رابطہ نمبر: 9797888975
بچپن فطرت کا سب سے نازک، سب سے پاکیزہ اور سب سے قیمتی مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ وہ عمر ہے جہاں آنکھیں سوال کرنا سیکھتی ہیں، ہاتھ کھیل کے ذریعے تربیت پاتے ہیں، اور دل رشتوں کے لمس سے مضبوط ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب شخصیت کی بنیاد خاموشی سے رکھ دی جاتی ہے۔ مگر عصرِ حاضر میں یہ معصوم اور قیمتی مرحلہ ایک ایسی چمکتی ہوئی اسکرین کے حصار میں آتا جا رہا ہے جس نے آہستہ آہستہ بچوں کی دنیا، ان کی سوچ، ان کے رویّے اور ان کی نفسیات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ موبائل فون، جو ابتدا میں سہولت، تعلیم اور رابطے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، آج بچوں کے لیے ایک خاموش مگر گہرا اثر ڈالنے والا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج کا بچہ ماں کی لوری سے پہلے موبائل کی آواز سے مانوس ہو جاتا ہے۔ رونے پر کھلونا نہیں، موبائل دیا جاتا ہے؛ چپ کرانے کے لیے کہانی نہیں، ویڈیو چلائی جاتی ہے؛ اور وقت گزارنے کے لیے کھیل کے میدان نہیں بلکہ اسکرین تھما دی جاتی ہے۔ بظاہر یہ سب ایک آسان حل معلوم ہوتا ہے، مگر یہی آسانی آگے چل کر بچوں کی ذہنی، جسمانی، تعلیمی اور اخلاقی نشوونما کے لیے ایک سنگین خطرہ بن جاتی ہے—ایسا خطرہ جو ابتدا میں دکھائی نہیں دیتا، مگر وقت کے ساتھ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔
سب سے پہلے اگر بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی حالت پر نظر ڈالی جائے تو موبائل فون کے اثرات نہایت واضح دکھائی دیتے ہیں۔ مسلسل اسکرین دیکھنے سے بچوں کی توجہ کا دورانیہ کم ہوتا جاتا ہے۔ وہ ایک جگہ بیٹھ کر کسی بات کو سننے، سمجھنے یا مکمل کرنے کے عادی نہیں رہتے۔ نتیجتاً پڑھائی میں عدم دلچسپی، بات نہ سننے کی عادت، اور جلد اکتاہٹ جیسے مسائل جنم لینے لگتے ہیں۔ ایسے بچے ہر وقت کسی نہ کسی تحرک کے محتاج ہوتے ہیں، اور خاموشی انہیں بے چین کرنے لگتی ہے۔
مزید یہ کہ موبائل پر موجود تیز رفتار ویڈیوز، کارٹونز اور گیمز بچوں کے دماغ کو غیر فطری طور پر متحرک رکھتے ہیں۔ اس مسلسل ذہنی شور کے باعث بچے حقیقت کی سادہ رفتار کو برداشت نہیں کر پاتے۔ عام زندگی، معمولی بات چیت اور سادہ سرگرمیاں انہیں بور محسوس ہونے لگتی ہیں، اور وہ بار بار اسی رنگین مگر مصنوعی دنیا میں لوٹ جانا چاہتے ہیں۔ یہی کیفیت آگے چل کر بے چینی، چڑچڑے پن اور جذباتی عدم توازن کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
جسمانی صحت کے حوالے سے بھی موبائل فون کے اثرات کسی سے پوشیدہ نہیں رہے۔ کم عمری میں آنکھوں کی کمزوری، سر درد، گردن اور کمر کے درد جیسی شکایات عام ہوتی جا رہی ہیں۔ نیند کا متاثر ہونا ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔ موبائل فون سے خارج ہونے والی روشنی بچوں کے قدرتی نیند کے نظام کو بگاڑ دیتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ رات کو دیر سے سوتے ہیں اور دن بھر سستی، تھکن اور چڑچڑے پن کا شکار رہتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ موبائل فون بچوں کو جسمانی سرگرمیوں سے بھی دور کر دیتا ہے۔ کھیل کود، دوڑ بھاگ اور کھلی فضا میں وقت گزارنا بچے کی فطری ضرورت ہے، مگر اسکرین سے جڑا بچہ آہستہ آہستہ ان سرگرمیوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس محرومی کا اثر نہ صرف جسمانی کمزوری بلکہ مجموعی نشوونما پر بھی پڑتا ہے۔
تعلیمی میدان میں موبائل فون ایک دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ اس پر تعلیمی مواد موجود ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر بچے موبائل کو تعلیم کے بجائے تفریح کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ گیمز، مختصر ویڈیوز اور غیر ضروری مشغلے ان کے قیمتی تعلیمی اوقات کو نگل جاتے ہیں۔ نتیجتاً یادداشت کمزور پڑنے لگتی ہے، مطالعے سے رغبت ختم ہوتی ہے، اور تعلیمی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔
اساتذہ کی یہ شکایت عام ہو چکی ہے کہ بچے سبق پر توجہ نہیں دیتے، بات مکمل نہیں سنتے اور مطالعے سے کتراتے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے رویّے کی ایک بڑی وجہ موبائل فون کا غیر ضروری اور غیر محدود استعمال ہے، جو بچوں کی یکسوئی اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہا ہے۔
اخلاقی اور سماجی پہلو سے یہ مسئلہ اور بھی حساس ہو جاتا ہے۔ بچوں کی تربیت میں خاندان اور معاشرہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے، مگر موبائل فون اس کردار کو خاموشی سے کمزور کر رہا ہے۔ غیر مناسب مواد، بے مقصد گفتگو اور تشدد آمیز مناظر بچوں کی نازک سوچ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وہ نادانستہ طور پر ایسے رویّے اپنانے لگتے ہیں جو نہ ان کی عمر کے مطابق ہوتے ہیں اور نہ تربیت کے اصولوں سے ہم آہنگ۔
سماجی سطح پر بھی موبائل فون بچوں کو تنہائی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ وہ دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے، کھیلنے یا ہنسنے کے بجائے اسکرین میں گم رہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ گفتگو کا سلیقہ، برداشت کا حوصلہ اور رشتوں کو سمجھنے کی صلاحیت کمزور پڑنے لگتی ہے۔
اس ساری صورتحال میں والدین کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ بچوں میں موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کی بڑی وجہ والدین کی سہولت پسندی بھی ہے۔ مصروف زندگی میں بچے کو وقت دینے کے بجائے موبائل تھما دینا آسان حل محسوس ہوتا ہے، مگر یہی آسانی مستقبل میں بڑے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ بچوں کو وقت دینا، ان سے بات کرنا، کہانیاں سنانا اور ان کے ساتھ کھیلنا محنت ضرور مانگتا ہے، مگر یہی محنت اصل تربیت ہے۔
موبائل فون کو مکمل طور پر منع کرنا شاید ممکن نہ ہو، مگر اس کے استعمال میں توازن پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ اسکرین ٹائم کی حد مقرر کرنا، بچوں کے دیکھے جانے والے مواد پر نظر رکھنا، اور متبادل سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اساتذہ، تعلیمی ادارے اور معاشرہ بھی اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اسکولوں میں بچوں کو موبائل کے نقصانات سے آگاہ کرنا، مطالعے اور کھیل کو فروغ دینا، اور عملی مثالوں کے ذریعے رہنمائی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا اور سماجی اداروں کو بھی اس حوالے سے سنجیدہ اور مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
آخرکار یہ سوال ہم سب سے ہے: کیا ہم اپنے بچوں کو ایک صحت مند، متوازن اور بااخلاق مستقبل دینا چاہتے ہیں، یا انہیں اسکرین کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا چاہتے ہیں؟ موبائل فون بذاتِ خود برائی نہیں، مگر اس کا غیر شعوری اور غیر محدود استعمال بچوں کے لیے نقصان دہ ضرور ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سہولت اور تربیت کے درمیان فرق کو سمجھیں۔
اختتامیہ کے طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ بچوں کا بچپن ایک امانت ہے۔ یہی وہ دور ہے جس پر پوری زندگی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ اگر اس بنیاد میں اسکرین کی زیادتی، تنہائی اور عدم توجہ شامل ہو گئی تو آنے والا وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں، موبائل فون کے استعمال پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کریں، اور بچوں کو وہ ماحول فراہم کریں جس میں وہ ذہنی، جسمانی اور اخلاقی طور پر صحت مند انسان بن سکیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بچوں کی درست تربیت کی توفیق عطا فرمائے، انہیں ہر طرح کے نقصان سے محفوظ رکھے، اور ہمارے گھروں کو علم، محبت اور توازن کا گہوارہ بنائے۔ آمین۔