مضامین
پانچ سو میں پانچ سو..... ؟

رابطہ: 7006857283
کبھی کبھی اعداد و شمار اتنے خوبصورت ہو جاتے ہیں کہ ان کی خوبصورتی ہی ہمیں اندھا کر دیتی ہے۔ دسویں اور بارویں جماعتوں کے حالیہ نتائج میں جس نکتے نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی، وہ تھا 500 میں 500 نمبر۔
یہ کامیابی بلاشبہ غیر معمولی ہے اور ان طلبہ کی محنت، والدین کی قربانیوں اور اساتذہ کی رہنمائی قابلِ ستائش ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن ذرا ٹھہر کر دیکھا جائے تو یہی خوبصورتی ایک سوال بن کر سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔
بات یہ ہے کہ میں کسی بچے کی محنت، کسی ماں کی دعا، یا کسی باپ کے خواب پر انگلی اٹھانے کے لیے نہیں لکھ رہا ہوں۔ بچے واقعی قابلِ داد ہیں۔ انہوں نے محنت کی، وقت دیا، نظم و ضبط اپنایا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ مگر تعلیم محض داد و تحسین کا نام نہیں—تعلیم سچائی بھی مانگتی ہے۔ اور سچائی ہمیشہ سوال اٹھانے کی جرأت چاہتی ہے۔ مسئلہ بچوں سے نہیں، نظامِ تشخیص سے ہے۔
ہماری تعلیمی روایت میں ہمیشہ یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ ریاضی جیسے مضامین میں مکمل نمبر ممکن ہوتے ہیں، لیکن نظری مضامین — جیسے اردو، انگریزی، ہندی اور سماجی علوم — فہم، اظہار، زبان اور اسلوب سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان میں معمولی سی لغزش بھی نمبر کم کر سکتی ہے، اور یہی ان مضامین کی فطری خوبصورتی ہے۔ یہ سب انسانی فہم، اظہار، اسلوب اور زاویۂ نظر سے جڑے مضامین ہیں۔ یہاں کمال ممکن ہے، مگر کمالِ مطلق نہیں۔ اگر اس انسانی پہلو کو ختم کر دیا جائے تو پھر امتحان نہیں رہتا، محض نقلِ جواب رہ جاتی ہے۔
ایسے میں جب مکمل نمبر بار بار اور اجتماعی سطح پر سامنے آئیں، تو حیرت فطری ہے۔ سوال یہ نہیں کہ طلبہ قابل ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا سوال کرنے کا اور جانچ کا پیمانہ وہی رہا جس پر ہم برسوں اعتماد کرتے آئے ہیں؟
کیا یہ طلبہ واقعی ہر زاویے سے کامل تھے؟
یا ہم نے کمال کی تعریف ہی بدل دی ہے؟
یہاں ایک اور حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی: اس نوع کے غیر معمولی نتائج عموماً نجی اسکولوں اور کوچنگ سینٹرز سے سامنے آتے ہیں۔ یہ کوئی الزام نہیں، مشاہدہ ہے۔
نجی ادارے تعلیمی میدان میں صرف ادارے نہیں رہے، بلکہ برانڈ بن چکے ہیں۔ نتائج ان کے لیے محض کارکردگی نہیں، تشہیر ہیں۔ بڑے بڑے بینرز، اخباری اشتہارات، سوشل میڈیا پوسٹس—ہر جگہ نمبرز کی نمائش۔ ایسے ماحول میں تدریس کا مقصد رفتہ رفتہ علم نہیں، اسکور بن جاتا ہے۔
طلبہ کو سمجھایا نہیں جاتا، بلکہ تیار کیا جاتا ہے۔ ممکنہ سوالات، ممکنہ جوابات، ممکنہ الفاظ—سب کچھ طے شدہ۔ بار بار پری بورڈز، بار بار ایک ہی نوٹس، بار بار ایک ہی خاکہ۔ نتیجہ یہ کہ تمام جوابات ایک جیسے نظر آنے لگتے ہیں۔ اور جب سب ایک جیسا لکھیں تو جانچ بھی آسان ہو جاتی ہے—اور سخاوت بھی خاموشی سے داخل ہو جاتی ہے۔ اور اس عمل میں فہم کی گہرائی اور تخلیقی سوچ پیچھے رہ جاتی ہے۔
یہاں ایک اور نکتہ قابلِ غور ہے: جانچنے والا استاد بھی اسی سماج کا حصہ ہے۔ جہاں زیادہ نمبرات کو کامیابی اور کم نمبرات کو ناکامی سمجھا جاتا ہے۔ جہاں کم نمبر سوال بن جاتے ہیں اور زیادہ نمبر جشن۔ ایسے میں نرمی اگر نظام کا حصہ بن جائے تو فرد کو موردِ الزام ٹھہرانا ناانصافی ہوگی۔
لیکن سب سے بڑا نقصان کہاں ہوتا ہے؟
اس طرزِ فکر کا سب سے بڑا نقصان طویل مدت میں طلبہ کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جب بچہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ سب کچھ جان چکا ہے۔ جہاں والدین یہ مان لیتے ہیں کہ ان کا بچہ اب کسی محنت کا محتاج نہیں۔ جہاں ادارے خود کو کامل سمجھنے لگتے ہیں۔
پھر یہی بچے جب اعلیٰ جماعتوں میں جاتے ہیں، جب مسابقتی امتحانات کا سامنا کرتے ہیں، جب غیر متوقع سوالات آتے ہیں—تو وہ ٹھٹھک جاتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ نالائق ہیں، بلکہ اس لیے کہ انہیں سوچنے کے بجائے دہرانے کی عادت ڈال دی گئی تھی۔
ہمارا سماج اس مسئلے کو اور گہرا کر دیتا ہے۔ ہم بچے سے یہ نہیں پوچھتے کہ “کیا سیکھا؟” ہم پوچھتے ہیں: “کتنے نمبر آئے؟” ہم موازنہ کرتے ہیں، مقابلہ کرواتے ہیں، نمبرات کو رشتہ داروں کی محفل میں کرنسی بنا دیتے ہیں۔ يوں تعلیم ایک خاموش دوڑ بن جاتی ہے، جس میں منزل نظر نہیں آتی، صرف رفتار دیکھی جاتی ہے۔
دنیا کے اُن تعلیمی نظاموں پر نظر ڈالیں جنہیں ہم خود مثال بنا کر پیش کرتے نہیں تھکتے—جیسے فن لینڈ، جاپان یا جرمنی۔ وہاں امتحان خوف نہیں، مکالمہ ہوتا ہے۔ سوالات یادداشت نہیں، فہم کو جانچتے ہیں۔ ایک ہی سوال کے کئی ممکنہ درست جواب تسلیم کیے جاتے ہیں، کیونکہ وہاں طالبِ علم کو سوچنے کی اجازت دی جاتی ہے، سانچے میں ڈھالنے کی نہیں۔ اساتذہ نمبر دینے والے نہیں بلکہ رہنما ہوتے ہیں، اور جانچ کا عمل اس قدر شفاف اور سخت ہوتا ہے کہ مکمل نمبر ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے، معمول نہیں۔ وہاں کوئی کوچنگ مافیا نہیں، کوئی “ممکنہ سوالات” کی تجارت نہیں، اور نہ ہی تعلیمی اداروں کی ساکھ کا دارومدار بینرز پر چھپے نمبروں پر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں سوال پہلے سے اندازے میں ہوتے ہیں، جواب پہلے سے طے شدہ، اور جانچ اکثر ہمدردی، دباؤ یا تشہیری ضرورت کے تابع۔ وہاں ناکامی سیکھنے کا دروازہ کھولتی ہے، یہاں ناکامی سماجی جرم بنا دی جاتی ہے۔ یہی بنیادی فرق ہے: وہ علم کو ایک زندہ عمل سمجھتے ہیں، ہم اسے نمبروں میں قید کر دیتے ہیں۔ اور جب تعلیم کا مقصد سوچ پیدا کرنا نہیں بلکہ اسکور بنانا بن جائے، تو پھر 500 میں 500 صرف ایک عدد نہیں رہتا—یہ ہمارے تعلیمی زوال کا خوبصورت اعلان بن جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تشخیص کے عمل پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کی جائے۔ مکمل نمبر شاذ و نادر ہوں تو قابلِ فخر لگتے ہیں، لیکن جب وہ معمول بن جائیں تو اپنی معنویت کھو بیٹھتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد یہ نہیں کہ بچہ آج خود کو کامل سمجھے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کل بہتر سوال پوچھ سکے۔ یہ سکھانا کہ سیکھنا ایک مسلسل سفر ہے، نہ کہ ایک مارکس کارڈ پر ختم ہو جانے والی کہانی۔
سب سے بڑا ظلم یہ نہیں کہ ہم کسی بچے کو کم نمبر دیں بلکہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ہم اسے وقت سے پہلے کامل قرار دے دیں۔
تعلیم کا مقصد کامل انسان پیدا کرنا نہیں، بلکہ سیکھنے والا انسان تیار کرنا ہے۔ اور جب 500 میں 500 معمول بن جائے، تو تعلیم ایک سنجیدہ فکری عمل کے بجائے محض ایک خوبصورت عدد بن کر رہ جاتی ہے۔
بات صرف نمبروں کی نہیں، تعلیم کی ساکھ کی ہے۔ کامیابی وہ نہیں جو کاغذ پر مکمل نظر آئے، بلکہ وہ ہے جو طالب علم کے فہم، سوال کرنے کی صلاحیت اور سیکھنے کے سفر میں جھلکے۔ اگر ہم نے نمبروں کو ہی کمال کا واحد پیمانہ بنا لیا تو ہم ایک ایسی نسل تیار کریں گے جو مارکس کارڈ میں تو مضبوط ہوگی، مگر فکر و نظر میں کمزور۔ تعلیم کا حسن اسی میں ہے کہ وہ انسان کو کامل ہونے کا وہم نہیں، بہتر ہونے کی جستجو دے۔ اور شاید یہی وہ فرق ہے جسے ہمیں آج سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
مضمون نگار مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہے۔ رابطہ کے لیے ایمیل: ikkzikbal@gmail.com