Ad
مضامین

ندی نالوں میں پھینکی گئی گندگی — ہم خود اپنی صحت کے قاتل

✍️:. آصف حسین کشمیری


موبائل: 9797888975

کشمیرجسے قدرت نے شفاف پانی، پاکیزہ ہوا، سرسبز و شاداب وادیوں اور فطری حسن کی بے مثال نعمتوں سے نوازا تھا—آج ہماری اپنی بے احتیاطی، غفلت اور اجتماعی بے حسی کے باعث خاموشی سے ایک سنگین بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ ندی نالے جو کبھی زندگی کی روانی، صحت کی ضمانت اور فطرت کی پاکیزگی کی علامت سمجھے جاتے تھے، آج بدقسمتی سے تعفن، آلودگی اور غلاظت کے بہتے ہوئے راستے بن چکے ہیں۔ اس المیے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس تباہی کا سبب کوئی بیرونی طاقت نہیں، بلکہ ہم خود ہیں—اپنی روزمرہ عادتوں، لاپروائی اور ذمہ داری سے فرار کے ذریعے۔

کشمیر کی شناخت صدیوں تک اس کے صاف پانی، ٹھنڈے چشموں اور بہتے ندی نالوں سے جڑی رہی ہے۔ بزرگوں کے ہاں پانی محض ایک ضرورت نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھا جاتا تھا۔ اسی احساسِ امانت کے تحت گھریلو کچرا، جانوروں کی نجاست اور فاضل اشیاء کو پانی سے دور رکھا جاتا تھا۔ پانی کو آلودہ کرنا نہ صرف معیوب بلکہ سماجی جرم تصور کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ماحول صاف، بیماریاں کم اور زندگی میں فطری توازن اور سکون نمایاں تھا۔ آج حالات اس کے برعکس ہیں۔ گاؤں ہوں یا شہر، گلیاں ہوں یا بازار—ہر طرف گندگی کے ڈھیر، بند نالیاں اور بدبو پھیلاتا ہوا گندہ پانی ہماری اجتماعی بے حسی کی گواہی دے رہا ہے۔ گھروں سے نکلنے والی نجاست، دکانوں کا کوڑا، ہوٹلوں اور بازاروں کا فضلہ بلا روک ٹوک ندی نالوں میں انڈیل دیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہی پانی ہماری فصلوں کو سیراب کرتا ہے، یہی فضا ہمارے بچوں کے پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے، اور یہی ماحول ہماری آنے والی نسلوں کی صحت، بقا اور مستقبل کا تعین کرتا ہے۔

ندی نالوں میں پھینکی جانے والی گندگی صرف پانی کو آلودہ نہیں کرتی بلکہ پورے معاشرے کو بتدریج بیماریوں کے شکنجے میں جکڑ لیتی ہے۔ ہیضہ، یرقان، جلدی امراض، سانس کی بیماریاں اور مختلف وبائیں اسی اجتماعی غفلت کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ ہم شکایتیں تو بہت کرتے ہیں—ہسپتالوں کی بھیڑ، مہنگا علاج اور بڑھتی بیماریاں—مگر یہ اعتراف کرنے سے کتراتے ہیں کہ ان بیماریوں کی بنیاد ہم خود اپنے ہاتھوں سے رکھ رہے ہیں۔

یہ مسئلہ محض بلدیاتی نظام یا صفائی کے فقدان تک محدود نہیں، بلکہ ایک گہرا اخلاقی، سماجی اور دینی مسئلہ ہے۔ اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو صدقہ فرمایا اور بہتے پانی کو آلودہ کرنے سے سختی سے منع کیا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم نے دین کو عبادات تک محدود کر دیا ہے اور اس کی سماجی و عملی تعلیمات کو نظرانداز کر دیا ہے۔ مسجدیں صاف ستھری ہیں مگر ان کے آس پاس بہنے والی نالیاں گندگی سے بھری ہوئی ہیں—یہی ہمارا عملی تضاد ہے، جو ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی اور سماجی ادارے اس مسئلے پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے فعال کردار ادا کریں۔ مساجد کی کمیٹیوں کو چاہیے کہ وہ صرف انتظامی معاملات تک محدود نہ رہیں بلکہ صفائی، طہارت اور ماحولیاتی تحفظ جیسے بنیادی سماجی مسائل کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ جمعہ کے خطبات، درسِ قرآن اور دینی مجالس میں یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ گندگی سے بچنا محض سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی فریضہ بھی ہے۔

پڑھے لکھے نوجوان، جو کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، اگر اس محاذ پر آگے آئیں تو بڑی اور دیرپا تبدیلی ممکن ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی بستیوں اور محلوں میں گندگی کے خلاف منظم بیداری مہم چلائیں، لوگوں کو سمجھائیں اور خود عملی مثال بنیں۔اسی طرح اسکولوں کے اساتذہ پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ صفائی، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور دیں، تاکہ آنے والی نسلیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔

اگر مساجد کی کمیٹیاں، باشعور نوجوان اور تعلیمی ادارے مل کر ندی نالوں کو آلودہ کرنے کے خلاف مستقل اور منظم کوششیں کریں، صفائی کے عملی پروگرام ترتیب دیں اور عوامی سطح پر شعور بیدار کریں تو یہ ناسور آہستہ آہستہ ختم ہو سکتا ہے۔ صفائی اسی وقت ممکن ہے جب یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہ رہے بلکہ ایک اجتماعی تحریک بن جائے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم صفائی کی ذمہ داری ہمیشہ کسی اور پر ڈال دیتے ہیں—کبھی بلدیہ، کبھی پنچایت اور کبھی حکومت پر۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک فرد خود ذمہ داری قبول نہیں کرے گا، کوئی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اگر ہر شخص اپنے گھر، اپنی گلی اور اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف رکھنے کا عزم کر لے تو نصف مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔

صاف پانی اور صحت مند ماحول کوئی عیش نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق ہے۔ اگر ہم نے آج بھی آنکھیں بند رکھیں اور اسی روش پر چلتے رہے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ہم انہیں ایک حسین وادی نہیں بلکہ بیماریوں اور آلودگی کا بوجھ ورثے میں دے کر جائیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے یہ سوال کریں: کیا ہم واقعی ندی نالوں میں گندگی پھینک کر خود اپنی صحت کے قاتل بننا چاہتے ہیں؟ یا پھر ہم اس وادی کو دوبارہ پاکیزگی، صحت اور زندگی کی علامت بنانا چاہتے ہیں؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے—اور وقت تیزی سے نکلتا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے، سنبھلنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!