Ad
مسلم دنیا

فلسطینیوں کی بھوک مری اور عالمی اسلام کے حکمرانوں کی بے حسی

✍️:. اعجاز جعفر  / سرینگر 


فلسطین کی سرزمین آج ایک نہ ختم ہونے والے ظلم، قحط، اور محرومی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ معصوم بچوں کی بھوک سے تڑپتی چیخیں، ماؤں کی آہیں، اور جوانوں کے بے کفن جنازے انسانیت کے منہ پر ایک طمانچہ ہیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے بجائے مسلم اُمہ کے حکمران بے حسی کی چادر اوڑھے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

آج فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف ایک قوم یا ایک سرزمین کا المیہ نہیں، بلکہ پوری اُمت مسلمہ کی غیرت و حمیت کا امتحان ہے۔ لیکن اس امتحان میں اکثر حکمران ناکام نظر آتے ہیں۔ ان کی پالیسیوں میں فلسطین کا نام شاید صرف رسمی بیانات تک محدود ہو گیا ہے۔ سفارتی بیانات، اقوامِ متحدہ میں رسمی احتجاج، اور چند مالی امداد کے اعلانات—یہ سب دکھاوا محسوس ہوتے ہیں جب غزہ کے گلی کوچوں میں بچے فاقوں سے مر رہے ہوں۔

اسلامی حکمرانوں کی بے حسی کے اسباب:

سیاسی مفادات: اکثر مسلم ممالک کی خارجہ پالیسی مغربی طاقتوں کے ساتھ مفادات پر مبنی ہے، جس میں فلسطین کا مسئلہ پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

اتحاد کا فقدان: اُمتِ مسلمہ میں اتفاق اور اتحاد کا شدید فقدان ہے، جو اجتماعی طور پر کسی بھی مظلوم قوم کی مدد سے قاصر ہے۔

 خود غرضی: حکمران اپنی کرسی بچانے، اقتدار قائم رکھنے اور داخلی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے خارجی مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں۔

عوامی دباؤ کی کمی: اگر مسلم عوام بیدار ہو جائیں، تو حکمرانوں کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ فلسطین کے حق میں عملی اقدامات کریں۔

حل کیا ہے؟

الله تعالٰی قرآن مجید میں فرماتے ہیں۔ 

ترجمہ :. 

آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچّوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبالیے گئے ہیں اور فریاد کررہے ہیں کہ خدا یا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے۔( سورہ النساء)

اشارہ ہے ان مظلوم بچوں، عورتوں اور مردوں کی طرف جو مکہ میں اور عرب کے دوسرے قبائل میں اسلام قبول کرچکے تھے مگر نہ ہجرت پر قادر تھے اور نہ اپنے آپ کو ظلم سے بچاسکتے تھے یہ غریب طرح طرح سے تختہ مشق ستم بنائے جارہے تھے اور دعائیں مانگتے تھے کہ کوئی انہیں اس ظلم سے بچائے۔ (تفہیم القرآن) 

اس آیت کی تفسیر میں سید قطب شہید اپنی تفسیر "فی ظلال قرآن" میں رقمطراز ہے۔ 

مجبور اور ضعیف مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کا آزاد کرانا تمہارے فرائض میں سے ہے۔ یہ لوگ جو قابل رحم حالت میں ہیں اور جن کی تصویر کشی قرآن کریم نہایت ہی اچر آفریں الفاظ میں کرتا ہے جس پر مسلمانوں کی حمیت جوش میں آتی ہے۔ مسلمانوں کی عزت نفس جوش میں آتی ہے اور انسانی رحم اور ہمدردی کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں ‘ اس لئے کہ یہ لوگ شدید سے شدید تر مظالم کے شکار ہو رہے ہیں۔ اس لئے بھی کہ ان پر یہ مظالم محض ان کے نظریات کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ ان کے دین کی وجہ سے انہیں مبتلائے مصیبت کیا جارہا ہے۔ اس کے سوا ان کا اور کوئی جرم نہیں ہے۔ غرض نظریات اور دین کی وجہ سے جو مصائب آتے ہیں وہ جان ومال کی وجہ سے آنے والے مصائب سے زیادہ شدید اور سخت ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ مصائب انسان پر انسانی خصوصیات کی وجہ سے آتے ہیں۔ اور انسان کی عزت نفس اس کی عزت اور اس کے حق ملکیت وغیرہ کے حوالے سے مصائب کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔

 ایسی عورت کی تصویر جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو ‘ ایسے بچوں کی مناظر جو نحیف وناتواں ہوں ‘ ایک ایسا منظر ہے جو جذبات کے اندر تلاطم پیدا کردیتا ہے۔ خصوصا وہ ضعیف لوگ اور بوڑھے جو اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے اور خصوصا ایسے حالات میں جب اس دفاع کا تعلق دین اور عقیدے سے ہو۔ یہ منظر ایسے وقت میں دکھایا جاتا ہے۔ جس میں جہاد کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں جہاد کے لئے نہ اٹھنا نہایت ہی مکروہ فعل ہوگا ‘ جبکہ مظلوموں کی یہ چیخ و پکار سنی جا رہی ہو۔ یہ ایک ایسا اسلوب بیان ہے جو دلوں کو پگھلا دیتا ہے اور انسانی شعور اور احساس کے اندر گہرائی تک اتر جاتا ہے۔

مسلم دنیا کو صرف دعاؤں سے نہیں، عملی اقدامات سے کام لینا ہوگا۔سفارتی دباؤ، معاشی بائیکاٹ، انسانی امداد کی فراہمی، اور میڈیا پر بھرپور مہم کے ذریعے فلسطینیوں کی آواز کو عالمی سطح پر بلند کرنا ضروری ہے۔

عوامی سطح پر بیداری پیدا کرنا ہوگی تاکہ حکمرانوں پر دباؤ بڑھے اور وہ اپنی روش بدلنے پر مجبور ہوں۔

یہ وقت ہے کہ ہم صرف افسوس نہ کریں بلکہ اپنے حصے کی آواز بنیں۔ کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!