سفر نامہ
وادئ ڈکسم (Daksum) کی سیر

پروفیسر محسن عثمانی ندوی "سفرنامہ امریکہ" میں ایک جگہ رقم طراز ہیں
"سکوت شام ہو، یا رقص شاخ گل فام ہو ، خاموشی شجر ہو، یا طراوت نسیم سحر ہو، نغمہ رود آب ہو،یا رنگینی گل شاداب ہو، آسمان پرستاروں کی بارات ہو، یا شب چادر ہم میں ماہ کامل کی درخشانی ہو، درختوں کی ڈالیوں پرنوا سنجان گلشن کی نغمہ سنجی ہو، یا برسات کی اندھیری رات میں جگنوؤں کی روشن قندیلیں ہوں ان سے ہم کلام ہونا ہر شخص کی بس کی بات نہیں ۔ انہیں دیکھنے اور سننے کے لیے فطرت نے ہر شخص کو آنکھیں نہیں دیں اور کان نہیں دیے۔ اگر انہیں دیکھ کر انسان لذت سرور سے مست و بے خود نہیں ہو جاتا ہے تو اس کا دیکھنا حقیقت میں دیکھنا نہیں ہے اور اگر نواسنجی بلبل سے اس کا سینہ کیف وطرب سے سرشار نہیں ہوتا ہے اور اس کے کان میں یہ حسین آواز میں شہد بن کر نہیں ٹپکتی ہیں تو اس کا سننا سننا نہیں ہے"
محسن عثمانی صاحب نے ہمارے جذبات اور احساسات کی خوب ترجمانی کی ہے۔ امرِ واقعہ ہے کہ تمدن کی بے محابا ترقی، دولت کی ریل پیل، سائنس اور ٹیکنالوجی کا انفنجار، عمارات و محلات کی تذئین و آرائش، ذرائع و وسائل کی بہتات، شہری زندگی کی گہما گہمی اور نجی، معاشرتی اور معاشی مصروفیات نے انسان کو فطرت اور قدرتی مناظر کے لگاؤ، اُنس اور وارفتگی و شیفتگی سے دور کردیا ہے۔ جب کہ یہ ایک مسلّم حقیقت ہے کہ دور دراز مقامات جہاں الله تعالیٰ کی نشانیاں بے غبار شکل میں جلوہ گر ہوتی ہیں وہاں کے بسکین فطرت کے قریب ہوتے ہیں چاہے تمدن کی پیدا کردہ آسائشوں اور سہولیات سے تہی دامن ہوں۔
اقبالؔ نے اس حقیقت کو اپنے شعر میں سمو دیا ہے
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مرد کہستانی
صحت افزا مقامات کی سیر کرنا نا چیز کا ہمیشہ سے پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ سال میں کئی بار ہم اپنی نجی یا دیگر مصروفیات سے وقت نکال کر دوست و احباب کے ہم راہ مناظرِ کائنات سے لطف اندوز ہونے کے لیے رختِ سفر باندھتے ہیں۔ اور جب یہ سفر رفقاءِ درس گاہ کے ساتھ ہو تو مسرت کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔
رفیق مکرم محمد یونس بٹ (چئیرمین درس گاہِ ارقمؓ) اس قبیل کے پروگرامات ترتیب دینے میں بڑے مشّاق ہیں۔ انہوں نے چار پانچ دن قبل اس حوالے سے لب کشائی کی تو چند ہی دنوں میں دیگر افراد نے پکنک جانے کی حامی بھر لی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے سیر و تفریح کے پروگرام کو حتمی شکل دی گئی اور 29 جون بروز اتوار کی تاریخ مقرر ہوئی۔
کشمیر میں اس وقت گرمی اپنے عروج پر ہے۔ سب لوگ سورج کی تمازت سے نڈھال ہیں۔ آسمان سے گویا آگ برس رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں مقرر وقت سے پہلے ہی گرمائی تعطیلات کر دی گئیں۔ 29 جون صبح اگرچہ آسمان پر ہلکے سے بادل نظر آرہے تھے مگر گرمی کا زور برقرار تھا۔
الغرض تقریباً 33 افراد پر مشتمل یہ کاروان صبح ساڈھے سات بجے ڈکسم کی اور محوِ سفر ہوا۔ ڈکسم جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد (انت ناگ)کا ایک مشہور تفریحی مقام ہے۔ اچھ بل، کوکر ناگ اور ڈکسم کچھ کلو میٹر کی دوری پر مگر ایک ہی سمت میں پڑتے ہیں۔ چناں چہ یہاں کا قصد کرنے والے لوگ اکثر ان تینوں جگہوں پر چند لمحات گزار کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ قومی شاہراہ سے جاتے ہوئے (سرینگر سے) ڈکسم تک تقریباً 80 کلو میٹر کا یہ فاصلہ سہولت سے طے ہوتا ہے۔
راقمِ سطور موبائل پر کچھ ضروری چیزیں دیکھنے اور لکھنے میں مشغول ہوگیا اور دریں اثناء قریباً 10 بجے ہماری گاڑی ڈکسم کے مرکزی بازار میں داخل ہوئی۔ وہاں ڈیوٹی پر مامور پولیس والے انت ناگ کے بغیر دیگر ضلعوں سے آئی ہوئی گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ ہمارے برادر یونس صاحب اور مختار صاحب نے ان کے ساتھ اس حوالے سے اصولی بات کی اور کچھ "رسوخ" استعمال کیا، الله کا فضل کہ ہمیں اپنے متعین مقام پر جانے کی اجازت مل گئی۔دو سال قبل بھی ہم درس گاہ کے ساتھ ڈکسم آئے تھے۔ ڈکسم کے کلیدی مقام پر رکنے کے برخلاف ہم تقریباً ۴ کلو میٹر آگے ایک جگہ پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ (یہاں سے سنتھن ٹاپ تقریبا 20 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔)اس جگہ لوگوں کی گہما گہمی بہت کم ہوتی ہے۔ ہمارے خاص مزاج اور درس گاہ کی مناسبت سے یہ جگہ بہت دل کش ہے۔ سڑک کی دائیں جانب نشیب کو اترتے ہوئے اس جگہ پر ایک طرف دیو قامت درخت آسمان کی سمت سر اٹھائے ہوئے کھڑے ہیں، دوسری طرف سبز مخملی پہاڑ، درمیان میں بیٹھنے اور کھیلنے کی وسیع جگہ اور نیچے کی طرف صاف و شفاف بہتا ہوا پانی کا چشمہ۔ بلا تشبیہ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُؕ۔ یہ مناظر گویا سرگوشی کررہے تھے کہ دنیا گرچہ دل لگانے کی جگہ نہیں اور زندگی اگرچہ چند روزہ ہے لیکن اسے سلیقہ سے گزارنا چاہیے، جو شخص جنت جیسی سلیقہ کی جگہ کا آرزو مند ہو اس کے ذمہ اسی حیات نا پائیدار میں اپنے شوق اور آرزومندی کا بارِ ثبوت بھی ہے جسے اسے پیش کرنا ہے اور وہ ثبوت ہر چیز میں ترتیب اور سلیقہ کا اظہار ہے۔
یہ سرور انگیز تفریح تھی۔ رفقاء نے بہت enjoy کیا۔ صاف پانی کے چشمے میں برادران نے ڈبکیاں بھی لگائیں۔ بلکہ سچی بات یہ ہے وہ پانی سے باہر ہی نہیں آنا چاہتے تھے۔ عرصہ بعد راقم نے بھی ٹھنڈے پانی سے اپنے جسم کو برودت پہنچائی۔ واقعتاً یہ آب نہیں بل کہ آب حیات ہے۔ قولِ صدق یہ ہے کہ میرے لیے اس پانی میں ڈبکیاں مارنا فرحت انگیز تجربہ ثابت ہوا۔ روح و جسم کو جیسے تسکین مل گئی۔ قدرت کی اس لامثال نعمت پر اگر ہمارا رواں رواں ہمہ وقت الله کی تسبیح و تحمید بجا لائے وہ بھی کم ہے۔
ہمارے ساتھ اکل و شرب کا وافر سامان موجود تھا لہٰذا تسکینِ کام و دہن کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اللہ کی بارگاہ میں سر بہ سجود بھی ہوئے۔ خدا وند متعال کی کاریگری و صناعی پر غور و خوض بھی ہوا۔
میں سوچ رہا تھا کہ کُہساروں سے چھوٹی چھوٹی ندیاں نشیب کی طرف اتر کر ایک بڑی ندی کو وجود دیتی ہیں جو کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر مختلف دینی گروہ اور جماعتیں تضامن و توافق کا شیوہ اپنائیں تو مضبوط اور موثر کارنامے انجام دے سکتی ہیں۔
ابو المجاہد زاہدؔ کا ہی ایک خوب صورت شعر ہے
ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے
اس خوب صورت جگہ پر البتہ دو چیزوں کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ ایک یہاں پر بیت الخلاء (واش روم) کی سہولت بالکل میسر نہیں دوسرا یہاں موبائل نیٹ ورک سرے سے موجود نہیں۔ یہاں آنے والے لوگ گھر والوں سے رابطہ کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ متعلقہ محکموں کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
بہ ہر طور قریباً ساڑھے چار بجے ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ کوکر ناگ پہنچے تو وہاں پر زبردست رش دیکھنے کو ملا۔ گاڑی کو اچھ بل پہنچنے میں معمول سے زیادہ وقت لگا۔ اچھ بل کی سڑک پر زبردست ٹریفک جیم تھا۔ جدھر نظر دوڑاتے گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملتیں۔ اس جگہ اتنا ٹریفک اژدھام میں نے پہلی مرتبہ مشاہدہ کیا۔ لوگوں کا ایک جم غفیر اچھ بل باغ میں اُمڈ آیا تھا۔ اُفتاں وخیزاں ہم اچھ بل باغ میں داخل ہونے میں کام یاب ہوئے۔ وہاں برادر مختار نے لذیذ لپٹن چائے بنائی جسے پی کر ذہن کو آسودگی حاصل ہوئی۔اس امر میں کوئی شک نہیں کہ درس گاہ سے جڑے تمام برادران کو خالق کائنات نے متنوع صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ انہی مختلف صلاحیتوں کے مجموعے سے ایک عمدہ ٹیم تشکیل پاتی ہے۔
بہ ہر کیف نماز مغرب ادا کرکے ہم وہاں سے فوراً نکل پڑے۔ گاڑی میں راقم اپنے عزیز برادر نثار بٹ سے ان لمحات کے بارے میں تبادلۂ خیال کرتا رہا۔ ہم آپس میں غور و تدبر کررہے تھے کہ زندگی کے اوقات سرعت سے گزر رہے ہیں اور پیچھے کھٹے میٹھے اور خوشی و غم کی یادگاریں رہ جاتی ہیں۔ اس گفت گو سے ایک سما بندھ گیا اور ہم برمحل چند نظمیں اور اشعار ترنم سے پڑھنے لگے۔
رات 10:30 بجے کے قریب گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی باب ڈیم فتح کدل کی حدود میں داخل ہوئی۔ اس طرح یہ یادگار تفریحی سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ البتہ یہ قلق ضرور رہا کہ استاد محترم نثار کتاب اور قریبی برادران محمد سلیم شاہ، عبد الواحد صوفی، سمیر احمد میر، ابرار احمد وغیرہ اس سفر میں کچھ معلوم و نامعلوم وجوہات کی بنا پر شامل نہ ہوئے۔