مسلم دنیا
ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ: فقہ، تاریخ اور حدیث کے محققِ اعظم

معاصر دنیا میں اسلامی فقہ، حدیث اور تاریخ کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے ممتاز عالمِ دین، محقق اور بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنف ڈاکٹر محمد حمید اللہ ہیں۔ آپ کی پیدائش مملکتِ آصفیہ کے دارالخلافہ حیدرآباد میں 19 فروری 1908ء کو نہایت ہی علم دوست، روحانیت اور تصوف سے وابستہ ایک اعلیٰ خاندان میں ہوئی۔ آپ کے والد محترم کا نام مفتی ابو محمد خلیل تھا جو حیدرآباد کے نامور عالم اور ادیب گزرے ہیں۔ پردادا محمد غوث شرف الملک تھے جو اسلام اور عربی علوم کے زبردست ماہر اور اردو، عربی اور فارسی زبانوں میں 30 کتابوں کے مصنف گزرے ہیں، جبکہ نانا قاضی محمد صبغت اللہ تھے جو اپنے وقت کے بڑے محقق، فقیہ اور مدراس کے چیف جسٹس رہے ہیں۔ والد اور والدہ دونوں طرف کے خاندانوں میں علم کے موتی پروسنے والے اصحاب گزرے ہیں۔
مفتی ابو محمد خلیل کے آٹھ بچوں میں ڈاکٹر حمید اللہ سب سے چھوٹے تھے۔ ہو نہار حمید اللہ کی ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہی ہوئی اور تعلیم کا نظام روایتی اور دینی تھا، کیونکہ آپ کا خاندان روحانیت اور تصوف سے معطر تھا اور جدید علوم کا اکتساب ابھی اس خاندان میں قابلِ قبول نہیں تھا۔ گھر سے روایتی دینی تعلیم و تربیت پانے کے بعد حمید اللہ نے حیدرآباد کے "جامعہ نظامیہ" میں داخلہ لیا اور 1924ء میں مولوی کامل کا امتحان پاس کیا۔ چونکہ ان کی فطرت میں نئی نئی زبانیں سیکھنے کا جوہر انتہائی حد تک موجود تھا، لہٰذا والد محترم کو بتائے بغیر آپ نے میٹرک میں داخلہ لیا اور امتیازی پوزیشن حاصل کی۔ یہ نتائج اخبار میں چھپ گئے اور ان کے والد محترم کو اخبار کی وساطت سے 16 سالہ حمید اللہ کی انگریزدانی کا پتہ چلا۔ برا منائے بغیر مفتی صاحب نے نورِ عین کی حوصلہ افزائی کی اور جدید علوم کے حوالے سے اپنے گھر کی جو روایت تھی اس سے رجوع کیا۔
1924ء میں محمد حمید اللہ نے برصغیر کی واحد اردو ذریعۂ تعلیم والی یونیورسٹی "جامعہ عثمانیہ" میں داخلہ لیا۔ یہاں سے آپ نے بی اے کیا، پھر اسلامیات میں ماسٹرز اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ آپ کی امتیازی حیثیت کا ادراک کرتے ہوئے جامعہ عثمانیہ نے نوجوان محمد حمید اللہ کو ملک سے باہر بین الاقوامی اسلامی قوانین میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے اسکالرشپ دے دی۔ موقع پاکر آپ نے 1932ء میں جرمنی کی بون یونیورسٹی سے (ڈی فل) ڈاکٹر آف فلاسفی کی ڈگری پائی۔ بعد ازاں آپ اسی یونیورسٹی میں اردو اور عربی کے لیکچرار تعینات ہوئے۔ جرمنی سے آپ پیرس کی "سوربون" یونیورسٹی میں مزید تحقیق کے لیے چلے گئے اور صرف 11 ماہ کی مدت میں (ڈی لٹ) ڈاکٹر آف لٹریچر کی ڈگری حاصل کی۔ تحقیق کے دوران ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے بہت سے مسلم اور یورپی ممالک کے سفر کیے۔ 1935ء میں آپ واپس وطن لوٹے اور مادرِ علمی جامعہ عثمانیہ میں اسلامی فقہ اور بین الاقوامی اسلامی قانون کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ جامعہ عثمانیہ میں آپ نے سکوتِ حیدرآباد تک تدریسی فرائض انجام دیے۔ 1948ء میں جب مملکتِ آصفیہ حیدرآباد کا انضمام ملک کے ساتھ ہوا اور جامعہ عثمانیہ میں شرپسندوں نے آگ لگائی تو نوجوان محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے دل پر برا اثر پڑا اور آپ نے حیدرآباد چھوڑ کر پیرس (فرانس) کا رخ کیا۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے وطن چھوڑنے کے بعد کسی بھی ملک کی شہریت اختیار نہیں کی بلکہ پناہ گزین کے طور پر پیرس میں ٹریول ڈاکومنٹس پر 1996ء تک رہے۔ پیرس منتقلی کے بعد ڈاکٹر صاحب نے یورپ اور دنیا کی بہت سی جامعات میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔ آپ پیرس کے نیشنل سائنٹیفک ریسرچ سینٹر سے وابستہ ہوئے اور 1978ء تک یہاں خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران ڈاکٹر صاحب نے دنیا بھر میں مختلف کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کی اور یونیورسٹیوں میں لیکچر دیے۔ 1996ء میں آپ بیمار پڑے اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ منتقل ہوئے جہاں 17 دسمبر 2002ء کو آپ نے انتقال کیا۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کو زبانوں کی انسائیکلوپیڈیا کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا، کیونکہ آپ کو دو درجن کے قریب زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ آپ نے دنیا کی سات بڑی زبانوں میں ایک ہزار سے زائد مقالات اور مضامین لکھے۔ اس کے علاوہ دو درجن سے زیادہ کتابیں تحریر کیں جو بیشتر اردو، انگریزی، فرانسیسی اور عربی زبانوں میں ہیں۔ اردو آپ کی مادری زبان تھی جبکہ عربی، فارسی، انگریزی، جرمن، ترکی، اطالوی اور روسی جیسی زبانوں پر بھی عبور اور تصنیفی صلاحیت رکھتے تھے۔ پچاسی سال کی عمر میں آپ نے تھائی زبان سیکھی۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا سب سے مشہور کارنامہ فرانسیسی زبان میں قرآنِ شریف کا ترجمہ اور تفسیر ہے۔ آپ پہلے مسلمان مترجم ہیں جنہوں نے فرانسیسی زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ 1959ء میں پہلی بار پیرس سے شائع ہوا اور آپ کا ترجمہ کسی بھی یورپی زبان میں قرآنِ مجید کا سب سے زیادہ چھپنے والا ترجمہ ہے۔ اس کے 30 سے زائد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور آخری ایڈیشن کے 20 لاکھ نسخے فروخت ہوئے۔ مارچ 1980ء میں آپ نے پاکستان میں بہاولپور اسلامی یونیورسٹی میں 12 خطابات دیے جن کے موضوعات میں اسلام کی ابتدائی تاریخ، قرآن و حدیث اور فقہ کی تدوین و تاریخ، بین الملکی اسلامی قانون اور غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات شامل تھے۔ یہ تمام خطابات اردو زبان میں دیے گئے تھے جن کو بعد میں "خطباتِ بہاولپور" کے نام سے شائع کیا گیا۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ Emergence of Islam کے نام سے کیا گیا۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ عصرِ حاضر کی نابغۂ روزگار شخصیت تھے جنہوں نے نام و نمود چھوڑ کر یورپ میں اسلامی تصنیف و تالیف کا کام خاموشی سے انجام دیا۔ ہر کام میں اخلاص کا عنصر پایا جاتا تھا۔ عالمِ اسلام کے سب سے بڑے اعزاز "شاہ فیصل ایوارڈ" کو لینے سے آپ نے انکار کیا۔ 1987ء میں پاکستان نے ملک کا سب سے اعلیٰ ترین شہری اعزاز "ہلالِ امتیاز" آپ کو دیا، مگر اس درویش صفت محقق نے اعزاز کی خطیر رقم "ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد" کو عطیہ کی۔
تاریخِ حدیث کے حوالے سے ڈاکٹر محمد حمید اللہ کا سب سے اہم کام "صحیفہ ہمام بن منبہ" کی اشاعت ہے۔ اسے برلن کی ایک لائبریری سے حاصل کر کے مخطوطے کی تحقیق کے بعد 1955ء میں حیدرآباد (ہند) سے شائع کیا۔ آپ نے "عہدِ نبوی میں نظامِ حکمرانی"، "عہدِ نبوی کے میدانِ جنگ"، "سیاسی وثیقہ جات" اور امام ابو حنیفہ کی "تدوینِ قانونِ اسلامی اور اسلامی قانون کا ارتقا" جیسی اہم کتابیں تحریر کیں۔ جب آپ تحقیق و تدریس کا کام انجام دے رہے تھے، اس وقت عالمی سطح پر اسلام کی ترجمانی کرنے والے محققین کی تعداد زیادہ نہیں تھی، اور آپ نے قلبِ اسلام میں اوراد و وظائف میں عمر گزارنے کے بجائے یورپ میں اسلامی تصنیف و تالیف اور تحقیق میں اپنی عمر سات دہائیوں تک صرف کی۔
اللہ آپ کی حسنات کو قبول فرمائے اور مسلم امہ کو آپ کی تحقیق و تصنیف کے ثمرات سمیٹنے کی توفیق بخشے۔
عبدالرشید ٹھوکر حالسڈار ویریناگ 7006146071