Ad
افسانہ

بکھرے ارمان..... افسانہ

✍️:. عبدالرشید سرشار 


شوکت: "رضیہ...رضیہ... سنائی نہیں دیا کیا؟"

​رضیہ: "جی، وہ میں آپ کے لیے لڈو باندھ رہی تھی۔ ممی جی کہہ رہی تھیں کہ آپ کو لڈو بہت پسند ہیں۔"

​شوکت: "پاگل ہو کیا... میں وہاں لڈو کھانے جا رہا ہوں؟ لڈو کھانے سے میرا کام بننے والا نہیں ہے، کام بنے گا ان فائلوں سے جو تم نے ابھی تک میرے بیگ میں نہیں رکھی ہیں۔"

​رضیہ: "اوہ، آئی ایم سوری... آپ کے لیے لڈو بنانے میں لگی تھی صبح سے۔"

​رضیہ بولتے ہوئے رونے لگی۔

​شوکت: "اوہ میڈم جی، اب گنگا جمنا مت بہاؤ... مجھے دیر ہو رہی ہے... فائل نکال کر دو۔"

​رضیہ نے روتے ہوئے فائل نکالی اور بیگ میں رکھ دی۔ رضیہ لڈو کا ڈبہ بھی بیگ میں رکھنے لگی تبھی شوکت نے اس کے ہاتھ سے ڈبہ چھین لیا۔ ڈبہ چھینتے وقت ہاتھ سے چھوٹ گیا اور زمین پر لڈو بکھر گئے۔

​پورے کمرے کے فرش پر بیسن کے لڈو بکھر گئے۔

​شوکت: "یہ لو...۔۔۔ ہو گیا ستیاناس... کر دی نا میری ماں کی محنت بیکار... لو ہو گیا کام، تمہیں تو چین ہی نہیں آتا جب تک تو ہم دونوں کی ناک میں دم نہ کر دے۔"

​رضیہ: "لیکن لڈو تو میں نے بنائے تھے۔"

​شوکت: "ہاں وہی تو میں سوچ رہا تھا کہ تو اب تک چپ کیوں ہے؟

  میری بیوی تو بھوکی رہ سکتی ہے لیکن زبان لڑائے بغیر نہیں رہ سکتی... کیا ضرورت ہے جواب دینے کی؟

 مجھے پتہ ہے لڈو تم نے ہی بنائے ہیں لیکن میری ماں تمہارے آگے پیچھے گھوم گھوم کر کہتی ہے لڈو بنا دو، لڈو بنا دو... 

وہ محنت ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ تھوڑی دیر کھڑے ہو کر لڈو بنا دیے تو پتہ نہیں کون سا تیر مار دیا... چلیے اب اسے صاف کیجیے۔"

​رضیہ بنا کچھ جواب دیے باہر جانے لگی۔

​شوکت: "کہاں.... کہاں جا رہی ہو ؟"

​رضیہ: "وہ میں کچن سے پوچھا لینے جا رہی ہوں۔"

​شوکت نے بیڈ پر رکھا رضیہ کا دوپٹہ فرش پر پھینکتے ہوئے کہا: 

"اس سے صاف کرو... 

اب کچن میں جائیں گی... پھر آئیں گی اور صاف کریں گی... تب تک میں یہاں کھڑا رہوں گا کیا؟

 میرے جوتے بھی صاف کر دینا۔"

​رضیہ: "یہ میرا دوپٹہ ہے۔"

​شوکت: "تو صاف نہیں ہو سکتا کیا اس سے؟"

​رضیہ بیچاری پریشان ہو گئی۔ اس کی آنکھیں نم تھیں۔ جوتے صاف ہونے کے بعد شوکت کمرے سے باہر نکلا اور اپنی ماں صفیہ کے گلے لگ گیا اور پھر اپنے والد قادر کو سلام کر کے نیچے گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔ 

آج شوکت بزنس ٹرپ پر ایک ہفتے کے لیے باہر جا رہا تھا۔ رضیہ شوکت کو کھڑکی سے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ شوکت نے رضیہ سے ملنا تو دور، کھڑکی کی طرف دیکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔

​رضیہ کھڑکی سے دیکھتے دیکھتے نہ جانے کب ان دنوں میں کھو گئی جب وہ ایک چنچل لڑکی ہوا کرتی تھی۔

رضیہ اور عابدہ کے بارھویں کے فائنل ایگزام چل رہے تھے اور دونوں سہیلیاں امتحان دینے کے لیے جا رہی تھیں۔

​عابدہ: "یار مزہ آئے گا... بس دو پرچے اور، اس کے بعد ہم اس اسکول سے آزاد۔"

​رضیہ: "ہم، آزاد تو ہم ہو جائیں گے لیکن جدا بھی تو ہو جائیں گے۔"

​عابدہ: "تو پاگل ہے کیا... ہم دونوں تو کبھی جدا ہو ہی نہیں سکتے۔"

​رضیہ: "لڑکیوں کو دیکھا تھا کیسے رو رہی تھیں الوداعی پارٹی میں؟"

​عابدہ: "ارے یہ سب تو ایک ڈرامہ ہے... تیرا میرا گھر پاس، پھر کیوں رہیں ہم اداس۔"

​رضیہ: "صحیح کہا ڈیئر... چل اب اسکول آ گیا بعد میں بات کریں گے۔"

​رضیہ اور عابدہ امتحان ہال میں چلی جاتی ہیں۔ تین گھنٹے کے امتحان کے بعد شام پانچ بجے پھر ملتی ہیں۔

​عابدہ: "امتحان کیسا رہا؟"

​رضیہ: "بہت اچھا تھا... ویسے اس وقت جب امتحان دے کر گھر جاتے ہیں تو کتنا اچھا لگتا ہے... سورج ڈھلنے کو ہوتا ہے... دھوپ بھی نہیں رہتی... بہت پیارا لگتا ہے۔"

​عابدہ: "ویسے تو نے کیا سوچا ہے بارھویں کے بعد؟"

​رضیہ: "بی کام اور اس کے بعد ایم بی اے... پھر بڑھیا سی جاب۔"

​رضیہ ابھی  تک سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اچانک صفیہ کی آواز آئی۔

​صفیہ: "اے بہو... تو کب تک اس کھڑکی سے آگے دیکھتی رہو گی... 

میرا بیٹا تو سرینگر پہنچ بھی گیا ہوگا۔"

​رضیہ: "ممی جی آپ کو کچھ کام تھا؟"

​صفیہ: "نہیں، کیوں ہم تمہارے پاس نہیں آ سکتے کیا؟ 

یہی تو پریشانی ہے..."

حالسیڈار ویریناگ



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!