Ad
مضامین

کشمیر میں برف باری کی کمی اور تیز ہوائیں۔ لمحۂ فکریہ

✍️: بٹ سحران


کشمیر، جسے دنیا جنتِ ارضی کے نام سے جانتی ہے، ہمیشہ سے اپنی خوبصورت سردیوں، بارشوں اور برف باری کے لیے مشہور رہا ہے۔ لیکن اس سال موسمِ سرما میں ایک غیر معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سردی اپنی جگہ موجود ہے، مگر وہ برف باری جس کا شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا، اب چلہ کلاں ختم ہونے کے ساتھ شروع ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تیز اور خطرناک ہواؤں نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ماضی میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی بارشوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا، پھر وادی برف کی سفید چادر اوڑھ لیتی تھی۔ مگر اس سال نہ مناسب بارش ہوئی اور نہ ہی چلہ کلاں کی شروعات سے برف باری۔ اس غیر معمولی موسمی صورتِ حال نے کسانوں، تاجروں اور عام لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا تھا تاہم اللہ کا فضل ہے کل سے برف باری کے شروع ہونے سے عوام نے راحت کی سانس لی ۔

حالیہ دنوں میں چلنے والی شدید ہواؤں نے کئی علاقوں میں نقصان پہنچایا۔ متعدد گھروں کی چھتیں اُڑ گئیں، درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور بجلی و مواصلاتی نظام متاثر ہوا۔ ان واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ انسان جتنی بھی ترقی کر لے، قدرت کے سامنے اب بھی بے بس ہے۔

یہ صورتِ حال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے۔ ماہرین اسے موسمی تبدیلی سے جوڑتے ہیں، جبکہ مذہبی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ ہمیں اپنے اعمال پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ قدرت کے ساتھ بے احتیاطی، درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی آلودگی بھی ان حالات کی بڑی وجوہات بن سکتی ہیں۔

بارش اور برف باری صرف موسم کا حصہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت اور رحمت ہے۔ جب یہ نعمتیں کم ہو جائیں تو انسان کو چاہیے کہ وہ شکر، دعا اور اصلاح کی طرف رجوع کرے۔ ساتھ ہی قدرتی وسائل کی حفاظت اور ماحول کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!