سفر نامہ
بنگال اور کشمیر: دو تہذیبوں کی ہم آہنگی.... قسط دوم

بنگال ڈایری قسط نمبر 2
بنگال اور کشمیر—دو الگ الگ خطے، دو متنوع ثقافتیں—مگر ان کے مزاج، ذوق، اور روایتوں میں ایک عجیب سی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، گویا دو جُدا نغمے ہوں، جو ایک ہی ساز پر بجتے ہیں۔ خوراک میں ان کا میل چاول سے ہوتا ہے—چاہے وہ مچھلی کے ساتھ ہو یا گوشت کے ساتھ۔ دونوں اقوام نرم خو، امن پسند اور جنگ و جدل سے کوسوں دور ہیں۔ تاہم، جہاں بنگالی روح نرمی، نغمگی اور لطافت میں ڈھلی ہوئی ہے، وہاں کشمیری مزاج آٹھ دہائیوں کی آزمائشوں اور مصائب سے کندن بنا ہے—فولاد کی طرح سخت، اور آتش کی مانند پُرجوش۔
کشمیر کی وادیوں میں ایک انوکھا سماجی رجحان پنپ رہا ہے—ہر سال درجنوں دلہنیں بنگال سے کشمیر لائی جاتی ہیں۔ بنگال میں قیام کے دوران میں نے اس روایت کی جڑوں کو کھنگالنے کی کوشش کی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ اکثر کشمیری مرد، جو یا تو جسمانی معذوری یا سماجی رکاوٹوں کے باعث مقامی شادی سے محروم رہتے ہیں، بنگال کے غریب مسلم علاقوں کا رُخ کرتے ہیں تاکہ وہاں سے رفاقتِ حیات تلاش کریں۔ معمولی رقم کے عوض غریب خاندان اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرتے ہیں، اس امید پر کہ نئی زندگی انہیں بہتر مستقبل عطا کرے گی۔ میں خود ایسے کئی کشمیری مردوں سے ملا ہوں، جو جہلم کے کنارے سے چل کر دامودر کے ساحلوں تک جا پہنچے۔ آج یہ بنگالی دلہنیں کشمیر کے ہر علاقے میں دیکھی جا سکتی ہیں، خصوصاً بارہ مولہ اور بڈگام میں۔
بنگال کا نام سنتے ہی ذہن میں مولانا ابوالکلام آزاد کا پر وقار سراپا ابھرتا ہے—وہ مجاہدِ آزادی اور مفسرِ قرآن، جن کے بچپن کی خوشبو کلکتہ کی گلیوں سے اُٹھتی ہے۔ ان کا کلکتہ سے عشق اُن کے خطوط میں جھلکتا ہے، خصوصاً "غبارِ خاطر" میں۔ حتیٰ کہ مرزا غالب بھی، جب مغلیہ سلطنت کا سورج غروب ہوا، پنشن کی بحالی کے لیے ریل میں سوار ہو کر کلکتہ پہنچے۔ وہاں انہوں نے فارسی شاعری کے ذریعے ادبی محفلوں کو جگمگایا، جیسا کہ "مطالعاتِ خطوطِ غالب" میں مالک رام نے بیان کیا ہے۔
بنگال کا ذکر اُس مایہ ناز مچھلی "ہِلسا" کے بغیر ادھورا ہے—جو مقامی طور پر "ایلیش" کہلاتی ہے۔ یہ ایک نایاب نعمت ہے، جو سمندر سے دریا کے دہانے تک انڈے دینے آتی ہے۔ نمکین اور میٹھے پانی کے امتزاج میں پرورش پانے والی یہ مچھلی ذائقے میں بے مثال ہوتی ہے۔ اس کی قیمت 600 سے 1500 روپے فی کلو تک جا پہنچتی ہے، اور یہ محض بنگلہ دیش اور مغربی بنگال میں ہی پائی جاتی ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کبھی یہ مچھلیاں خلیجِ بنگال سے گنگا و جمنا کے پانیوں تک سفر کرتی تھیں، بعض اوقات آگرہ تک پہنچ جاتی تھیں۔ مگر جب ہندوستان اور بنگلہ دیش کی سرحد پر "فراکہ بیراج" تعمیر ہوا، تو یہ قدرتی راہ منقطع ہو گئی۔ اب ہندوستان کو یہ مچھلی بنگلہ دیش سے درآمد کرنا پڑتی ہے۔ 2016 میں، جب درگا پوجا کے دوران ہِلسا کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، تو وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے خود بنگلہ دیش کی وزیر اعظم سے فراہمی بڑھانے کی اپیل کی۔ کہا جاتا ہے کہ بنگال میں اس مچھلی کی ایسی دیوانگی ہے کہ غریب گھرانے تہواروں پر زیور تک گروی رکھ دیتے ہیں، صرف اسے خریدنے کے لیے۔
بنگال کی معاشی مشکلات کا گہرا تعلق اس کے زوال پذیر جُوٹ کے صنعت سے ہے۔ جُوٹ، جو "پٹ سن" نامی مکئی جیسے پودے سے حاصل ہوتی ہے، کبھی دنیا بھر میں تھیلے اور رسیوں کی شکل میں برآمد کی جاتی تھی۔ مگر مصنوعی ریشے کی ایجاد نے کلکتہ کے کارخانوں کو ویران کر دیا، لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے۔ جُوٹ اُگانے کے لیے جو مخصوص آب و ہوا درکار ہوتی ہے، وہ صرف گنگا اور برہم پتر کے سنگم پر واقع "سندر بن" میں موجود ہے—وہی جنگلات جہاں ہندوستان کا عظیم قومی جانور، "رائل بنگال ٹائیگر" بستا ہے۔
بنگالی قوم کی سب سے دل کو چھو لینے والی خوبی اس کی سادگی، عاجزی، اور دنیاداری سے بے نیازی ہے۔ جب میں نے اپنے کئی بنگالی دوستوں سے پوچھا کہ اُن کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے، تو وہ مسکرا کر جواب دیتے: “ایک چھوٹا سا گھر، اور گھر کے سامنے ایک تالاب، جس میں تازہ مچھلیاں تیرتی ہوں۔” دیہی علاقوں میں ایسے ہزاروں تالاب موجود ہیں، جو بارش کے پانی سے لبالب بھرے ہوتے ہیں، اور جن میں مچھلیاں پالنا بنگالی ثقافت کا لازمی حصہ ہے۔ شاید بنگال ہی وہ واحد بھارتی ریاست ہے جہاں زیرِ زمین پانی سطح کے اتنے قریب ہے۔
زبان اور تہذیب سے ان کی محبت مثالی ہے۔ رابندر سنگیت کی مدھر تانیں کلکتہ کی گلیوں اور بازاروں میں ہر دم سنائی دیتی ہیں۔ بنگالی زبان کا مقام اس قدر بلند ہے کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش، دونوں کے قومی ترانے اسی زبان میں اور اسی شاعر کے قلم سے لکھے گئے—رابندر ناتھ ٹیگور۔
لیکن حالیہ برسوں میں ایک مخصوص سیاسی فکر نے بنگال کی اس ہم آہنگی کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو اس خطے کی شمولیتی روایت کو تقسیم اور غلبے میں بدلنا چاہتا ہے۔ تاہم، اب تک بنگال نے اس رخ سے مزاحمت کی ہے۔ وقت ہی بتائے گا کہ کیا ہاوڑہ پل، جو ہوگلی دریا پر ایستادہ ہے، بنگال کی علمی بلندی اور ثقافتی عظمت کا استعارہ بنا رہے گا—یا یہ مہذب تہذیب بھی فرقہ وارانہ سیاست کے طوفان میں تنکے کی مانند بہہ جائے گی۔
اے آب رود گنگا وہ دن ہے یاد تجھکو
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا
( اقبال)
Mob: 8492848411