Ad
ادب

نظم :.... فریاد

✍️

:. ڈاکٹر ارشد عبداللّہ /


عشیار


سولی پہ چڑھا کر ہنستے ہیں، کیا جان ہماری سستی ہے

یہ کیسا زمانہ آیا ہے، ہر گام  پہ طاقت ڈستی ہے

-----------------------------------------------------

یہ حال ہوا ہے دنیا کا، بے حال  کہیں تو بہتر ہے

ہر اور  یہاں پر ماتم ہے، ہر اور یہاں پر پستی ہے

----------------------------------------------------

دو وقت کی روٹی کو اکثر، کچھ لوگ ترستے رہتے ہیں

کچھ لوگ نرالے ایسے ہیں، ہر شام میں جن کی مستی ہے

----------------------------------------------------

آرام نہیں ملتا اک  پل، بے چین  ہیں  جو دل رکھتے ہیں

بے دل بھی یہیں  پر رہتے  ہیں، ایسی ہی عجب یہ بستی ہے

-----------------------------------------------------

کچھ خواب دکھاۓ جائیں گے، کچھ باتیں بنائی جائیں گی

باطل کی زباں   جو ہے شیریں، ایسے  ہی شکنجہ کستی ہے

-----------------------------------------------------

دکھ درد  بتائیں ہم کس کو، ہم آس لگائیں کس در سے

اک نام  میں  یا رب  بس  تیرے، امید ہماری  بستی ہے

------------------------------------------------------

جب یاس کا عالم  طاری ہو ، تب تیری ہی جانب آتے ہیں

جو  نار کو گلشن کرتا ہے، یا الّلہ تو وہ ہستی ہے



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!