Ad
سفر نامہ

مغربی بنگال کی ایک جھلک.... سفر نامہ بنگال

بنگال ڈایری قسط 1

✍️:. تنویرلاسلام


"ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی" — یہ کہاوت مغربی بنگال میں گزارے میرے چار سالہ قیام (2014 تا 2018) کے دوران بارہا سچ ثابت ہوئی۔ پہلی نظر میں بنگالی لوگ شمالی ہند کے افراد کی مانند دلکش یا خوش پوش نہیں لگتے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی تہذیب و تمدن، سادگی و شرافت اور علم و ادب سے محبت نے میرے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔

بنگالی قوم ایک پرامن، ایماندار اور سادہ لوح قوم ہے، جو اپنی زبان، ثقافت، اور روایات سے بےپناہ محبت کرتی ہے۔ ان کے دلوں میں اب بھی سوامی وویکانند، رابندر ناتھ ٹیگور، کیشب چندر سین، نذرالاسلام، ستیہ جیت رے اور جیوتی باسو جیسے عظیم مفکرین اور رہنماؤں کی تعلیمات زندہ ہیں۔ اندرونِ بنگال کے دیہات ہوں یا قصبے، ہر جگہ ایک لائبریری، کھیل کا میدان اور ایک سماجی کلب لازماً موجود ہوتا ہے — یہ قوم واقعی علم و فن کی قدردان ہے۔

فٹبال یہاں کا محبوب ترین کھیل ہے۔ اور درگا پوجا — بنگال کا سب سے بڑا تہوار — جسے بنگالی پورا سال شدت سے مناتے اور منظم کرتے ہیں،اس تہذیبی شوق کی زندہ مثال ہے۔اکتوبر میں منایا جانے والا یہ دس روزہ جشن ریاست میں تعطیلات کا پیغام لاتا ہے۔بنگالی، چاہے کتنا ہی غریب کیوں نہ ہو،سال بھر کی جمع پونجی کے ساتھ گھومنے نکلتا ہے، اور کشمیر اُن کی اولین ترجیح ہوتا ہے — یہی موسمِ بہار "بنگالی سیزن" کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

بنگالی ہندو گوشت خور ہوتا ہے اور تہواروں کے دوران خاص طور پر گوشت کا اہتمام کرتا ہے۔ مچھلی بنگالیوں کی محبوب ترین غذا ہے — ہندوستان میں سب سے زیادہ مچھلی بنگال میں ہی کھائی جاتی ہے۔ چاول ان کی خوراک کا مرکزی جزو ہے، بالکل کشمیریوں کی طرح وہ دونوں وقت چاول کھاتے ہیں اور شوربہ ڈال کر اسے مزید لذیذ بناتے ہیں۔ مچھلی کے بعد آلو کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے — گویا ہر ڈش میں آلو کی شمولیت لازم ہے۔

"مُڑی" — یعنی ابلا ہوا اور خشک کیا گیا چاول — بنگالیوں کے لیے ایک جزوِ لاینفک ہے۔ دنیا میں جہاں بھی بنگالی جائے، "مُڑی" اُس کے ساتھ ضرور جائے گا۔ اسے کچے سرسوں کے تیل، پیاز، ہری مرچ اور لیموں کے ساتھ ملا کر "جہال مُڑی" بنایا جاتا ہے — ایک عام مگر لاجواب ناشتہ۔

بنگالی زبان سادہ اور موسیقیت سے بھرپور ہے۔ کوئی بھی پڑھا لکھا شخص محض تین مہینے میں روانی سے بنگالی بول سکتا ہے۔ اس زبان میں پانی کو "جہال"، روپے کو "ٹکا" اور بیس کو "کُری" کہا جاتا ہے۔

دیوی درگا چونکہ ایک مونث ہے، اس لیے بنگالی گھروں میں خواتین کو خاص مقام حاصل ہے۔ بنگال میں شادی پسند کی کی جاتی ہے، لازماً رجسٹرڈ ہوتی ہے اور جہیز کا کوئی تصور نہیں — یہ سماجی اصلاحات بیسویں صدی کے مصلحین کی مرہونِ منت ہیں۔

بنگال میں مسلمانوں کی بھی خاصی تعداد آباد ہے۔ اگر شہری علاقوں کو چھوڑ دیا جائے تو دیہاتوں میں ہندو اور مسلمانوں میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بہت سے دیہی مسلمان توہم پرست ہیں، تاہم تبلیغی جماعت جیسی تنظیمیں دین کی تعلیم عام کرنے میں سرگرم ہیں۔

یہاں گائے کے گوشت پر کوئی پابندی نہیں ہے، اور ہر شہر و گاؤں میں دستیاب ہے۔ دیہی زندگی انتہائی سادہ ہے — دوپہر ایک بجے سے شام پانچ بجے تک تمام دکانیں بند رہتی ہیں اور لوگ آرام کرتے ہیں۔

کولکاتہ، جو کبھی برٹش انڈیا کا دارالحکومت تھا، آج بھی قرونِ وسطیٰ اور جدیدیت کا دلکش امتزاج ہے۔ کمیونسٹ حکومت کی تین دہائیوں پر محیط حکمرانی نے بنگال کو آج بھی ہندوستان کے سستے ترین علاقوں میں شامل رکھا ہے۔ آج بھی کلکتہ میں محض تین روپے میں اچھی چائے اور پندرہ روپے میں بھرپور کھانا دستیاب ہے۔

ہر گاؤں میں ایک وسیع میدان ہوتا ہے جہاں اتوار کے دن "ہارٹ" یعنی ہفتہ وار بازار لگتا ہے۔ یہاں کسان اور تاجر سبزیاں، پھل، گوشت، مچھلی اور دیگر ضروری اشیاء بیچتے ہیں۔

بنگالی قوم اتحاد، مساوات اور بھائی چارے کی عمدہ مثال ہے۔ ایک کروڑپتی بنگالی کسی مزدور کے ساتھ بیٹھ کر کھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔ اپنے عظیم شخصیات جیسے سُبھاش چندر بوس، متھن چکرورتی، جیوتی باسو، سورو گنگولی اور ممتا بنرجی پر انہیں بجا طور پر فخر ہے۔

مرکز میں فرقہ واریت پھیلانے والی قوتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود، مغربی بنگال کا فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ آج بھی برقرار ہے — اور یہی اس تہذیب کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

جاری............. جاری........... جاری................ 



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!