ادب
نظم :.... فریاد

✍️
سولی پہ چڑھا کر ہنستے ہیں، کیا جان ہماری سستی ہے
یہ کیسا زمانہ آیا ہے، ہر گام پہ طاقت ڈستی ہے
-----------------------------------------------------
یہ حال ہوا ہے دنیا کا، بے حال کہیں تو بہتر ہے
ہر اور یہاں پر ماتم ہے، ہر اور یہاں پر پستی ہے
----------------------------------------------------
دو وقت کی روٹی کو اکثر، کچھ لوگ ترستے رہتے ہیں
کچھ لوگ نرالے ایسے ہیں، ہر شام میں جن کی مستی ہے
----------------------------------------------------
آرام نہیں ملتا اک پل، بے چین ہیں جو دل رکھتے ہیں
بے دل بھی یہیں پر رہتے ہیں، ایسی ہی عجب یہ بستی ہے
-----------------------------------------------------
کچھ خواب دکھاۓ جائیں گے، کچھ باتیں بنائی جائیں گی
باطل کی زباں جو ہے شیریں، ایسے ہی شکنجہ کستی ہے
-----------------------------------------------------
دکھ درد بتائیں ہم کس کو، ہم آس لگائیں کس در سے
اک نام میں یا رب بس تیرے، امید ہماری بستی ہے
------------------------------------------------------
جب یاس کا عالم طاری ہو ، تب تیری ہی جانب آتے ہیں
جو نار کو گلشن کرتا ہے، یا الّلہ تو وہ ہستی ہے