مضامین
کشمیر میں جادوگری کا فتنہ: ایمان کے لیے سنگین خطرہ

موبائل: 9797888975
ایمان انسان کی سب سے قیمتی دولت ہے، اور توحید اس ایمان کی اساس۔ جب یہ بنیاد مضبوط ہو تو انسان کی فکر کو سمت، دل کو یقین اور اعمال کو اخلاص نصیب ہوتا ہے؛ اور جب یہی بنیاد کمزور پڑ جائے تو عبادتیں باقی رہتی ہیں مگر ان کی روح، تاثیر اور برکت آہستہ آہستہ ماند پڑ جاتی ہے۔ آج ہمارا معاشرہ ایک ایسے ہی خاموش مگر مہلک فتنے کی لپیٹ میں ہے جو بظاہر نظر کم آتا ہے، مگر اندر ہی اندر ایمان کو کھوکھلا کر رہا ہے—اور وہ فتنہ ہے جادوگری۔
اسلام نے جادو کو کبھی معمولی سماجی خرابی یا نفسیاتی مسئلہ قرار نہیں دیا، بلکہ اسے کھلا جرم اور گناہِ کبیرہ کہا ہے۔ جادو دراصل توحید پر براہِ راست حملہ ہے، کیونکہ اس میں انسان اللہ رب العزت کو چھوڑ کر شیطان اور اس کے کارندوں سے مدد کا خواہاں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جادو کے نتیجے میں دلوں میں خوف، ذہنوں میں انتشار، گھروں میں بےسکونی، رشتوں میں نفرت اور زندگی میں عجیب سی بےبرکتی جنم لیتی ہے۔
کشمیر جیسے دینی، روحانی اور صوفیانہ مزاج کے خطے میں جادوگری کا اس قدر عام ہو جانا نہایت افسوسناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔ جگہ جگہ جادوگروں کی موجودگی، تعویذوں کے نام پر لوٹ مار، عملیات اور بندش کے دعوے اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے آہستہ آہستہ اپنے عقیدے کی حفاظت سے غفلت برتنی شروع کر دی ہے۔ کوئی دشمنی نکالنے کے لیے جادو کرواتا ہے، کوئی رشتہ باندھنے کے لیے، اور کوئی محض وہم، خوف اور لاعلمی میں مبتلا ہو کر اپنا مال، سکون اور سب سے بڑھ کر اپنا ایمان داؤ پر لگا دیتا ہے۔
یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جادوگروں کے دروازے پر زیادہ تر وہی لوگ جھکتے ہیں جن کا توحید پر یقین کمزور ہوتا ہے۔ مضبوط عقیدہ رکھنے والا انسان کسی جادوگر کے سامنے نہ سر جھکاتا ہے اور نہ ہی اس سے مدد کا سوال کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بعض نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شادی سے پہلے جادوگروں کے پاس جا کر ستارے دیکھتے ہیں، قسمت پوچھتے ہیں اور مستقبل جاننے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ یہ سب شریعتِ اسلامیہ میں صریح حرام اور ایمان کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اس فتنے کے بارے میں نہایت سخت وعید بیان فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص کسی جادوگر یا کاہن کے پاس گیا، اس سے آنے والی بات پوچھی اور اس کی تصدیق کی، اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ سوچنے کی بات ہے کہ جو عمل انسان کو نماز جیسی عظیم عبادت کی قبولیت سے محروم کر دے، وہ کس قدر ہلاکت خیز ہوگا۔
ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ پختہ اور آباد مکانات محض اس بنیاد پر گرا دیے گئے کہ کسی جادوگر نے کہہ دیا کہ یہ جگہ منحوس ہے۔ لاکھوں روپے کا نقصان ہوا، خاندان معاشی اور ذہنی کرب میں مبتلا ہوئے، مگر نہ وہ مسائل حل ہوئے اور نہ وہ بےچینی ختم ہوئی—کیونکہ خرابی دیواروں میں نہیں، عقیدے کی کمزوری میں تھی۔
اس سے بھی افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات گھر کے ذمہ دار خود جادوگروں کو دعوت دے کر ختمات اور نیازوں میں بلاتے ہیں، جیسے ان کے بغیر صدقات اور نیاز قبول نہیں ہوتیں۔ جو لوگ جادوگروں کا اکرام اور احترام کرتے ہیں، درحقیقت وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل دین کے نام پر بدترین فریب اور ایمان کے ساتھ کھلی خیانت ہے۔
یہ بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض اوقات قبرستانوں کو بھی شیطانی عملیات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، حالانکہ قبرستان عبرت، دعا اور آخرت کی یاد کی جگہ ہے، نہ کہ شیطانیت کا مرکز۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے دین کی اصل روح کو کس قدر نظرانداز کر دیا ہے۔
جادوگروں نے نہ جانے کتنے گھروں کو برباد کیا، کتنے رشتے توڑ دیے، کتنے لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کیا اور کتنے ہی سادہ دل انسانوں کا مال ہڑپ کر لیا۔ اس کے باوجود المیہ یہ ہے کہ جادو کو آج بھی گناہ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ ایک وقتی “حل” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے—حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ حل نہیں، بلکہ تباہی کا دروازہ ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن اور سنت سے براہِ راست اپنا رشتہ استوار کریں، اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں، ایسا ماحول بنائیں کہ جادوگری کا یہ مافیا خود بخود ختم ہو جائے۔ نہ جادوگروں کا اکرام کریں، نہ ان کی دکانوں کا رخ کریں، اور اپنی نئی نسل کو اس فتنے سے باخبر کریں تاکہ وہ ایمان کی قیمت پہچان سکے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اللہ سے ڈریں۔
جادو کرنے والے بھی ڈریں،
جادوگروں کے پاس جانے والے بھی ڈریں،
اور وہ لوگ بھی ڈریں جو اس فتنے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
آخر میں یہی کہنا ہے کہ جادوگری ایمان کی تباہی اور معاشرے کی خاموش بربادی ہے۔ اگر ہم نے آج اس فتنے کو سنجیدگی سے نہ روکا تو کل اس کے اثرات ہماری نسلوں کے عقیدے، کردار اور روحانیت کو کھوکھلا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مہلک اور کبیرہ گناہ سے محفوظ رکھے، اور پوری کشمیری عوام الناس کو جادوگروں کے شر سے بچائے۔ آمین۔