مضامین
ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری : ادب،تعلیم اور خدمت کی ایک ہمہ جہت شخصیت

بین قلم و عمل،ایمان و ضمیر ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری : ادب،تعلیم اور خدمت کی ایک ہمہ جہت شخصیت:
ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری جن کا اصل نام ریاض احمد علائی ہے 15 دسمبر 1988 کو وادیٔ کشمیر کے ایک نہایت ہی خوبصورت اور پُرسکون گاؤں واری پورہ پائین تحصیل کریری ضلع بارہمولہ میں پیدا ہوئے۔وہ ایک ممتاز استاد،شاعر،ادیب،کالم نگار،صحافی،فنکار اور سماجی کارکن ہیں جن کی ہمہ جہت خدمات نے کشمیر کے ادبی،تعلیمی اور سماجی منظرنامے پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔اپنی جائے پیدائش کے ثقافتی ماحول میں پرورش پانے والے ڈاکٹر ریاض ربانی اردو اور کشمیری زبانوں میں اپنی تحریروں کے ذریعے کشمیری تہذیب،اجتماعی دکھ،امید،استقامت اور روحانی گہرائی کی ایک حساس اور باشعور آواز بن کر ابھرے۔
روایات اور ثقافتی شعور سے بھرپور ماحول میں پرورش پانے کے باعث انہیں بچپن ہی سے ادب اور سماجی سرگرمیوں کی طرف فطری رجحان حاصل ہوا۔ان کا تعلیمی سفر فکری سنجیدگی اور علم سے وابستگی کا عکاس ہے۔وہ اپنے گاؤں کے پہلے گریجویٹ اور سرکاری ملازم ہیں۔انہوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج بارہمولہ سے صحافت یعنی ماس کمیونیکیشن اور ویڈیو پروڈکشن میں گریجویشن،یونیورسٹی آف کشمیر سے بی ایڈ،جبکہ پولیٹیکل سائنس،اردو اور جرنلزم وغیرہ جیسے کئی مضامین میں امتیازی پوزیشنوں کے ساتھ ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔وہ پولیٹیکل سائنس میں تحقیقی کام سے بھی وابستہ رہے۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے NCC کا باوقار ’C‘ سرٹیفکیٹ نمایاں کامیابی کے ساتھ حاصل کیا جو ان کے نظم و ضبط،قیادت اور استقامت کا ثبوت ہے۔
2010 میں ایسے وقت میں جب ان کے گاؤں میں شرحِ خواندگی نہ ہونے کے برابر تھی تو ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری بطور استاد مقرر ہوگئے۔انہوں نے گھر گھر جا کر لوگوں کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا اور سماج کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے واری پورہ پائین میں تعلیمی انقلاب برپا کیا جس کے نتیجے میں شرحِ خواندگی 85 فیصد تک پہنچ گئی۔یہ کامیابی خطے میں نچلی سطح پر تعلیمی تبدیلی کی ایک درخشاں مثال ہے۔
ان کی سماجی خدمات تک محدود نہیں رہیں۔کووڈ-19 وبا کے دوران انہوں نے 21 دیہاتوں میں تقریباً 450 سے زائد خاندانوں تک ذاتی طور پر رسائی حاصل کی اور ضروری امداد و جذباتی تعاون فراہم کیا۔ان کی انسان دوست سرگرمیوں میں یتیم لڑکیوں کی شادیوں کی کفالت،بیواؤں کی مدد،اپنے گاؤں میں مسجد اور درسگاہ کی تعمیر میں خاص تعاون،تعلیمی و ادبی سیمیناروں کا انعقاد اور تعلیم کی اہمیت پر آگاہی مہمات شامل ہیں۔بطور شاعر ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری کی آواز گہرائی،تفکر اور فلسفیانہ حساسیت سے عبارت ہے۔ان کی شاعری میں یاس و امید، وہم و حقیقت اور خاموشی و باطنی قوت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ علامتی شدت کے ساتھ لکھتے ہیں۔
تم نے جہاں سے عکس اٹھائے تھے برف کے
ہم نے وہیں سے دھوپ کا منظر اٹھا لیا
ان کے اشعار اخلاقی زوال اور اندرونی تنہائی کو نہایت مؤثر تصویروں میں پیش کرتے ہیں۔
"اس کمرے میں دھول جمی ہے چہروں پر
اس کمرے میں تنہا ہوگا آئینہ"
روحانی جستجو اور صوفیانہ شعور ان کی شاعری کا اہم جز ہیں۔
"منسوب ہے اسی سے تیرے دل کا اعتقاد
درویش آستان سے آگے کی بات کر"
انسانی کمزوریوں کا بے باک اعتراف ان کی شاعری کو سچائی اور انفرادیت بخشتا ہے۔
"فرشتوں سے نہیں اچھا مگر اتنی حقیقت ہے
میں پہلے سے بشر ہی تھا،سدھر جاتا تو اچھا تھا"
نعتیہ شاعری ان کے ادبی سفر میں ایک خاص مقام رکھتی ہے جو باطنی تبدیلی،انکساری اور روحانی مٹھاس کی عکاس ہے۔
"قطرے کو تیرے عشق نے دریا بنا دیا
مجھ کو میرے نصیب نے کیا کیا بنا دیا
تلخی میرے مزاج میں موجود تھی ریاض
میری زباں کو نعت نے میٹھا بنا دیا"
کشمیری شاعری میں بھی ان کی آواز تصوف،دانائی اور ثقافتی وابستگی سے لبریز ہے۔
"یہ خصلتن اکھ فقیر درویش
أمس چھ بدلے مقام درپیش
أمس چھ مولوم بقا تہ فأنی
سدر چھ حضرت ریاض ربانی"
اسی طرح کشمیری اشعار میں علامت اور جذباتی گہرائی نمایاں ہے۔
"دلک نقشا بنأون شیشہ خانس پیٹھ گندن ہیوت نس
پتھر لوین تہ کری نس آنتھہ روستے پھلی بہ کیا ونہ ہس"
ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری کشمیری زبان کے شعری مجموعے ”واوس اتھہ روٹ“ کے مصنف ہیں جو فکری بلوغت اور ثقافتی شعور کا آئینہ دار ہے۔وہ The English Booster کے مدیر بھی ہیں جس کا مقصد طلبہ میں انگریزی زبان اور ادبی آگاہی کو فروغ دینا ہے۔کشمیری ادبی ورثے کے تحفظ اور اردو زبان کے فروغ کے لیے انہوں نے 'ہم سخن کلچرل اینڈ ویلفیئر آرگنائزیشن کشمیر جیسی معروف ادبی و ثقافتی انجمن کی بنیاد رکھی۔ان کی قیادت میں یہ ادارہ شاعروں،ادیبوں اور فنکاروں بالخصوص نئے اور نظرانداز شدہ تخلیق کاروں کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے۔انہوں نے تخلیقی ادب کے ساتھ ساتھ متعدد ممتاز شخصیات پر تحقیقی مضامین،خاکے اور ادبی پروفائلز بھی تحریر کیے ہیں جن میں حضرت قدوس میر کریریؒ،رنجور تلگامی،نذیر حسین گوہر،شاد دردپوری،نذیر احمد لون،ڈاکٹر شاہدہ شبنم،منتظر مومن وانی،ذیشان پرویز،ڈاکٹر طارق شیرا اور دیگر کئی نامور و ابھرتی ہوئی شخصیات شامل ہیں۔ان تحریروں کے ذریعے انہوں نے کشمیر اور اس سے باہر کے فکری و ثقافتی سرمایے کو محفوظ کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اساتذہ کے حقوق اور فلاح کے میدان میں وہ جموں و کشمیر ٹیچرز فورم کے ڈسٹرکٹ چیف آرگنائزر کی حیثیت سے سرگرم عمل ہیں۔اس منصب پر رہتے ہوئے وہ بالخصوص خاموش اور محروم اساتذہ کی آواز بنے ہوئے ہیں اور تعلیم کے نظام میں انصاف،شفافیت اور وقار کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ان کی ادبی خدمات میں دینی تحریریں اور نعتیہ کلام بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے کریری کے عظیم فارسی شاعر و عالم حضرت قدوس میر کریریؒ کے ادبی ورثے کو زندہ کرنے اور محفوظ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
صحافت کے میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔انہوں نے مختلف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اداروں کے ساتھ کام کیا،ریڈیو کشمیر سرینگر سے بطور اناؤنسر وابستہ رہے اور تین برس تک یوواوانی سروس میں مشہور کشمیری پروگرام ”توہنز پسند“ کی میزبانی کی جو عوامی خطوط پر مبنی تھا۔وہ جموں و کشمیر سمیت ملک کے مختلف حصوں کیرالا،پنجاب،ہریانہ اور دہلی میں سینکڑوں ادبی،تعلیمی اور مذہبی پروگراموں میں شرکت کر چکے ہیں۔2024 میں ہریانہ اکیڈمی آف آرٹ اینڈ کلچر کی سات روزہ کانفرنس میں کشمیر ی زبان کی نمائندگی ان کے ادبی سفر کا ایک نمایاں سنگ میل ہے۔تعلیم،ادب اور سماجی خدمت کے اعتراف میں انہیں ورلڈ کلچر اینڈ انوائرمنٹ پروٹیکشن کمیشن (WCEPC) نئی دہلی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا گیا جو ان کی ہمہ جہت خدمات کا قومی اعتراف ہے۔
انہیں سرکاری،ادبی اور سماجی اداروں کی جانب سے متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے اور ان کی شخصیت و خدمات کو ڈی ڈی کاشیر،ریڈیو ایف ایم،شیڈوز آف کشمیر اور دیگر پلیٹ فارمز پر نمایاں طور پر پیش کیا گیا ہے۔
عوامی مصروفیات کے باوجود وہ ایک مخلص مربی کی حیثیت سے سینکڑوں اساتذہ،نوجوان شعرا اور طلبہ کی رہنمائی کر چکے ہیں جن میں سے کئی نے اعلیٰ تعلیم اور نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
تعلیم،ثقافتی اقدار اور سماجی انصاف کے علمبردار کے طور پر ڈاکٹر ریاض ربانی کشمیری آج بھی محروم اور بے آواز طبقات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وہ محض شاعر یا ماہرِ تعلیم نہیں بلکہ ایک بصیرت افروز سماجی مصلح ہیں جن کا قلم اور عمل کشمیر کی فکری و ثقافتی تشکیل میں مسلسل کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کی متوقع اردو کتاب جلد منظرِ عام پر آنے والی ہے جو ان کے ادبی سفر میں ایک اور اہم اضافہ ہوگی۔ان کی شخصیت اور خدمات پر ابھی بہت کچھ لکھا جانا باقی ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و درازیٔ عمر عطا فرمائے تاکہ وہ اپنے قلم،فکر اور خدمت کے ذریعے معاشرے کو یونہی منور کرتے رہیں۔