ادب
غزل:..... ڈاکٹر ارشد عبداللّہ عشیار

✍️:. ڈاکٹر ارشد عبداللّہ /عشیار
عشق انگارہ ہے جو دل میں دہکتا جاۓ
یہ وہ احساس ہے دل جس سے دھڑکتا جاۓ
-----------------------------------------------
نوش جس نے یہ کی، جانا ہے اسی نے کیا ہے
عشق وہ مے ہے کہ جس نے پی، بہکتا جاۓ
---------------------------------------------
جذبۂِ عشق وہ جذبہ ہے جو مجنوں کر دے
جوگ جس نے یہ لگایا وہ بھٹکتا جاۓ
-------------------------------------------
عشق پھر عشق ہی ہے زور چلے ہے کس کا
شعلہ اک بار جو دہکا تو بھڑکتا جاۓ
------------------------------------------
حسن تیرا مرے محبوب گلِ خطمیٰ ہے
جتنا مرجھاۓ ہے اتنا ہی مہکتا جاۓ
--------------------------------------------
تو وہ گل ہے خزاں کا جس پہ شباب آیا ہے
بلبلِ نالاں جسے دیکھ چہکتا جاۓ