مضامین
کشمیر منشیات کی زد میں — ایک نسل اندھیروں کے حوالے

📞 9797888975
کشمیر جو کبھی حسن، تہذیب، علم اور روحانیت کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج ایک ایسے درد سے گزر رہا ہے جس کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں لیکن نسلوں تک کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ گولیوں اور بارود کے بعد اب وادی کو جس سب سے بڑے خطرے نے اپنی لپیٹ میں لیا ہے، وہ منشیات کا زہر ہے دشمن کا طریقہ بدل چکا ہے، اب تباہی کا سامان باہر سے نہیں، نوجوانوں کے اندر سے پیدا کیا جا رہا ہے یہ جنگ میدان میں نہیں، گھر کے کمروں میں، دوستوں کی محفلوں میں، سوچوں کے اندھیروں میں لڑی جا رہی ہے اور سب سے بڑا نشانہ ہمارے نوجوان ہیں جو قوم کا سرمایہ اور مستقبل تھے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نشے کا پھیلاؤ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ ہے جب کسی قوم کے نوجوان اپنی صلاحیت، شعور اور ارادے کھو دیں تو قوم خود بخود کمزور ہوجاتی ہے۔ آج وادی کا سب سے قیمتی خزانہ یعنی نوجوان نسل نشے کی بھول بھلیوں میں دھکیل دی گئی ہے۔ ہر نوجوان غلطی سے راستہ نہیں کھوتا اکثر کے پیچھے دل کا درد، ذہنی الجھنیں، مقابلے کی دوڑ، معاشی دباؤ، گھریلو تناؤ، محبتوں کی ناکامی، بے مقصد زندگی اور دوستوں کے اثرات ہوتے ہیں۔ جب اندر کا خلا بڑھ جائے اور سہارا نہ ملے تو غلط ہاتھ کسی کو بھی تھام سکتے ہیں اور یہی لمحہ بربادی کی شروعات بنتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف متاثر شخص کا نہیں بلکہ پورے گھر کا ہوتا ہے۔ ماں کا چین، باپ کی نیند، بہن بھائیوں کی خوشیاں سب ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندان بدنامی کے خوف سے اپنے زخم کو چھپاتا رہتا ہے، مگر سچ یہی ہے کہ چھپانے سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا جڑ پکڑتا ہے۔ اس لیے منشیات کے خلاف آواز اٹھانا کمزوری نہیں، بہادری ہے.
اسلام کی نظر میں نشہ صرف نقصان دہ نہیں مطلق حرام ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا کہ نشہ شیطانی عمل ہے اور اس سے مکمل دور رہو۔ رسول اکرم ﷺ کا فرمان ہے ہر وہ چیز جو نشہ دے حرام ہے اسلام نہ صرف نشہ کرنے والے کو روکتا ہے بلکہ اس کو بیچنے، پھیلانے اور سپلائی کرنے والوں کو انسانیت کے قاتل قرار دیتا ہے۔ یہ حکم صرف مذہبی نہیں بلکہ اخلاقی، سماجی اور انسانی بنیاد پر بھی لازم ہے، کیونکہ نشہ انسان کو نہیں پورے معاشرے کو برباد کرتا ہے۔
اس بگاڑ کے مقابلے کے لیے صرف حکومت پر انحصار کرنا ناکافی ہے۔ یہ ذمہ داری مشترکہ ہے۔ علماء و خطباء کو منابر سے مسلسل آگاہی فراہم کرنی ہوگی، والدین کو اولاد کے ساتھ دوستی اور نگرانی کا رشتہ مضبوط بنانا ہوگا، اساتذہ کو صرف نصاب نہیں بلکہ کردار اور مقصدِ زندگی کی تعلیم دینی ہوگی، قانونی اداروں کو صرف گرفتاریاں نہیں بلکہ سپلائی چین جڑ سے کاٹنی ہوگی، اور میڈیا کو نشہ کرنے والے کو مجرم نہیں بلکہ بحالی کے محتاج انسان کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔ نشہ چھوڑنے والے نوجوانوں کو سزا نہیں سہارا چاہیے علاج، تعاون، رہنمائی اور محبت سے کئی نوجوان دوبارہ زندگی کی طرف لوٹے ہیں اور دوسروں کے لیے مثال بھی بنے ہیں۔ اس لیے جو پلٹنا چاہے، اسے دروازے نہیں بلکہ راستے دکھائے جائیں۔
آج اگر ہم نے کردار ادا کیا تو مستقبل محفوظ ہے۔ یہ جنگ نعروں، غصے یا الزام تراشی سے نہیں جیتی جائے گی بلکہ شعور، اتحاد، محبت، قانون، تربیت اور اسلامی اقدار سے جیتی جائے گی اگر ہم سب یکجا ہو گئے تو شکست نہیں فتح ہماری ہوگی
* نوجوان قوم کا سرمایہ اور امید ہیں اگر وہ بچ گئے تو قوم بچ جائے گی۔
*نشہ کرنے والا بیمار ہے مگر نشہ بیچنے والا قاتل ہے اور اسے قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔
*ہر محلے، ہر مسجد، ہر بستی اور ہر تعلیمی ادارے میں نشے کے خلاف شعور مہم وقت کی ضرورت ہے۔
- ماؤں کو اپنی خاموشی توڑنی ہوگی اولاد کے بدلتے رویے فوراً محسوس کیے جائیں۔
*جو نوجوان نشے سے نکلنا چاہے اسے طعنہ نہیں ہاتھ، ساتھ اور سہارا دیا جائے۔
اے اللہ! کشمیر کے نوجوانوں کے دلوں میں نور، ایمان، استقامت اور ہمت عطا فرما۔ انہیں برائی کے ہر راستے سے بچا اور خیر کے راستوں پر ثابت قدم رکھ۔ ہر گھر کی پریشانی دور فرما، ہر ماں کی دعا قبول کر اور ہر باپ کی تکلیف آسان فرما۔ کشمیر کی سرزمین کو منشیات اور برائی کے ہر فتنے سے ہمیشہ کے لیے پاک کر دے۔
آمین یا رب العالمین۔