افسانہ
پلہور....... افسانہ

شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اور کشمیر کی وادیوں میں پڑی برف کی سفید چادر کانوں کی لؤوں کو سرخ کر رہی تھی۔ بوڑھے رحیم کاکا نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے کھڑکی کا پٹ بند کیا، لیکن باہر کی ٹھنڈک سے زیادہ اسے اپنے اندر کی وہ خاموشی ڈرا رہی تھی جو مشینوں نے پیدا کر دی تھی۔
اس نے کونے میں پڑے اس پرانی لکڑی کے صندوق کو دیکھا اور ایک سرد آہ بھری۔ آج کی نسل کے لیے وہ صرف ایک کباڑخانہ تھا، مگر رحیم کاکا کے لیے وہ اس پرشکوہ تہذیب کا مدفن تھا جسے اب لوگ "متروک" کہتے ہیں۔
"دادا! آپ اس اندھیرے میں کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟"
اس کے پوتے معظم علی نے موبائل کی روشنی اس کے چہرے پر ڈالتے ہوئے پوچھا۔
رحیم کاکا مسکرایا، ایک ایسی مسکراہٹ جس میں کرب چھپا تھا۔
"نور نظر، میں وہ 'شان' ڈھونڈ رہا ہوں جو اب کسی شو روم میں نہیں بکتی۔ میں پلہور ڈھونڈ رہا ہوں۔"
"پلہور؟ یہ کیا ہوتا ہے؟"
معظم علی کا سوال ایک خنجر کی طرح بوڑھے کے سینے میں اترا۔ اسے یاد آیا کہ ایک زمانہ تھا جب کشمیر کی سردیاں پلہور کے بغیر ناممکن تھیں۔
وہ یادوں کی وادی میں اترتا چلا گیا۔ اسے یاد آیا کہ جب آسمان سے روئی کے گالوں کی طرح برف گرتی تھی اور زمین شیشے کی طرح پھسلن زدہ ہو جاتی تھی، تب یہی گھاس پھونس سے بنی جوتیاں انسان کا واحد سہارا ہوتی تھیں۔ وہ دن جب پیسہ نا تھا لیکن جفاکشی عروج پر تھی۔
"بیٹا!" رحیم کاکا نے گویا ایک داستان شروع کی۔
"یہ صرف جوتا نہیں تھا، یہ ہماری اپنی زمین کا تحفہ تھا۔ ہم دھان کی گھاس سے لمبی رسیاں بنتے، پھر ان رسیوں کو اپنے پیروں کے ناپ کے مطابق جالی دار شکل دیتے۔ جب ہم ان پلہوروں کو پہن کر، ان میں اونی کپڑے کے چیتھڑے ٹھونس کر اور گھاس کے تسموں کو باندھ لیتے تھے، تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہمیں دنیا کی سرداری مل گئی ہو۔"
اس نے ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں موند لیں۔ اسے اب بھی وہ منظر یاد تھا جب وہ پلہور پہن کر قد آدم برف ہٹاتا تھا، مسجدوں اور چشموں کے راستے صاف کرتا تھا۔
"تمہاری ان مہنگی گاڑیوں کے ٹائروں میں جو زنجیریں آج لگتی ہیں نا، اس کا متبادل پلہور ہم اپنے پیروں میں پہنتے تھے۔ پلہور پہن کر برف پر چلنا ایسا تھا جیسے زمین پر گرفت مضبوط ہو گئی ہو۔ نہ پھسلنے کا ڈر، نہ پیروں میں برف چپکنے کا خوف۔"
پوتے نے حیرت سے پوچھا، "اور دادی؟ کیا وہ بھی یہی پہنتی تھیں؟"
رحیم کاکا کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
"تمہاری دادی کے لیے میں اپنی جان قربان کرتا تھا،
'اس کے مزاج اور ذوق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نفیس چپل ان ہاتھوں سے بناتا جس کو"ژکر" کہتے تھے۔ ہلکی اور نفیس بالکل تمہاری دادی کی طرح نازک۔
ہمارے سماج میں گھاس کے ان جوتوں میں بھی مرد و زن کا لحاظ رکھا جاتا تھا۔
جب شام کو ہم تھک ہار کر گھر لوٹتے، تو ان پلہوروں کو روایتی چولہے (دان) کے پاس رکھ دیتے تاکہ وہ سوکھ جائیں اور اگلے دن کے لیے تیار ہو سکیں۔"
بوڑھے کا لہجہ اچانک تلخ ہو گیا۔ "پھر سائنسی ایجادات کا جن آیا۔ صنعتی انقلاب نے ہمیں پلاسٹک اور ربڑ تو دے دیا، لیکن وہ گرمجوشی چھین لی جو اس گھاس میں چھپی تھی۔ پلہور آدھے گھنٹے میں تیار ہو جاتا تھا اور مہینہ بھر پیروں کی حفاظت کرتا تھا۔ لیکن اب؟ اب نہ وہ ہاتھ رہے جو اسے بنتے تھے، نہ وہ پاؤں جو اسے پہن کر برف کا سینہ چاک کرتے تھے۔"
رحیم کاکا نے صندوق سے گھاس کا ایک بوسیدہ ٹکڑا نکالا۔ یہ پلہور کا آخری نشان تھا۔ "بیٹا، یہ ڈائناسور کی طرح غائب نہیں ہوا، اسے ہماری مصلحتوں اور 'جدت' نے قتل کیا ہے۔ آج کی چمکدار دکانوں میں تمہیں سب کچھ ملے گا، لیکن وہ 'پتج' (گھاس کی چٹائی) اور وہ 'پلہور' نہیں ملے گا جو غریب کشمیری کی غیرت اور ثقافت کا آئینہ دار تھا۔"
باہر برف باری تیز ہو چکی تھی۔ رحیم کاکا نے وہ پلہور اپنے پیروں میں لگانے کی کوشش کی،افسوس وہ اتنا بوسیدہ ہوچکا تھا کہ ہاتھ لگاتے ہی تنکوں کی طرح بکھر گیا۔ کاش وہ اسے ایک بار پھر سے اپنے پیروں میں پہن لیتا۔۔۔۔۔۔
حالسیڈار ویریناگ
7006146071