Ad
مضامین

طالبان کی قید میں :۔۔۔۔مغرب کا مکرو ہ چہرہ بے نقاب

نام کتاب :۔طالبان کی قید میں

مصنف :۔ یو آن رڈلے  / مترجم:، محمد یحیٰ خان 

صفحات  ۔ 296  /قیمت :۔500

ناشر:۔ عفاف پبلیشرز لکھنو  انڈیا 

مبصر:۔ غازی سہیل خان 


طالبان کی قید میں In the hands of Taliban) )  انگریزی میں لکھی گئی کتاب کا اُردو ترجمہ’’ محمد یحیٰ خان‘‘ نے بڑی خوبصورتی سے کیاہے ۔یہ کتاب برطانہ کی معروف صحافی یو آنے رڈلے( اسلام قبول کرنے کے بعد’’ مریم ‘‘نام ) کی تصنیف ہے ۔کتاب کو ’’عفاف پبلیکیشنز‘‘ نے اچھے گیٹ اپ میں شایع کیا ہے ۔کتاب اس صحافی کی اپنی زندگی کے چند سالوں کی داستان ہے ۔کتاب کی کہانی 9|11 کے منحوس دن سے ہی شروع ہوتی ہے جب ایک منظم سازش کے تحت مسلم دنیا کو ساری دنیا کے سامنے گنہگار اور مجرم کے بطور مغرب نے پیش کرنے کی ایک ناکام کوشش کی تھی ۔مذکورہ کتاب بارہ ابواب  اور کُل 296/ صفحات پر مشتمل ہے ۔ ابواب کے عناوین کچھ اس طرح سے ہیں پہلا وہ دن جس نے دنیا بدل دی ،دوسرا جلوزئی کیمپ کا ایک منظر ،تیسرا درئہ خیبر سے آگے ،چوتھا ڈیزی ،داوئود اور خطرات ،پانچواں ،برقعے کے نیچے کی دنیا ،چھٹا اہم موڑ ،ساتواں اصل آزمائش ،آٹھواں نمازیں ،انار اور جیل ،نواں کابل پر بمباری ،دسواں اسلام آباد میں واپسی ،گیارھواں جب میں گھر پہنچی ،بارھواں مجھے جاسوس بنانے کی سازش کہاں تیار ہوئی ؟ اور آخر پر ضمیمہ میں ایک انٹرویو  شامل ہیں ۔

مصنفہ برطانہ کی مشہور صحافی رہ چُکی ہیں اور صحافت سے اس حد تک لگائو اور خبروں کی تلاش کا جنون ایسا کہ دنیا کے اکثر ممالک کا دورہ خبروں کی تلاش کے لئے کیا۔اپنی اکلوتی بیٹی کی بغیر کسی پرواہ کے دنیا کی انتہائی خطرناک جنگ زردہ جگہوں پر جانے سے بھی گُریز نہیں کیا ،اسی کڑی کے تحت9/11کے بعد جب مغرب کا واحد نشانہ مسلم ممالک اور خاص طور سے افغانستان تھا پر  اور اس پر بمباری کی تیاری میں تھا ایسے میں یہ بہادر صحافی ’’یو آنے رڈلے‘‘ نے افغانستان ہی جانے کا فیصلہ کیا مترجم لکھتے ہیں کہ ’’کتاب کی مصنفہ اپنی انفرادیت قائم کرنے اور واقعات میں سے منفرد خبریں نکالنے کی خواہشمند تھی ۔اس نے سوچا کہ کیوں نہ افغانستان کے اندر پہنچا جائے اور جو مخلوق عنقریب پیوند ِ خاک بننے والی ہے ،اس کے’’ قبل از وقت‘‘ تاثرات سے آگاہی حاصل کی جائے ،اسلام آباد میں افغان سفارت خانے میں ویزے کی پانچ  سوسے زائد درخواستوں میں اس کی درخواست بھی شامل تھی مگر سفارت خانہ ،غیر یقینی حالات کی وجہ سے ویزے دینے سے لیت و لعل سے کام لے رہا تھا اِدھر بمباری شروع ہونے کے لئے اُلٹی گنتی شروع ہو چُکی تھی ،چنانچہ وہ بعجلت ،مقامی آپریٹروں کی مدد سے براستہ  ’’ طور خم‘‘  افغانسان کے اندر جلال آباد میں داخل ہو گئی ۔اس کے پاس سوائے کیمرے اور قلم اور تین جوڑے کپڑوں کے کچھ بھی نہ تھا ۔اس نے یہ سفر بڑی مصیبتوں سے کیا ،دشوار گزار پہاڑیوں ،دَروں چٹانوں اور پگڈنڈیوں پر سے گزری ،برقعہ پہنا ،جتنی تصاویر کیمرے میں محفوظ کرنا تھی وہ کر لیں لوگوں کے تاثرات لئے اور واپسی کا سفر شروع کر دیا اور طور خم پہنچنے کے لئے گدھے  پر سوار ہو کر بیس منٹ کا ہی سفر باقی تھا کہ گدھے کے بے قابو ہو جانے کی وجہ سے طالبان کے ہاتھوں پکڑ لی گئی ۔صفحہ ۸۔

یو آنے ریڈلے نے بہادری کی ایک مثال قائم کر دی  ایسے مصائب اور مشکلات کہ کہیں زندگی اور موت سے بھی لڑنا پڑا ۔وہیں ان سارے واقعات کو کیا ہی خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے ،ہر واقعہ قاری پر اپنی پکڑ مضطوط بنائے رکھتا ہے واقعات میں تسلسل اور روانی ہے اور کسی کو سمجھنے میں دشواری نہیں ہوتی ،چند واقعات کو ایسے پیش کیا ہے بظاہر اُن کی ہماری زندگیوں میں کوئی اہمیت نہیں ہوتی لیکن موصوفہ کی پیشکش اتنی خوبصورت کہ اس واقعہ کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے بلکہ وہ واقعہ کتاب میں اہم بھی بن جاتا ہے ۔ چند واقعات ایسے بھی ہیں کہ واقعہ کے اختتام کے بعد قاری کے اندر ایک تڑپ اور تجسس پیدا ہوتا ہے کہ کاش اس کے بعد ہمیں معلوم ہوتا کہ پھر کیا ہوا ۔ یہی ایک قلم کار کی میرے خیال میں کامیابی ہوتی ہے ۔ اور ریڈلے ( مریم ) ایک صحافی کے ساتھ ساتھ ایک قلم کار کی حیثیت سے بھی کامیاب ہیں وہیں ترجمہ کار نے بھی خوب حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے کہیں کہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ کتاب اُردو ترجمہ شُدہ کتاب نہیں ہے بلکہ اُردو میں ہی لکھی گئی ہے ۔

چونکہ نائن الیون کے بعد سے امریکہ نے افغانستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کی ٹھان ہی لی تھی اور ساتھ میں اسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ حاصل کرنا اُس کا عین مقصد بن گیا تھا ۔اسلامہ بن دلان پر راست الزام امریکہ کی اور سے یہی لگایا گیا تھا کہ اسی نے 9/11کا حملہ کراوایا ہے اور یہ دنیا کا خونخوار ترین دہشت گرد ہے ۔اسی سلسلے میں باب دوم میں ریڈلے لکھتی ہیں کہ ’’حامد نے کہا کہ ملاقاتیں کرنے والے علماء کا تاثر یہ ہے کہ بن لادن ایک کامل درجے کا مومن ہے ۔نہایت متقی اور پرہیز گارآدمی ہے جس نے مغرب کی طرف پیٹھ موڑ لی ہے ۔میں یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ جارج بُش یا ٹونی بلیر اس سے اتفاق کریں گے لیکن میں اس پُر عزم نوجوان کی باتیں بڑی توجہ سے سُنتی رہی ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے کارروائیوں کی دھمکیوں کی وجہ سے سخت پریشان ہیں اور اس الزام کو قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد قرار دیا کہ یہ دارلعلوم متعصب اور دہشت گرد تیار کرنے کے لئے چلایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے طالبِ علم نظم و ضبط کے خو گر ہیں دینی تعلیم کے سوا کسی چیز سے دلچسپی نہیں رکھتے ،یہاں کوئی ہتھیار نہیں ہیں حتیٰ کہ چاقو تک نہیں ہیں ۔انہوں نے امریکہ کے اس الزام کی سختی سے تردید کی کہ ۱۱/ ستمبر کے حملوں کے پیچھے اسامہ بن لادن کا ذہن یا ہاتھ کار فرما ہے ۔انہوں نے اس واقع کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس سے اتنی ہی نفرت کا اظہار کیا جتنی کہ مغرب کے لوگ کرتے ہیں ، میں نے پاکستان میں جتنے لوگوں سے اس معاملے میں گفتگو کی وہ ان وحشت ناک واقعات کو نرم سے نرم الفاظ میں بھی ایک سانحہ کہہ رہے ہیں ۔صفحہ 44۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیاں ایک مشہور دردہ ہے جسے درہ خیبر کہتے ہیں ،یہ دردہ ہزاروں سالوں سے دنیا کی تاریخ سازی کرنے میں مشہور ہے ۔کہتے ہیں کہ اسی درے سے منشیات اور دیگر قیمتی اشیاء کی سمگلنگ بھی اسی دَرے کے راستوں میں سے ہی ہوتی رہتی تھی ۔اسی دَرے لے متعلق مصنفہ لکھتی ہیں کہ ’’فوجی نقطہ نظر سے یہ اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی جبر الٹرا اور نہر سویز کی تزویری (strategic)اہمیت ہے کیوں کہ یہ پاکستان کی شمالی سرحد کو افغانستان سے ملاتا ہے ۔طالبان کے خوفناک فائیٹر اور اسلامہ بن لادن اس کے ہر موڑ ،ہر گوشے ہر درز اور ہر سوراخ سے واقف ہیں ،لیکن اجنبیوں کے لئے اس کے بل کھاتے ہوئے راستوں میں قدم قدم پر خطرات پوشیدہ ہیں ۔ان راہوں سے ناواقفیت موت کا پھندہ بن سکتی ہے ۔یہ دَرہ بر صغیر ہند پر شمال مغرب کی طرف سے آنے والے حملہ آوروں کا گیٹ وے رہا ہے اور اس کی طویل تاریخ خون ریز داستانوں اور چیرہ دستیوں سے عبارت رہی ہے ۔صفحہ 74.

چونکہ مصنف موصوفہ نے تین شادیاں کی تھیں ،اور اس کی ایک بیٹی تھی ،وہیں جب طالبان نے رڈلے کو قیدکر لیا تو دس دن کی قید میں مختلف قسم کے واقعات رونما ہوئے ۔دس دن کی قید کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو بھی خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے ۔از راہِ تفنن ایک واقعہ پیش کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ’’میں نے اپنا سامان نکالنا شروع کیا ،تو اُن میں سے ایک نے حیرت کا ظہار کرتے ہوئے پوچھا ،ارے تجھے شادی کا ڈریس خریدنے کی کیا ضرورت ہڑ گئی تھی۔میں نے سفید شفون اور گولڈن ڈریس کی طرف دیکھا تو میری بھی ہنسی چھوٹ گئی۔میں نے ایک مُلا کی کہانی سُنائی جس نے مجھے مسلمان بنانے کی پیشکش کی تھی ،میں نے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ اگر میں مان جاتی تو اُنہوں نے میرے لئے شوہر بھی تیار کیا ہوتا۔میں نے مزید کہا کہ ،میرے نہ ماننے کی وجہ سے اس بدقسمت ملک کا کوئی بے چارہ خاوند بال بال بچ نکلا ورنہ میرے ہاتھوں اس کی شامت آ جاتی ۔صفحہ 198۔

دس دن کی قید ایک ایسی قید جس کا بھروسہ نہیں تھا کہ کب کیاہوگا ، اور اسے دن جب امریکہ نے افغانستان پر بم ور باردو کی بارش برسانا شروع کر دی تھی ،وہیں دنیا نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ کس طرح سے ہزاروں ٹن بارود برسا نے کے بعد بھی افغانی اُسی طرح زندہ ہیں جس طرح آج سے تیس سال تھے ۔ موصوفہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا تھا کہ اس کو طالبان مار کر ہی واپس گھر بھیجنے چاہئے ،تاکہ ان کے خلاف دنیا کا ماحول مذید مخالف ہو جائے اور افغانوں کو نیست و نابود کرنے کا کھلاجواز پیدا ہو ۔لیکن امریکہ کی خواہش پوری نہیں ہوئی اور اُلٹا اس نے مغربی تہذیب کے خلاف ہی کام کرنا شروع کر دیا ۔دورآن قید موصوفہ سب سے زیادہ اسی سے متاثر ہوئی کہ افغانوں نے کسی بھی قسم کی زیادتی نہیں کی ،چونکہ دنیا کے مغربی ممالک میں اکثر خواتین قیدیوں کو وہاں قید خانوں میں اجتماعی درندگی کا شکار بنا دیا جاتا ہے ،بلکہ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ہمارے سامنے بگرام ، اُبو غریب اور یگر امریکی جیلوں کی مثالیں ہیں کہ یہ وحشی کس طرح سے وحیشیت کی تمام حدوں کو انسانی حقوق اور امن کے نام پر پار کرتے ہیں ۔مغرب کی اسی تہذب پر کاری ضرب مارتے ہوئے موصوفہ نے ایک جگہ دو تہذیبوں کا اصل فرق عنوان کے تحت لکھا ہے کہ ’’ان دلچسپ حکایتوں کے ماحول اور دس دن طالبان کی طرف سے انتہائی احترام اور پُر شفقت برتاو سے ہونے والی میری خوشی اُس وقت غارت ہو کر رہ گئی جب میں لندن میں ایک سیاہ کیب میں سوار ہوئی ۔اس کے ڈرائیور نے جو  ’’ایسٹ  اینڈ‘‘ کا رہنے والا تھا ،اخبارات میں چھپنے والی تصاویر کی وجہ سے مجھے پہچان لیا ۔اوربولا ’’ کیا تم وہی چڑیا ہوجسے طالبان نے اپنے پنجرے میں بند کر دیا تھا ؟‘‘ میں نے ہاں میں سر ہلایاتو اُس نے کہا ۔‘‘تو کیا اُنہوں نے تمہارے ساتھ جنسی فعل کیا ؟‘‘میں نے نفی میں سر ہلایاتو وہ بولا ۔’’مجھے بالکل یقین نہیں آتا ۔اگر میں وہاں ہوتا تو تجھے بھنبھوڑ کر رکھ دیتا۔‘‘ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا ،میرے خیال وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ میرے حسن کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔مہذب دنیا میں واپسی خوش آمدید ،یو آنے ۔۔۔۔۔میں سوچتی رہ گئی ،یہ تھا فرق دونوں تہذیوں میں ۔268۔

اسی طرح سے اپنی کتاب کے آخری صفحات میں لکھتی ہیں کہ ’’ میں نے بھی جو وعدہ کیا تھا ،میں اس پر سختی سے قائم ہوں ۔میں نے طالبان کے ایک عالم سے جس نے مجھ سے پوچھا تھا کہ میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں وعدہ کیا تھا کہ میں لندن واپس جا کر مذہبِ اسلام کا مطالعہ کر کے کوئی فیصلہ کروں گی ۔طالبان نے اپنا وعدہ پورا کیا اور میں اپنا وعدہ پورا کر کے دکھائوں گی ۔صفحہ 268۔ اور اخر کا اپنا وعدہ کرتے ہوئے مسلسل دو تین سال رہائی کے بعد اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے 30/جون 2003ء کو ساڑھے گیارہ بجے دن اپنے بزنس پارٹنر عمرآن خان کے ہاتھوں اسلام قبول کر لیا ۔

الغرض مغربی میڈیا نے جس کو ایک سازش ک تحت مسلم دنیا اور خصوصاً طالبان کو بدنام کرنے کے لئے افغانستان بھیجا تھا کچھ ایسا ہوا کہ وہ اس کی زد میں اُلٹی مغربی تہذیب ہی آ گئی اتنا ہی نہیں عیسائی سے مسلمان بن کر نام بھی’’ مریم‘‘ رکھ لیا ۔اللہ اکبر ۔مزکورہ کتاب کچھ ایسے ہی ہوش رُبا واقعات کا خزانہ ہے کہ عالمی طاقتیں خصوصاً امریکہ جب کسی کو مارنا چاہتے ہیں پہلے اُسے بدنام کرتے ہیں ایک انگریزی مقولہ کے عین مطابق Give dog a bad name and kill him کسی قوم اور معاشرے کو اتنا زیادہ بدنام اور گنہگار بنا کے پیش کیا جاتا ہے کبھی کبھی اُن مظلوموں کو اپنے مظلوم ہونے پر بھی شک ہی ہونے لگتا ہے ،اور ریڈے (مریم ) نے اسی مغرب کے چہرے سے امن ،انسانی حقوق اور  نام نہاد جمہورت کا پُرفریب ماسک اُتار پھنکنے کی خوب کوشش کی ہے ۔کتاب مجموعی طور املا کی غلطیوں سے پاک ہی ہے ،سرورق دردہ ذیب ہے ۔کتاب کی قیمت زرا، زیادہ معلوم ہوتی ہے ،تاہم اپ آن لائن گھر بیٹھے بھی یہ کتاب رعایتی قیمت پر حاصل کر سکتے ہیں ،میں چاہتا ہوں کہ اگر نوجوان نسل اس کتاب کو پڑھتے ہیں تو اُنہیں ایک اندازہ ہو جائے گاکہ مغرب کیسے اسلام دشمنی میں کس حد تک گر گیا ہے اور جب جب ضرورت پڑی اس نے عالم اسلام پر ضرب ہی ماری ہے۔ رابطہ :۔ 7006715103



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!