Ad
مضامین

تلخ بصیرت:. خواب، تقدیر اور قبولیت کا کربناک مکالمہ

✍️:. اِکز اقبال /سہی پورا، قاضی آباد، کشمیر


انسان جب خواب دیکھتا ہے تو وہ صرف مستقبل کا نقشہ نہیں بناتا۔ وہ اپنی ذات کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ بھی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ امید، یقین اور اس خوش فہمی پر قائم ہوتا ہے کہ زندگی ہماری مرضی کے مطابق چلے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نیت صاف ہو، محنت پوری ہو اور دعا زبان پر ہو تو انجام بھی ویسا ہی نکلے گا جیسا ہم نے سوچ رکھا ہے۔ مگر زندگی، یا یوں کہیے کہ مقدر، اس خوش فہمی کو زیادہ دیر قائم نہیں رہنے دیتا۔

یہ حقیقت ماننے میں عمر لگ جاتی ہے کہ زندگی ہمارے خوابوں کی تصدیق کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ ہماری غلط فہمیوں کی اصلاح کے لیے ہوتی ہے۔ جن خوابوں کو ہم حق سمجھ کر سینے سے لگائے رکھتے ہیں، وہی خواب وقت کی عدالت میں سب سے پہلے مسترد ہو جاتے ہیں۔ اس مستردگی کے ساتھ کوئی اعلان نہیں ہوتا، کوئی وضاحت نہیں ملتی۔ بس ایک خاموش فیصلہ ہوتا ہے، جس کے بعد انسان کو خود ہی اپنے زخموں کی تعبیر کرنی پڑتی ہے۔

ٹوٹنے کے بعد پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ مقدر کی ایک الگ رائے ہے، جو ہمارے خوابوں سے میل نہیں کھاتی۔ یہ محض ایک ادبی فقرہ نہیں، بلکہ انسانی تجربے کا نچوڑ ہے۔ یہ سچ ٹوٹے دلوں، بکھرے منصوبوں اور خاموش آنکھوں میں لکھا ہوتا ہے۔ خواب کی حالت میں انسان تقدیر کو ہاں میں ہاں ملانے والا سمجھتا ہے۔ خواب ٹوٹتے ہی تقدیر اپنی اصل شکل میں سامنے آتی ہے۔ خاموش، سخت، مگر کسی حد تک دانا۔

ہماری زندگیوں کا بڑا المیہ ناکامی نہیں، بلکہ ناکامی کے امکان سے انکار ہے۔ ہم نے کامیابی کو حق اور شکست کو ذلت سمجھ لیا ہے۔ اسی لیے نقصان پر دکھ سے زیادہ حیرت ہوتی ہے۔ یہ میرے ساتھ کیسے ہو گیا؟ شاید اس لیے کہ ہم نے خود سے کبھی یہ سوال نہیں کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو کیا ہوگا۔

ٹوٹنا ایک لمحے میں نہیں ہوتا۔ یہ آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ پہلے خواب میں دراڑ پڑتی ہے۔ پھر یقین متزلزل ہوتا ہے۔ پھر حوصلہ ڈگمگاتا ہے۔ آخرکار انسان خود اپنے سامنے ٹوٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس مرحلے پر سب سے خطرناک شے شکوہ ہے۔ خدا سے، حالات سے، لوگوں سے، اور کبھی خود سے بھی۔

مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں شعور جنم لیتا ہے۔ ٹوٹنے کے بعد انسان سمجھتا ہے کہ خواب ہمیشہ سچ نہیں ہوتے، اور سچ ہمیشہ خواب جیسا خوبصورت نہیں ہوتا۔ مگر وہ زیادہ حقیقی ہوتا ہے۔ تقدیر ہمیں وہ نہیں دیتی جو ہم مانگتے ہیں۔ وہ وہی دیتی ہے جس کے لیے ہم تیار ہوتے ہیں، چاہے ہمیں اس تیاری کا ادراک ہو یا نہ ہو۔

اسی مقام پر مقدر اپنی الگ رائے سامنے رکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے۔ تم نے جو چاہا، وہ تمہاری خواہش تھی۔ اور جو ملا، وہ تمہاری حقیقت تھی۔ یہ ماننا آسان نہیں، خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں ناکامی کو جرم اور ٹوٹنے والے کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ ہم صرف کامیاب لوگوں کی کہانیاں سنتے ہیں۔ شکست خوردہ انسانوں کے تجربات کو نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ زندگی کا اصل علم وہیں سے ملتا ہے۔

اکثر لوگ اپنی زندگی کے بڑے فیصلے خواہش پر کرتے ہیں، بصیرت پر نہیں۔ جو راستہ چمکتا دکھائی دیتا ہے، اسی پر چل پڑتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ یہ چمک مستقل ہے یا عارضی۔ مقدر اسی عارضی چمک کو بے نقاب کرتا ہے۔ وہ ہمیں روک کر کہتا ہے کہ یہ راستہ تمہارے لیے نہیں۔ مگر ہم اسے دشمن سمجھ لیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مقدر ہمارا مخالف نہیں، ہمارا آئینہ ہوتا ہے۔ وہ ہمیں وہ شکل دکھاتا ہے جو ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ وہ کمزوریاں جنہیں ہم ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ سچائیاں جو ہمارے بیانیے کو غلط ثابت کرتی ہیں۔ اسی لیے ٹوٹنا تکلیف دہ ہوتا ہے، کیونکہ یہ صرف خواب نہیں توڑتا، ہماری خود ساختہ شناخت بھی چھین لیتا ہے۔

ٹوٹنے کے بعد اگر کچھ بچتا ہے تو وہ عاجزی ہے۔ یہ مان لینے کی صلاحیت کہ ہم سب کچھ کنٹرول نہیں کر سکتے۔ کہ کچھ فیصلے ہماری مرضی کے بغیر بھی ہوتے ہیں، اور شاید بہتر ہوتے ہیں۔ ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کامیابی کی تعریف شور سے ہوتی ہے، اور ناکامی کو خاموشی میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ بچوں کو جیتنا سکھایا جاتا ہے، سنبھل کر ہارنا نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ٹھوکر کھا کر صرف گرتے نہیں، بکھر جاتے ہیں۔

ٹوٹنے کے بعد جو چیز بچا سکتی ہے وہ قبولیت ہے۔ یہ مان لینا کہ ہر خواب مقدر نہیں بنتا، اور ہر مقدر خواب جیسا نہیں ہوتا۔ یہ سمجھ لینا کہ کچھ دروازے اس لیے بند ہوتے ہیں تاکہ ہم کسی اور سمت دیکھ سکیں۔ مگر یہ سمجھ اکثر بہت دیر سے آتی ہے۔

کچھ لوگ ٹوٹنے کے بعد سخت ہو جاتے ہیں۔ کچھ گہرے۔ سخت لوگ زندگی سے بدلہ لیتے ہیں۔ گہرے لوگ زندگی کو سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی فرق انسان کو عام سے خاص بناتا ہے۔ اگر انسان خود سے یہ سوال پوچھ لے کہ میں نے اس شکست سے کیا سیکھا، تو وہی اس کی نجات بن جاتا ہے۔ اگر وہ یہی پوچھتا رہے کہ میرے ساتھ ہی کیوں، تو مقدر اگلا سبق بھی اسی لہجے میں دیتا ہے۔

ٹوٹنا دراصل انسان کا دوسرا تعارف ہے۔ پہلا تعارف خوابوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ دوسرا حقیقت کے ذریعے۔ اور اکثر دوسرا تعارف زیادہ سچا، زیادہ پائیدار اور زیادہ باوقار ہوتا ہے۔ زندگی ہمیں بار بار موقع دیتی ہے کہ ہم خود کو نئے سرے سے سمجھیں۔ مگر ہم پرانی تصویر پر اصرار کرتے ہیں۔ مقدر اسی ضد کو توڑنے آتا ہے۔

خواب دیکھنا جرم نہیں۔

مگر خوابوں کو مقدر سمجھ لینا فریب ہے۔

ٹوٹنے کے بعد جو سنبھل جاتا ہے، وہی اصل میں جیتا ہے۔ باقی لوگ خواہشوں کے ملبے میں اپنی ہی آوازیں ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں۔

مضمون نگار

پرنسپل، مریم میموریل انسٹیٹیوٹ، پنڈت پورا قاضی آباد

رابطہ

موبائل: 7006857283

ای میل: ikkzikbal@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!