Ad
مضامین

انکل سام! بہت ہوا بس کرو

✍️:. ش م احمد / سرینگر 


7006883587

اپنے پچھلے مضمون میں راقم نے وینزویلا کے قصرِصدارت پر  امریکی فوج کی چھاپہ مار کارروائی پر ناچیز قلم اُٹھایا تھا ۔ اس کالم میں امریکہ کی رژیم چینج یا تختہ پلٹ کہانیوں کی رُوداد کا مختصر جائزہ لیں گے تاکہ اس معمے کا کچھ فہم وادراک ہو سکے کہ عالمی چودھری کو آخر ایک پل بھی سازشیں رچانےاور حکومتیں گرانے کے بغیر چین کیوں نہیں آتا؟ کیا اس کے وجود میں ہی کوئی ایسا عارضہ چھپا ہے جس کی وجہ سےا سے کبھی توفیق ہی نہیں ملی کہ اپنے بے پناہ اور لامثال علمی و سائنسی صلاحیتوں کا مثبت ا ستعمال کر کے عالمی تنازعات سلجھائے‘ عالم ِ انسانیت کو وحدت کی لڑی میں پروے ‘ آپس میں دست وگریباں ملکوں‘ قوموں ‘نسلوں اورخطوں کے مابین مصالحت کرائے ‘ افلاس بھوک بیماری ناخواندگی کے ناسوروں کو روئے زمین سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں رہنمایا نہ کردار ادا کرے۔اس کے بالکل اُلٹ میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ غزہ میں نسل کشی کو مکمل طور نہیں رُکوارہا ہے‘ وینزویلاکے صدر کو اپنے جیل میں ٹھونس رہاہے‘ گرین لینڈ کو امریکہ میں ضم کرانے یا بک جانے کو کہہ رہاہے‘ ٹیرف بڑھا بڑھا کر دنیا میں تجارتی خساروں‘ کساد بازاریوں اور بے روزگاریوں کی ستم شعار یاں بڑھارہاہے ۔ کیا یہی ’’ماگا‘‘ کا راستہ اور منزل ہے؟   

 حال ہی میں وینزویلا میں جو انوکھاواقعہ امریکہ کے ہاتھوں پیش آیا‘ دنیا اس پر ورطۂ حیرت میں ہے ‘ پو چھا جارہاہے کہ آخر امریکی فوجیوں کو یہ حق کس قانون اورآئین نے دیا کہ وہ غیر قانونی طور کراکس میں لینڈکریں‘تمام اخلاقی حدود وقیودپھلاند کروینزویلا ئی صدر کی سرکاری رہائش گاہ میں مورچہ زن ہوجائیں ‘ وہاں ڈیوٹی پر تعینات متعدد سیکورٹی اہل کاروں کو ہلاک کریں‘ صدر اور اُن کی اہلیہ کو پابہ زنجیر کرکے واشنگٹن پہنچا یں۔ بعض مبصرین اس بارےمیں کہتے ہیں کہ ٹرمپ کو اپنے خلاف مبینہ جنسی جرائم کے تعلق سے بے نقاب ہورہیں ایپسٹین فائلز نے پریشان کیا ہے ‘ وہ ان سے امریکہ اور دنیا کادھیان ہٹانے کے لئے یہ ساری سعیٔ لاحاصل کررہے ہیں ۔ بہرحال امریکہ نے ووینزویلا ٹائپ کہانیاں ماضی میں اَن گنت مواقع پر بنائی ہوئی ہیں۔ اصلیت جاننے کے لئے ہمیں تاریخ کے سامنے زانوئے تلمذ کرنا ہوگا تاکہ امریکہ کی اس نئی کدوکاوش کی تہ تک پہنچ سکیں۔ تواریخ کی بے عیب گواہی ہے کہ دنیا میں امریکہ کی منشا اور ایماپر ایسے قیامت خیز سیاسی بھونچال کئی دہائیوں سے وقفے وقفے سے آتے رہے ہیں ۔ لہٰذا لاطینی وینزویلا کا ماجرا کوئی نیا فسانہ نہیں بلکہ پرانے فسانے کو ہی نئے امریکی مسالہ دار انداز سے فلمانے کا نیا تجربہ ہے ۔ یہ تجربہ امریکہ کے استحصالی اور توسیع پسندانہ عزائم کی مزاحمت کرنے والوں کے لئےدرسِ عبرت ہے۔ اسی جیسی درجنوں مثالوں کی ضخیم سیاہ کتاب میں صدر ٹرمپ نے محض ایک اورباب جوڑا ہے ۔ تاہم یہ محلاتی ریڈ عالمی قوانین کو لتاڑنے کی شرم ناک مثال قائم کر گیا ہے۔ اس سےساتوں براعظم میں رہنےو الے کمزور حکمران اگر امریکی صدر سے خوف زدہ اور مرعوب ہوئے ہوں تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں ،ہاںیہ بھی ہے کہ اس زور زبردستی سے عالم ِ دنیا کاہر باضمیر انسان صدر ٹرمپ سے بہت متنفر اور بدظن ہوا ۔

       بایں ہمہ ہمیں یہ کڑواسچ قطعی نہیں بھولناچاہیے کہ تاریخ نےاپنے اپنےسینےمیں امریکہ کے ہاتھوں ایسی کرتوتوں کو سلسلہ وار محفوظ کیا ہوا ہے۔ ان بے شمارواقعات سے موٹے طور پریہ حقیقت ذہن نشین ہوتی ہے کہ کوئی اس کی پیش بینی نہیں کرسکتا وائٹ ہاؤس کا مکین کب کیا رُخ اختیار کرے۔ آج تک یہی دیکھا گیا کہ یہاں کا ہر مکین اپنے دوست اور دشمن ‘ موقف اور نظریہ ‘ حلیہ اور لباس وقت کی ضرورتوں کے مطابق ادلنے بدلنے کا زبردست قائل ہوتا چلاآیا ہے۔امریکہ نے عراق کے مصلوب صدر صدام حسین کو ایران کے خلاف آٹھ سالہ خون ریز جنگ میں اپنے آلۂ کار کے طور خوب استعمال کیا ‘پھر راندہ ٔدرگاہ ٹھہرا تے ہوئےاُنہیں’’ ویپن آف ماس ڈسٹرکشن ‘‘کا نام دیاکہ بیک جنبش ِقلم اُن کی حکومت اور زندگی دونوں بیک وقت چھن گئیں‘ واشنگٹن کی مہربانی سے ہی شام کے موجودہ صدر محمد الشرع کو القاعدہ کا سابق دہشت گرد ہونے کے باوجود بشار الاسد کی کرسی عاریتاً سونپ دی گئی اور صدر ٹرمپ سے شرف ِ ملاقات کا اعزاز بخشا گیا۔ کیا پتہ مطلب نکالنے کے بعد کل کلاں امریکہ اُنہیں کس صحرا یا جزیرے میں بھیج دے۔ غرض امریکہ کا وینزویلا میں زلزلہ نما جلوہ انکل سام دنیا کو پہلے بھی مختلف صورتوں میں دکھاتا رہاہے ‘ آگے بھی دکھاتا رہے گا۔ ایسی حرکات سےاَزبر ہوتا ہے کہ امریکہ کو جمہوریت یا جمہوری اقدار کی کوئی چٹی نہیں پڑی ہے‘ اگر اُسے وقتی طور شہنشاہیت یا آمریت میں ہی اپنا مفاد پورا ہوتا ہوا نظر آئے تو اس کی پذیرائی کرنے میں کوئی پس وپیش نہ ہوگا ۔ موجوہ اندھی بہری دنیا میں تہذیب وتمدن ‘ تکریم ِ آدمیت اور جمہوریت جیسی خوش نما اصطلاحوں کی کوئی معنویت نہیں رہتی جب امریکہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کےغزہ کی تباہی وبربادی کی غرض سےاسرائیل کو اخلاقی‘ مادی اور سیاسی حمایت سے پیٹھ ٹھونکے جا رہاہو‘ یاوینزویلا پر اپنا کنٹرول جمانے کے فوراً بعد اب گرین لینڈ کو کھلم کھلا ہتھیا لینے کے قسمیں وعدےدے رہاہو؟ اندازہ کیجئے کہ سال بھر برف کی دبیز چادرسے ڈھکا رہنے والے گرین لینڈ جزیرےپر ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکہ کے لئے یہ آئی لینڈ اسٹرٹیجک سیکورٹی اہم ہونے کے پیش نظر اور اس خدشےسے کہ کہیں یہاں چین اور روس اپنے پیرنہ جمائیں‘ اس جزیرے کا امریکہ کے قلمرو میں شامل ہونا ازبس ضروری ہے۔

 ا س لن ترانی سے ڈنمارک ہی نہیں بلکہ پورے یورپ میں فکرو تشویش اور سراسیمگی کی لہر دوڑچکی ہے‘ حتیٰ کہ بہت سارے یورپین دیسوں نے گرین لینڈ کو کسی غیر ملکی فوج کے ہتھے چڑھنے سےپہلے ہی حفظ ماتقدم کے طور ا پنی فوجی کمک وہاں روانہ کی ہوئی ہے ۔ چوون ہزار نفوس پر مشتمل ایک امن پسندآزاد مملکت کو صدر امریکہ خرید کر یا کسی اور طریقے سے حاصل کرکے اپنی کالونی بنانے کا اعلان کرتا پھر یں تواسے امریکہ کے توسیع پسندانہ بیمار سوچ کے علاوہ اور کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ اس عجیب وغریب طرز فکر سے یورپ کو پریشانی لاحق ہونا بجا ہے ‘ اس سے تو ناٹو کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ چکاہے ۔ اب تو یہ خبریں گشت کررہی ہیں کہ امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ اُن ممالک کے خلاف ٹیرف بڑھے گا جو گرین لینڈ سے متعلق اُن کی پالیسی اور موقف کی مخالفت کی ہمت دکھایں ۔ اسی طرح صدر ٹرمپ ایران کے داخلی مسائل میں بھی ٹانگ اَڑا کر وہاں مبنی برحق عوامی احتجاج کو اپنے اصل ہدف سے دور کرنے کی کوششیں کررہے ہیں اور ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے ایرانی عوام اپنے جنیون مظاہروں سے بے روزگاری یا حد سے بڑھ کر مہنگائی اور کورپشن سے چھٹکارا پانے کے بجائےایران کے رُوحانی پیشوا اور اعلیٰ ترین سیاسی قائد آیت اللہ سید علی خامنائی کو اپنے جلیل القدرمنصب سے ہٹانے کے درپے ہیں۔ یہ ساری سازشیں امریکہ تہران کا کنٹرول خود سنبھا لنے کے لئے کررہا ہے۔ امریکہ یہ ساری دھماچوکڑی پہلی بار نہیں کررہاہے بلکہ دیگر ملکوں اور قوموں کے خلاف اپنی مطلب براری کے لئے سازشیں رچانا اور  ان کے معاملات میں مداخلتیں کرنا ‘اس کی خارجہ پالیسی کا جزو لاینفک رہاہے‘ سی آئی اے کا اس سلسلے میں ہمیشہ کلیدی طور رول رہتا  ہے۔ امریکہ کی ایسی متنازعہ اور قابل ِ صد تاسف حرکات کو سمجھنے کے لئے ہمیں تواریخ کامختصر جائزہ لیناہوگا۔

  ریاست ہائے متحدہ امریکہ (یونائٹیڈ اسٹیٹس آف امریکہ ) ۱۷۷۶  تک برطانوی سامراج کے زیر تسلط ایک نوآبادیاتی خطہ تھا۔  سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے دوران شمالی امریکہ کے خطہ میں وقت کی عالمی قوت برطانیہ نے اپنی تیرہ کالونیاں قائم کی تھیں ‘ ان کالونیوں میں رہ رہے لوگوں کی حیثیت بندھوا مزدوروں جیسی تھی‘ لوگ برطانوی راج کےباج گزارتھے۔۔۔بھاری ٹیکسوں کابوجھ‘ غربت اور غلامی کی بے کیف زندگی‘ سیاسی حقوق سے تہی دامنی‘ عدل و انصاف سے محرومی‘ شخصی آزدایاں ندارد‘ فریادرسی  کا نظام ناپید‘ عدم شنوائی کا ناقابلِ علاج روگ‘ استحصال کا دور دورہ ۔۔۔ان ساری جان لیوا چیزوں سے تنگ آکر مشتعل امریکی عوام نے برطانیہ کے خلاف خوب لڑا، عوامی قائد تھامس جیفرسن نے ۴؍جولائی ۱۷۷۶ کو’’ اعلان آزادی‘‘ کے نام سے ایک مسودہ تیار کیا جسے برطانیہ نے ۱۷۸۳ کو من وعن تسلیم کرکے امریکہ سےاپنا بوریا بسترہ لپیٹ لیا۔ امریکی قوم نے اپنے ان بلند وبالا آدرشوں یعنی جمہوریت ‘ آزاد خیالی اور انسانی حقوق کی حُرمت کے ساتھ جو سفرِ آزادی شروع کیا تھا ‘ ۱۷۸۸ میں امریکی آئین نے انہی آدرشوں کو اپنے جسم وجان میں سمودیا ‘ گویابزبان حال حلف اُٹھالیا کہ یہ ملک جمہوریت‘ انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کا احترام کے لئے ہمیشہ وعدہ بندہے مگر آج تک اس کی مختلف حکومتوں نے بیرونی دنیا کے حوالے سے ان آئیڈئیلز کی مٹی پلید کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نے دوسرے ملکوں اور قوموں کو ان انمول آدرشوں سےمحروم کر نے میں کوئی دقیقہ فروگزشت نہ کیا ‘اُن کے خلاف سازشیں کیں ‘ اُن پر فوج کشیاں کیں‘ ان کے اندر شورشیں اور بغاوتیں بپا کیں ‘ اُن کی حکومتیں گرائیں‘اُن کے سروں پر اپنے کٹھ پتلیاں سوار کیں ‘ اُن کی معیشتیں تہس نہس کردیں‘ اُن کے لوگوں پر جبر وتشدد کے ہتھکنڈے آزمائے ‘ ان کی قوم پرست سیاسی قیادتوں کےچراغِ زندگی بجھا دئے،حتیٰ کہ جنگ عظیم دوئم میں اپنے ایک  جنگی حریف جاپان کے دوشہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر اٹم بم  تک چلائے۔ یہ اس کے سیاہ کرتوتوں کی ایک ایسی بھیانک تاریخ ہے جس کے ہر ورق پر سازشوں ، انسان دشمنیوں ‘جنگوں‘ ہلاکتوں اور تباہیوں کی ایسی داستانیں نظر وں کے سامنے گھومتی ہیں کہ انسان کادل بیٹھ جاتاہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہےکہ تواریخ کے ان سیاہ دلانہ اوراق پر نظر دوڑاتے ہوئے ہمیں یہ ٹھوس حقیقت بھی قلب وجگر میں پتھر کی لکیر کی طرح کندہ کرنی چاہیے کہ یہ کارستانیاں امریکی حکومتوں کا کیا دھرا ہے‘جب کہ امریکی عوام مغرب کےدیگر گوروں کی طرح بہت ہی خلیق‘ نرم مزاج‘بااخلاق‘انسان دوست‘زیرک وفہمیدہ‘خوش گفتار‘ نظم وضبط کےپابند‘دیانتداراوروفاشعار ہوتےہیں۔راقم الحروف کو۲۰۲۳ میں ان حقیقتوں کا عین الیقین برطانیہ میں فیملی وزٹ کے تین ماہی قیام کے دوران ہوا‘لیکن ا مریکہ کے ان دلدار اور خوش طبع لوگوں کے سروں پر جو حکومتیں خود اُن کے اپنے ووٹوں سے برسراقتدار آ تی رہی ہیں ‘انہوں نے یکے بعد دیگرےاپنی خارجہ پالیسیوں کی وضع قطع سے دیگرممالک کو اپنے آہنی پنجوں میں دھر دبوچ لیا‘ سرد جنگ نے اس نفرتی یا استحصالی مشن کو دوآتشہ کردیا ۔ اس گندےکام کو سرانجام دینے کے لئے سی آئی اے کے خفیہ ہاتھوں نے روزِاول سے ملکوں ملکوں جاکر وہاں کےحالات بگاڑنےمیں اپنے ہاتھ سیاہ کئے اورایسے ایسے اُلٹے سیدھے فسانے تراشے کہ الاماں والحفیظ ‘ کئی ملکوں میں رژیم چینج کی بدنما کہانیاں اسی انوکھے فسانوں کی دین ہیں ۔ ایک موقع پر امریکہ کے ایک صدر آئزن ہاوزنےاس بارے میں صاف گوئی سے  اعتراف کیا تھا کہ جو کام بے پناہ فوجیں نہیں کرتیں وہ سی آئی اے چند ملین ڈالر سے کر دکھاتی ہے۔ ہم زیادہ دور کیوں جائیں‘ گزشتہ سات دہائیوں میں واشنگٹن کی ایسی تخریبی کارستانیوں پر سرسری نگاہ ڈالیں‘ یہ تاریخ کے پنوں میں لفظ لفظ درج ہوکرگواہی دے رہی ہیں کہ امریکہ کو حکومتیں ٹاپل کرنے اور اپنے کٹھ پتلیوں کو گدی نشین کرنے میں امریکہ کو لامثال مہارت حاصل ہے۔ یہ ملک اس نوع کے سات دہائیوں میں ایسے ۷۲ تجربات کرچکاہے‘ان میں سے کچھ کامیاب ہوئےاورکچھ ناکام۔ اس تاریخ کاایک مختصرساتذکرہ: شروعات ایران سے‘۱۹۵۳ کو ڈاکٹرمصدق کی حکومت کا پتہ کاٹاگیا‘ ۱۹۵۴میں گونٹے مالاکی حکومت گرائی‘انڈوونیشیا میں سوئیکارتو کی حکومت کے خلاف سماٹرا اور سلاویسی سے خودمختاری کامطالبہ کرنے والی کمیونسٹ بغاوت کو  کچلنے کے لئے صدر کینڈی نے حکومت کو اسلحہ اورمالی امداداکےسہارے ملک میں کشت وخون کا بازار گرم کروانے میں مدد دی ‘ آگےتاریخ کے اوراق اُلٹ کر دیکھتے جائیں کہ امریکہ بہادرنے۱۹۵۹میں کیوبا‘۱۹۶۰ میں کانگو‘ ۱۹۶۰ میں عراق‘ ۱۹۶۱ میں ڈومینکن رپبلک‘۱۹۶۳میں جنوبی ویتنام‘ ۱۹۶۴میں برازیل‘  ۱۹۷۳میںچلی‘۱۹۷۹میںافغانستان‘۱۹۸۰میںتُرکی‘۱۹۸۰میںپولینڈ‘  ۱۹۸۱میں نکاراگوا‘ ۱۹۸۰ میں کمبوڈیا‘ ۱۹۸۰ میں انگولا‘۸۶ ۱۹میں فلپائن‘۲۰۰۱میںافغانستان‘۲۰۰۲میںعراق‘۲۰۰۴میںہیٹی‘  ۲۰۰۶ میںغزہ‘ ۲۰۰۶ میں صومالیہ ۲۰۰۵ میں ایران تاایںدم ‘ ۲۰۱۱میںلیبیا‘۲۰۱۲میںشام اور۲۰۲۳ تا۲۰۲۵میں غزہ کی    خون آشام سرگزشتیں لکھیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی امن کی چابی صرف امریکہ کے پاس رہتی ہے ۔اس وقت یہ صدر ٹرمپ کے پاس ہے ‘ وہ چاہیں تو اسے سیدھی طرف گھماکر پوری دنیا کو امن شانتی دےسکتے ہیں‘اُلٹی گھما دیں تودھرتی کوجنگ وجدل اورخون خرابیوں سے پتھر کے زمانے کو لوٹ سکتی ہے۔ بایں ہمہ دنیا کو امن اور بھائی چارے کی اشد ضرورت ہے ۔ اور پھر امریکہ کو عالمی تاریخ کا  یہ چکر بھی سمجھنا ہوگا کہ پندرہویں صدی کی عالمی طاقت ہونے کا ہسپانوی غرور‘سولہویں تااُنیسویں صدی ورلدڑپاور ہونے کابرطانوی دبدبہ اور۱۹۹۰ کے وسط تک یوایس ایس آر کی جاہ وحشمت انہی وجوہ سے قصۂ پارینہ ہوا کہ انہوں نے انانیت اور ناعاقبت اندیشی میں جب خود کو ناقابل ِ تسخیر قوت سمجھ کر دنیا بھر میں انسانیت کی ناک میں دم کیا‘ تو قانون ِ قدرت کی بے آواز لاٹھی نےا نہیں اپنے مقام ومنزلت سے محروم کرکے ہی رکھ چھوڑا ۔اس لئے انکل سام اب  بہت ہوا ‘بس کیجئے‘ مالی بن کردنیا کو امن کی بہاریں لوٹا دیجئے‘ اپنے علم و آگہی ‘سائنس اور ٹیکنالوجی‘ سیاسی اثرورسوخ اور بے پناہ ترقیوں کے بل پر کرۂ ارض کو امن وسکون ‘طمانیت اور ترقی کاگہوارہ بنا ئیںاور نوع ِانسانی کو زمین پرباوقار زندگی جینے کی آرزوئیں کا خواب دیجئے نہ کہ دنیا کو قتل وغارت کا بلیک ہول بنانے میں اپنی توانیاں صرف کریں ؎

خنجروںکوتوڑکراِک پُرامن انسان بن   

پھول بن گلدان بن ہر درد کا درمان بن



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!