افسانہ
پن چکی :.... افسانہ

احسان کا گھرانہ بظاہر ایک عام سا متوسط گھرانہ تھا، مگر اس گھر کی روح اس کے والد، چچا شمس کی وہ قدیم پن چکی تھی جو ندی کے کنارے سالہا سال سے چل رہی تھی۔ لوگ انہیں پیار اور عزت سے 'چچا شمس' کہتے تھے۔ ان کی یہ پن چکی محض پتھر کے دو پاٹ نہیں تھی، بلکہ پورے گاؤں کے لیے رزق کا ایک اہم ذریعہ تھی۔
چچا شمس کا اصول سادہ تھا، دس کلو اناج پیسنے کی اجرت صرف ایک کلو آٹا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی چکی پر لوگوں کا تانتا بندھا رہتا۔ کوئی مکئی لاتا، کوئی گندم اور کوئی مختلف اجناس کا آمیزہ، تاکہ گرما گرم اور تازہ آٹے کی روٹیوں کا لطف اٹھا سکے۔
ایک روز غلام کاک، جو چکی کے ایک پرانے گاہک تھے، مکئی کا آٹا بوری میں بھرتے ہوئے بولے:
"چچا شمس! تمہاری اس پن چکی میں آخر کون سا جادو ہے؟
خدا کی قسم، اس کے پسے ہوئے آٹے کی روٹی میں جو مٹھاس اور ذائقہ ہے، وہ کہیں اور نہیں ملتا۔"
شمس نے آٹے سے اٹے ہوئے ہاتھوں کو جھاڑا اور مسکرا کر بولے:
"ارے غلام بھائی! جادو وادو کچھ نہیں، یہ سب اللہ کا فضل ہے۔ بس میں اتنا کرتا ہوں کہ صبح سویرے، جب دنیا سو رہی ہوتی ہے، میں اٹھ کر چکی کی صفائی کرتا ہوں۔ دانے دانے کو پرکھتا ہوں کہ کہیں کوئی کنکری، کوئی کیل یا مٹی تو نہیں رہ گئی۔ دیکھتا ہوں کہ کسی کی مکئی گیلی تو نہیں یا چوہوں کی کھائی ہوئی تو نہیں۔"
شمس نے ایک گہری سانس لی اور ندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
"اور پھر یہ جاڑوں کا موسم... جب ہر طرف برف کی ہاہا کار ہوتی ہے، میں ٹھٹھرتی سردی میں چشمے پر جا کر نالیاں صاف کرتا ہوں، بوند بوند پانی جمع کرتا ہوں اور اس پائپ کی مرمت کرتا ہوں جس سے یہ چکی گھومتی ہے۔ یہ پتھر کے بھاری پاٹ میری جانکاہ محنت کے گواہ ہیں۔ جادو میرے ہاتھوں میں نہیں، اس نیت میں ہے جو لوگوں کی خدمت کے لیے ہے۔"
چچا شمس محنت کش آدمی تھے۔ ان کا وجود ہمیشہ آٹے کی باریک تہوں میں چھپا رہتا، جیسے گرد و غبار نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہو۔ لیکن اس گرد آلود چہرے کے پیچھے ایک روشن خواب تھا، اس کا اکلوتا بیٹا، احسان۔
شمس نے کبھی احسان کو چکی کے قریب پھٹکنے بھی نہیں دیا تھا۔
"بیٹا!" وہ اکثر احسان کے نرم ہاتھوں کو دیکھ کر کہتے، "میں اس گرد اور شور میں اپنی زندگی گزار رہا ہوں تاکہ تم اس سے بچ سکو۔ میں نہیں چاہتا کہ تم ایک ایک کلو آٹے کے لیے یہ کٹھن مشقت کرو۔ تم پڑھو، لکھو اور بڑے آدمی بنو۔"
احسان سر جھکا کر مؤدبانہ جواب دیتا: "جی بابا! میں پوری کوشش کروں گا۔"
شمس اکثر اسے یاد دلاتے: "دیکھو بیٹا! ہمارے پاس اگرچہ یہ روایتی کام ہے، مگر سرکار نے ہمیں 'سوشل کاسٹ' کے زمرے میں تحفظات دیے ہیں۔ تمہاری یہ ڈگری اور وہ سرٹیفکیٹ تمہارے لیے سرکاری نوکری کا پروانہ بنیں گے۔"
وقت گزرتا گیا، احسان نے کالج سے گریجویشن کر لی۔ شمس کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا، حالانکہ آٹا پیستے پیستے اس کی کمر جھک چکی تھی۔ وہ اکثر گاہکوں سے کہتے:
"میرے ہاتھ دیکھ رہے ہو؟ پتھر ہو گئے ہیں کام کر کر کے، ناک کے نتھنوں میں آٹے کے پیڑے جم جاتے ہیں، مگر میرا احسان...
وہ یونیورسٹی جائے گا، افسر بنے گا۔"
ایک دن غلام کاک نے پوچھا: "چچا! تیرے بعد یہ چکی کون سنبھالے گا؟"
شمس نے اعتماد سے جواب دیا: "غلام! ہم نے بازوؤں کے زور پر روٹی کمائی، مگر نئی نسل اس مشقت سے دور ہے۔ میرا بیٹا افسر بنے گا، اور یہ چکی... جب تک میری سانس ہے، چلے گی، آگے خدا مالک ہے۔"
ایک شام احسان والد کے پاس آیا۔ اس کے لہجے میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔
"بابا! مجھے یونیورسٹی نہیں جانا۔ میں گھر بیٹھ کر سرکاری امتحان کی تیاری کروں گا۔ بس مجھے ایک لیپ ٹاپ چاہیے۔ آپ کے ہاتھ اب تھک چکے ہیں، میں چاہتا ہوں جلد نوکری لگے اور آپ کو آرام ملے۔"
یہ سن کر شمس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ یہ دکھ کے نہیں، تشکر کے آنسو تھے۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی واسکٹ کی اندرونی جیب سے ایک پرانا، گھسا پٹا بٹوہ نکالا۔ برسوں کی جمع پونجی، کچھ بڑے نوٹ اور کچھ ریزگاری احسان کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے بولے:
"لے بیٹا! گن لے، کیا اتنے میں تیرا لیپ ٹاپ آ جائے گا؟"
"ہاں بابا! بیس ہزار بہت ہیں۔" احسان نے پیسے مٹھی میں دبائے اور چلا گیا۔
اس کے بعد احسان اپنے کمرے میں بند ہو گیا۔ شمس مطمئن تھا کہ بیٹا پڑھ رہا ہے۔
پھر گاؤں میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔
سب سے پہلے غلام کاک جھجھکتے ہوئے آئے۔
"چچا شمس... برا مت ماننا، احسان نے مجھ سے پندرہ ہزار روپیےادھار لیے تھے، کہا تھا فیس بھرنی ہے اور بابا گھر پر نہیں ہیں۔ دو ہفتے ہو گئے..."
شمس کے دل میں ایک دھڑکا سا لگا، مگر سنبھل کر بولے: "کوئی بات نہیں غلام، کچھ ضرورت ہوگی۔
میں دے دوں گا۔"
کچھ دن بعد ماسٹر بشیر نے آ کر وہی تقاضا کیا:
"چچا! احسان نے بیس ہزار مانگے تھے..."
پھر دکاندار اشرف آیا۔ آہستہ آہستہ انکشاف ہوا کہ احسان نے گاؤں بھر سے ہزاروں روپے قرض اٹھا رکھا تھا۔ شمس پریشان تھے، بیٹا تو کمرے میں پڑھ رہا ہے، یہ پیسے کہاں جا رہے ہیں؟
یہ راز اس دن کھلا جب احسان کا دوست الطاف ڈرتے ڈرتے پن چکی پر آیا۔ چکی کی گھرگھراہٹ کے درمیان اس کی آواز کسی دھماکے سے کم نہ تھی۔
"چچا شمس... آپ کو شاید خبر نہیں...
احسان نہ پڑھتا ہے نہ کوئی تیاری کر رہا ہے۔ وہ دن رات اس لیپ ٹاپ اور موبائل پر 'ڈریم الیون' کھیلتا ہے۔ وہ ایک آن لائن جوا ہے چچا... اس نے جیتنے کی امید میں ہزاروں روپے ڈبو دیے ہیں اور اب وہ قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔"
چچا شمس کے ہاتھ رک گئے۔ چلتی ہوئی چکی کا شور اچانک اسے بہت مدھم لگنے لگا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے بیٹے کا وہ "سوشل کاسٹ سرٹیفکیٹ"، وہ "سرکاری نوکری کا خواب" اور وہ "بیس ہزار روپے کا لیپ ٹاپ" سب گھومنے لگے۔
"ڈریم الیون..." شمس کے لبوں سے بس اتنا نکلا۔
اس کے ہاتھ سے آٹے کا ٹین چھوٹ کر زمین پر گرپڑا۔ سفید آٹا ہوا میں بکھر گیا، بالکل ویسے ہی جیسے شمس کے خواب بکھر گئے تھے۔ اس گرد و غبار کے بادل میں چچا شمس لڑکھڑائے اور وہیں چکی کے پاٹوں کے پاس بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ پن چکی چلتی رہی، مگر اس کا محافظ ہار چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مقام: حالسیڈار، ویریناگ