Ad
افسانہ

تعلیم یافتہ بہو..... افسانہ

✍️:. عبدالرشید سرشار 



اکرم کی عمر صرف پندرہ سال تھی جب اس کے سر سے باپ کے سایہ اٹھ گیا۔ یوں زمانے کے سرد و گرم حالات نے معصوم سے پھول کو وقت سے پہلے صحرا کا پیڑ بنادیا۔ ایک طرف بیوہ ماں کی ممتا تھی اور دوسری طرف چار پانچ معصوم بہن بھائیوں کی امیدیں۔ 

وہ دن بھر چھوٹے بڑے کام کرتا اور رات کو لالٹین کی مدھم روشنی میں کتابیں چاٹتا۔ آخر کار اس کی قربانی  رنگ لائی، بی ایڈ مکمل ہوا اور سرکاری ملازمت کا پروانہ مل گیا۔ اب بستی میں اس کا سر فخر سے بلند تھا۔

​ماں، عائشہ بیگم، جو زمانے کی ٹھوکریں کھا کر کندن بن چکی تھیں، اب بیٹے کے لیے ایسی بہو کی متلاشی تھیں جو ان کے معیار پر پوری اترے۔ اس کی نظریں محلے کی سیدھی سادی لڑکیوں پر نہیں ٹھہرتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ بہو ایسی ہو جو چاند کو شرمائے، جس کے پاس تعلیمی اسناد  ہوں اور جو سلیقے میں لاجواب ہو۔

​ وہ اکثر پڑوسنوں سے کہتیں کہ میں اکرم کے لیے چاند سی بہو ڈھونڈوں گی۔

​آخر کار تلاش و بسیار کے بعد چالیس میل دور ایک گاؤں میں ایک لڑکی مل ہی گئی۔ زرینہ نام تھا اس کا۔ دعویٰ تھا کہ تعلیم میں یکتا ہے اور ہنر میں کمال۔ عائشہ بیگم نے جب اس کا ہاتھ تھاما تو خوشی سے نہال تھیں کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے علم و فضل کا خزانہ لے آئی ہیں۔ مگر قدرت کا اپنا ہی حساب کتاب ہوتا ہے۔

​شادی کے بعد جب زرینہ اس گھر کی دہلیز پر آئی تو گویا ایک نیا باب کھلا۔ شکل و صورت ایسی کہ دیکھنے والا ایک بار دیکھے اور دوسری بار نظر  چرا لے۔ قد و قامت میں وہ کسی طور نسوانیت کا مرقع نہ تھی بلکہ ایک تنومند جسامت کی حامل تھی۔ مگر اصل مصیبت تو اس کا مزاج تھا۔ وہ تعلیم یافتہ تو کہلاتی تھی، مگر اخلاق کی کتاب کھولنا اس نے کبھی گوارا ہی نہیں کیا تھا۔

​ساس کی وہ "چالاکی" جو رشتہ ڈھونڈنے میں کام آئی تھی، اب زرینہ کی بدزبانی کے سامنے بے بس ہو گئی۔ نندوں سے بات کرنا تو درکنار، وہ ان پر غراتی تھی۔ سال گزرتا نہیں تھا کہ وہ میکے جانے کا ہنگامہ کھڑا کر دیتی۔ عائشہ بیگم جو اپنے انتخاب پر نازاں تھیں، اب مصلحت کی چادر میں منھ چھپائے پھرتی تھیں۔

​تعلیم کا بھرم بھی تب کھلا جب سرکاری نوکریوں کے اشتہار آئے۔ زرینہ کی "اعلیٰ تعلیم" کے غبارےسے  اس وقت ہوا نکل  گئی جب فہرست میں اس کا نام دور دور تک نہ تھا۔

 لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے:

"اکرم کے ساتھ سراسر دھوکا ہوا ہے۔ تعلیمی اسناد کے نام پر ردی تھمائی گئی ہے۔"

​وقت گزرتا گیا، بچے بھی ہوئے، مگر تربیت کا نام و نشان نہ تھا۔ وہ بچے نہیں بلکہ آفت کی پٹاخے تھے۔ ہر وقت کھانے کی ہوس اور چیزیں برباد کرنے کا جنون۔ اگر کوئی انہیں سمجھانے کی جسارت کرتا تو زرینہ شیرنی کی طرح جھپٹتی۔ اس کی نظر میں اس کی ممتا کا تقاضا یہی تھا کہ بچوں کو بے لگام چھوڑ دیا جائے۔

​محلے داروں اور رشتہ داروں نے اس ہنگامہ خیز گھر سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ عائشہ بیگم، جو کبھی اس گھر کی روح تھیں، اب اپنی ہی بہو کی نظر میں سب سے بڑی کانٹا بن گئی ۔ زرینہ کا بس چلتا تو وہ اپنی ساس کو گھر سے نکال باہر کرتی، تاکہ اکرم کو اپنی انگلیوں پر نچا سکے۔ وہ اکثر سوچتی:

​"یہ بڑھیا اگر نہ ہوتی، تو اکرم میری مٹھی میں ہوتا۔"

​اکرم، جو شرافت کا پیکر تھا، اس چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہا تھا۔ ایک طرف وہ ماں تھی جس نے اسے خون جلا کر پالا تھا، اور دوسری طرف وہ شریکِ حیات جو اس کے گھر کے امن کو گھن کی طرح کھا رہی تھی۔

​اس کشمکش اور تلخیوں کے باوجود، شرافت اور صلح جوئی کا دامن تھامے اکرم نے اس بکھرتے ہوئے گھر کو کسی نہ کسی طرح سنبھالے رکھا۔ یہ بسا بسایا گھر بچ تو گیا، مگر اس کی دیواروں میں لگی دراڑیں عائشہ بیگم کی "عقلمندی" اور زرینہ کی "بدخوئی" کا نوحہ پڑھتی رہیں۔

حالسیڈار ویریناگ

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!