مضامین
"شیخ العالم"....... از خاکی محمد فاروق

وادی میں اسلام صوفیائے کرام رحمہم اللّٰہ کی مساعی جمیلہ کا ثمره ہے اس لیے یہاں صوفیائے کرام رحمہم اللّٰہ کے تئیں محبت و عقیدت اور احترام و اکرام کے جذبات ہمیشہ تروتازہ رہے ہیں نیز روایاتِ تصوف ، تعمیرِ خانقاہات و زوایا ، باہمی اخوّت و اعتماد اور شرافت و سادگی کی قدریں زندہ و تابندہ رہی ہیں - صوفیائے کرام رحمہم اللّٰہ کی محنتوں اور برکتوں نے ایک ایسی قوم کو - جو مکر و فریب ، سود خواری ، فکر و نظر کی ناہمواری ، ظاہر پرستی اور جنگ و جدل سے عبارت تھی - قعرِ مذلت سے نکال کر انہیں خدا پرستی ، انسان دوستی ، خدمتِ خلق ، اخلاقی بلندی کا سبق پڑھایا - یوں بہت کم مدت میں معجزانہ طور پر لذّتِ فانیہ مبغوضہ پر مر مٹنے والی قوم نے کمالِ زہد ، صبر و قناعت ، دوامِ آگہی ، سخاوتِ نفس ، لطف و احسان سے اپنی پہچان بنا لی -
یہ ان بندگانِ خدا کا فیض تھا جنہیں دوستانِ رب الارباب اور مقرّبانِ مجلسِ قدسی صفت کہا جاتا ہے - ان میں ایک بڑا نام " شیخ العالَم شیخ نور الدین نورانی نوّر اللہ مرقدہ کا شامل ہے -
شیخ رحمہ اللّٰہ آٹھویں صدی ہجری کے نصف ثانی میں پیدا ہوئے جب کہ ابھی اسلام کو کشمیر میں آئے ہوئے ایک صدی بھی نہیں گزری تھی ، قوم میں ابھی تک دھندلے تربیتی نقوش پائے جاتے تھے ، اور جاہلیت کی کج ادائی سے مزاج وظائف ِ بندگی کی ادائیگی سے قاصر نظر آرہے تھے لیکن جن قدسی صفات انسانوں کا انتخاب اسرارِ الٰہیہ کے تحت از غیب ہوتا ہے وہ علمِ حصولی اور تربیتِ ظاہری کی تنگنائیوں سے اوپر علمِ حضوری ، جمعیتِ معنوی ، وصفِ نیستی ، اہدافِ نورانی اور حضور و آگہی سے موصوف کیے جاتے ہیں اسی لیے شیخ العالَم رحمۃ اللّٰہ علیہ نے چند سال دنیوی علائق و روابط سے کنارہ کش رہنے کے بعد جب دوبارہ معاشرے کی طرف عود کیا تو اس وقت وہ داعیِ خوش اطوار ، مربّیِ بہجت گفتار ، عالمِ روشن کردار ، عارفِ عالی اسرار ، صوفیِ باطن انوار بن کر شہر شہر ، گاؤں گاؤں ، قریہ قریہ تواصلِ فکر ، گریہِ سحری ، آتشِ فراق ، سوزشِ اشتیاق ، طریقہ مرضیّہ ، اخبارِ حق ، صداقتِ ازلی کی سوغات و پیغام لے کر راہ نوردی کرتے رہے -
انہوں نے اپنے پیغامِ آگہی دوام اور کلامِ نور آشام سے مردہ دلوں میں طلبِ حرارت ، شوقِ دید ، دیدہِ پُرآب ، طراوتِ باطن ، موانستِ تام پیدا کی - تمام اہلِ کشمیر نے بلا کسی امتیازِ مذہب و مشرب ان کے حضور اپنی محبت و عقیدت کا خراج پیش کیا -
ان کا کلام آج بھی ، جب کہ سلف آزاری اور صوفیاء بیزاری کی محنتیں سر ابھار رہی ہیں ، اہلِ کشمیر کو انوارِ دائمی اور اسرارِ قائمی کی لذتوں سے فیضیاب کررہا ہے -
وہ اہلِ کشمیر کے پیر و مُرشد ہیں ، ان کی محبت و عظمت ، توقیر و تعظیم اور اتباع و اطاعت اس لٹی پٹی قوم کا سرمایہ ہے جسے ، امید ہے ، وہ ضائع نہیں ہونے دے گی -
کشمیر کے نامی گرامی اہلِ علم و قلم نے شیخ قدس سرہ کی حیاتِ پاکیزہ صفات پر اپنی تحقیقات پیش کی ہیں - ان کے کلام کے حسن و جمال کی مختلف جہتوں سے پردہ کشائی کی ہے ، ان کی دعوتِ معرفت آمیز کے الگ الگ گوشے نمایاں کیے ہیں - یہ ایک طویل سلسلہ ہے اور اسی کی ایک اہم کڑی وادی کے معروف مصنف و دانشور جناب خاکی محمد فاروق کی کتاب " شیخ العالَم شیخ نور الدین ولی" ہے جو شیخ قدس سرہ کی حیات ، خدمات اور تعلیمات پر مشتمل ہے - کتاب چار ابواب پر مبنی ہے - پہلے باب میں حضرت شیخ قدس سرہ کی ابتدائی زندگی اور ان کی دعوت کے اصول و آداب پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئی ہے -
دوسرے باب میں حضرت شیخ قدس سرہ کی تبلیغی زندگی - آغاز سے آخر تک - پر بڑی عمدہ تحقیقی بحث کی گئی ہے -
تیسرے باب میں ان تمام رفقاء ، خلفاء ، مریدین اور مسترشدین کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے شیخ سے تربیت پاکر دعوت و تبلیغ کی قندیلیں روشن کرنے میں اپنا تابناک کردار ادا کیا -
چوتھے باب میں شیخ العالَم قدس سرہ کے افکار و تعلیمات کا تحقیقی خاکہ پیش کیا گیا ہے -
ہر باب کے اختتام پر مصنف نے اپنے مآخذ و مراجع تحریر کیے ہیں اور اخیر میں ان تمام منابع و مصادر کی فہرست دی ہے جن سے استفادہ کیا ہے -
کتاب کو عالَمِ وجود میں لانے کے محرکات پر گفتگو کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں :
" راقم الحروف نے کتاب میں حضرت شیخ العالَم رحمۃ اللّٰہ علیہ کے حالاتِ زندگی کے ساتھ ان کی دعوتی ، تبلیغی ، اصلاحی ، علمی اور ادبی خدمات کا مفصل تذکرہ کیا ہے - اس کے ساتھ حضرت شیخ العالَم رحمہ اللّٰہ کے افکار و تعلیمات کا بیان بھی ہے - اس کتاب کی تالیف میں راقم الحروف کا مقصد ہے کہ حضرت شیخ نور الدین ولی رحمۃ اللّٰہ علیہ کا دعوتی ، تبلیغی اور ادبی کارنامہ واضح طور سامنے آجائے" ( ص23)
مصنف کا اسلوب سہل اور قابلِ فہم ہے - انہوں نے شیخ قدس سرہ کی داعیانہ مساعی کو بیان کرتے وقت ان کے کلام سے جا بجا استشہاد کیا ہے - دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں شیخ رحمہ اللّٰہ کے منہج ، طریقہ کار ، اسلوب اور اندازِ بیان پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے - شیخ قدس سرہ جس جس مقام پر گئے ، وہاں پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات درج کی ہیں -
مصنف ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر تاریخ کے صفحات کھنگال کر اہم اور قیمتی معلومات سے قاری کا دامن بھی بھرتے ہیں - مصنف نے گہرے طور پر شیخ رحمہ اللّٰہ کی دعوت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے تاکہ صحتِ فکر و نظر کے ساتھ شیخ کے بارے میں معلومات پیش کی جائیں - وہ محض واقعات نقل نہیں کرتے بلکہ ان کے پس پردہ اسباب و عوامل کی تلاش کرتے ہیں اور پھر ایک بابصیرت مؤرخ کی طرح ان سے شیخ رحمہ اللّٰہ کی عظمت کے نقوش مستنبط کرتے ہیں - یہ کتاب جہاں شیخ رحمہ اللّٰہ کی مبارک زندگی کی مستند دستاویز ہے وہیں پر خود مصنفِ کتاب کے فکر و نظر اور ذہنی و فکری میلانات و رجحانات کی نشاندہی کرتی ہے -
ہمارے زمانے میں جبکہ دینی، اخلاقی اور ایمانی قدروں کا جنازہ نکل رہا ہے - دعوت و تربیت کے مراکز متجر اور ان کے اربابِ حل و عقد تاجر ہورہے ہیں شیخ رحمہ اللّٰہ کی تعلیمات کو عام فہم اسلوب میں لوگوں تک پہنچانا از حد ضروری ہے - پچھلے سال جنوری کے مہینے میں چرار شریف میں حاضری لگی - ذاتی ڈائری میں اس دن جو تاثرات درج کیے موقع کی مناسبت سے یہاں نقل کررہا ہوں:
" آج چرار شریف میں حاضری کی سعادت ملی - یہاں کشمیر کے عظیم ولی ، مصلح ، داعی اور صوفی شاعر حضرت نور الدین نورانی نوّر اللہ مرقدہ کی آرامگاہ ہے - یہ مقام اس عظیم انسان کے تئیں ہماری محبت و احترام کی علامت ہے لیکن افسوس یہاں پہنچ کر اس طرح کے جذبات و احساسات پیدا نہیں ہوتے جو ہمارے اصلاحِ احوال کو مستلزم ہوں - میرے خیال میں یہاں چپہ چپہ پر ایسے بورڈ آویزاں کرنے کی ضرورت ہے جن پر علمدارِ کشمیر رحمۃ اللّٰہ علیہ کے اشعار اُردو ، ہندی اور انگریزی میں لکھے گئے ہوں تاکہ زائرین کم از کم انہیں پڑھتے ، یوں وہ علمدار کشمیر کے نظریات سے آگہی پاتے ، ان کے علم میں اضافہ ہوتا - ممکن ہے کسی کے لیے اس ایمان بخش کلام سے ہدایت کا سامان ہو جاتا -
یہاں دینی کتب کی ایک دکان بھی نہیں - لوگ یہاں عقیدت سے آتے ہیں - صحیح یا غلط اعمال انجام دیتے ہیں ، اگر ان کے لیے یہاں ایسا لٹریچر ، اور دوسرے جدید ذرائع کا انتظام کیا جاتا ، جن سے دینِ اسلام کی سادہ اور مؤثر تعلیمات کی ترسیل ممکن ہوتی تو اس عظیم ولی کی روحِ مبارک شاد کام ہوجاتی "
میں اہلِ فکر و نظر سے بجا طور پر توقع کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کا مطالعہ کرکے اپنے مطلعِ دل میں شیخ رحمہ اللّٰہ کی محبت و عظمت کے ستارے روشن کریں گے -