Ad
افسانہ

خوابوں کا خراج....... افسانہ

✍️:. عبدالرشید سرشار 


​کریم صوفی کی دکان پر لگی محفل برخواست ہو چکی تھی، لیکن وہاں سے اڑنے والی خبر غفار چچا کے پلو سے لپٹ گئی ۔ وہ لاٹھی ٹیکتے،ہانپتے کانپتے  فیاض کے گھر پہنچے اور دونوں بازو پھیلا کر اسے گلے لگایا۔

​"فیاض بیٹا، بہت بہت مبارک ہو! تم نے تو میرا سر فخر سے بلند کر دیا!"

​فیاض، جو ایم ،بی ،اے کی ممتاز ڈگری میں گم تھا، چچا کی اس اچانک آمد اور مبارکباد پر ہکا بکا رہ گیا۔ "لیکن چچا، مبارکباد کس بات کی؟"

​"ارے میاں، ہم سے کیا چھپانا؟ میں کوئی پرایا تھوڑا ہوں؟ تمہارے ابا اور میں تایا زاد بھائی تھے۔ کریم صوفی کی دکان پر تو چرچے ہیں کہ عبدالرحمن کا بیٹا" فائنانسر" بن گیا ہے۔ لاکھوں کے مجمعے میں تم چنے گئے ہو۔" غفار چچا کی آنکھوں میں سچی خوشی تھی۔

​فیاض کے لبوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آئی، جس میں طنز بھی تھا اور دکھ بھی۔

 "چچا! ان لوگوں نے آپ کو سادہ لوح سمجھ کر مذاق کیا ہے۔ میں کوئی بڑا افسر نہیں بنا، بس دس لاکھ امیدواروں میں سے ان چند سو لڑکوں میں شامل ہوا ہوں جنہیں" فائینانشل اکاؤنٹس اسسٹنٹ"کے امتحان کے لیے بلایا گیا ہے۔ ابھی منزل بہت دور ہے۔"

​غفار چچا کا جوش کچھ ٹھنڈا ہوا، مگر حیرت بڑھ گئی۔

 "دس لاکھ؟ ایک چھوٹی سی نوکری کے لیے؟"

​فیاض نے ایک سرد آہ بھری۔ "جی چچا! یہ وہ سمندر ہے جس میں پی ایچ ڈی، نیٹ پاس اور انجینئرز تک غوطے کھا رہے ہیں۔ چھ سو نشستوں کے لیے دس لاکھ سے زیادہ فارم بھرے گئے تھے۔ سرکار نے فی امیدوار چھ سو روپے فیس رکھی، گویا بے روزگاروں کی جیب سے کروڑوں روپے تو پہلے ہی سرکاری خزانے میں جمع ہو گئے۔ اب ایک کرسی کے لیے 180 امیدواروں کی دوڑ لگی ہے۔"

​غفار چچا، جنہوں نے ساٹھ کی دہائی میں آٹھویں جماعت پاس کی تھی اور اپنا چھوٹا موٹا کام کر کے عزت سے زندگی گزاری تھی، اس" جدید حساب کتاب"پر دنگ رہ گئے۔ وہ اپنے پرانے فلپس ریڈیو پر دنیا بھر کی معیشت، سیاست اور اقتصادیات کی خبریں بڑے شوق سے سنتے تھے، مگر اپنے ہی آنگن میں اُگنے والی اس بے روزگاری کی فصل کی تلخی کا اندازہ انہیں آج ہوا۔

​"بیٹا!" غفار چچا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ 

"ہماری سرزمین تو سونا اگلتی ہے، پھر یہاں کے پڑھے لکھے نوجوان در در کی ٹھوکریں کیوں کھا رہے ہیں؟"

​فیاض کی آواز میں کرب اتر آیا۔

 "چچا، یہ ممبئی یا حیدرآباد نہیں ہے جہاں پرائیویٹ سیکٹر کے دروازے کھلے ہوں۔ یہاں صرف سرکار کی چوکھٹ ہے اور اس چوکھٹ پر ماتھا رگڑنے والوں کی قطار میلوں لمبی ہے۔ ہم جیسے ڈگری یافتہ جب سالہا سال کمروں میں بند ہو کر 12، 12 گھنٹے کتابیں چاٹتے ہیں اور پھر بھی ناکامی ہاتھ لگتی ہے، تو ذہن سن ہو جاتے ہیں۔"

​اس نے کھڑکی سے باہر ویران گلی کی طرف دیکھا اور کہا،

 "ڈر لگتا ہے چچا! کہ یہ اعلیٰ دماغ، یہ گولڈ میڈل اور یہ ڈگریوں کے انبار ایک دن تھک ہار کر نشے کی پناہ نہ لے لیں۔ جب معاشرہ ہنر مند ہاتھوں کو کام نہیں دیتا، تو وہ ہاتھ خود اپنے ہی گلے کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔"

​غفار چچا خاموش ہو گئے۔ ان کے ذہن میں اپنے دور کا وہ مڈل سکول گھوم گیا جہاں آٹھویں پاس کر لینا بھی معتبر ہونے کی ضمانت تھی۔ آج ایم، بی ،اے کی ڈگری ایک" اسسٹنٹ" کی نوکری کے لیے ایڑیاں رگڑ رہی ہے۔

​فیاض نے دوبارہ کتاب اٹھا لی، لیکن لفظ اسے دھندلے نظر آ رہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ انٹرویو کی تیاری نہیں کر رہا ہے، بلکہ اپنی زندگی کے بہترین سالوں کا سودا کرنے کی ایک اور ناکام کوشش کر رہا ہے۔ باہر غفار چچا لاٹھی ٹیکتے ہوئے واپس جا رہے تھے، اور فیاض کو یوں لگا جیسے اس کے خوابوں کا جنازہ اس بوڑھے نے کندھے پر اٹھایا ہو۔

حالسیڈار ویریناگ 

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!