Ad
افسانہ

انسانیت کی خوشبو......... افسانہ

✍:. عبدالرشید سرشار 


     دسمبر کا مہینہ تھا،​صبح کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔ شمالی ہندوستان میں سردی اور کہر  کا یہ عالم کہ دانت کڑ کڑ بج رہے تھے ہاتھ پاؤں گرم ملبوسات میں سورج کی طرح چھپنے کی کوشش کر رہے تھے. شالنی  کے پرسکون گھر میں اچانک وحشت کے سائے لہرانے لگے۔ شالنی اپنی نوکرانی بانی  کے ساتھ گھر کے روزمرہ کاموں میں مصروف تھی کہ ایک اجنبی شخص، جس کی آنکھوں میں لالچ اور ہاتھوں میں ہتھیار تھے، دہلیز پھلانگنے کی کوشش کرنے لگا۔

بھؤں بھؤں ​بھؤں:

 وفادار  کتے "کیٹی" نے خطرہ بھانپ لیا۔ وہ غصے سے دھاڑا اور چور پر جھپٹا، لیکن ہتھیار بند شخص نے  ڈنڈے اور اینٹ سے کتے کو لہولہان کر دیا اور آگے بڑھنے  لگا۔

    "کٹی، کٹی ،تجھے کیا ہوگیا"؟ شالنی نے  کتے کے بھونکنے  اور  شور مچانے پر زور زور سے کتے کو بلایا مگر کتا اپنے زخم چاٹ رہا تھا ۔

       بانی ذرا باہر دیکھو کیا ہوا،کتا کیوں بھونک رہا ہے؟

 بانی نے دروازے سے باہر قدم  رکھا ہی تھا کہ شائیں کی طرح ایک مضبوط اور آہنی تھپڑ  نے اسے بلبلا کر رکھ دیا۔

شالنی دیدی ڈاکو ۔۔۔۔۔۔

بچاؤ  بچاؤ بچاؤ 

قبل اس کے کہ شالنی کچھ سمجھتی  ڈاکو نے  آؤ دیکھا نہ تاؤ، شالنی کے سر پر وار کر دیا۔ چیختی ہوئی نوکرانی بچانے آئی تو وہ بھی اس کے غیظ و غضب کا نشانہ بنی۔

گلی میں شور برپا تھا، چیخیں در و دیوار سے ٹکرا رہی تھیں۔

مکان میں ہو کا عالم برپا تھا۔

مگر  پڑوسیوں کے دروازے بند رہے اور راہگیر بھی تماشائی بن کر گزرتے رہے۔ ایسا لگتا تھا جیسے انسانیت نے مصلحت کی چادر اوڑھ لی ہو۔ 

لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

گلی کے موڑ سے ایک مسلم بزرگ اپنا ٹھیلہ کھینچتے ہوئے نمودار ہوئے۔

"سبزی لے لو ،ٹماٹر لے لو ،ہری مرچ،بھنڈی،گاجر،آلو،گوبھی،پیاز لے لو،سبزی لے لو"

 جھریوں بھرے چہرے پر مشقت کے نشانات تھے، لیکن دل میں ہمدردی کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر۔ جیسے ہی شالنی کی دردناک چیخ ان کے کانوں میں پڑی، انہوں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنا ٹھیلہ وہیں چھوڑا اور شیر کی طرح گھر کے اندر کوڈ پڑے۔

​اسماعیل اس مسلح چور سے بھڑ گیا۔ نہ اپنی عمر کا لحاظ کیا، نہ چور کے ہاتھ میں موجود ہتھیاروں کو درخور اعتنا سمجھا۔ ایک طرف خونخوار ارادے تھے اور دوسری طرف انسانیت کو بچانے کا جذبہ۔ ہاتھا پائی کے دوران ایک زوردار ضرب سے اسماعیل کی انگلی شدید زخمی ہو گئی، خون بہنے لگا، مگر ان کے آہنی ہاتھوں کی گرفت چور کے گریبان پر ڈھیلی نہ ہوئی۔ "لہذا ہمت مرداں مدد خدا"

اسماعیل کی اس بہادری نے تماشائیوں کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا، جو لوگ اب تک دور کھڑے محو تماشا تھے، وہ آگے بڑھے اور چور کو قابو کر کے رسیوں سے جکڑ دیا۔ پولیس آئی اور مجرم کو اپنے ساتھ پا بجولاں لے گئی،

       ​شالنی  کی آنکھوں میں آنسو تھے اور زبان پر  ٹھیلے والے کے لیے دعائیں۔اس محلے میں زیادہ تر شالنی کے ہم مذہب رہتے ہیں مگر ڈاکو کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنا "آبیل مجھے مار" والی بات تھی لہذا اپنی ہی ذات برادری کےلوگوں نے مصیبت کی اس گھڑی میں آنکھیں بند رکھنا ہی بہتر جانا۔

           دوسرے دن جب وہی مسلم ٹھیلے والے روایتی انداز میں اپنا ٹھیلہ لے کر شالنی کے گھر کے سامنے سے گزرے، تو شالنی نے انہیں دیکھ لیا۔ انہوں نے کھڑکی سے آواز دی:

"بابا! ذرا رکیے تو۔۔۔ اندر آئیے،  آپ کے ساتھ کچھ باتیں کرنی ہیں"

​مسلم ٹھیلے والے نے اپنی پٹی بندھی انگلی کو دیکھا، مسکرائے اور صحن میں قدم رکھ دیا۔ اس دن شالنی کے گھر سے صرف چائے کی خوشبو نہیں، بلکہ اس سچی انسانیت کی مہک آ رہی تھی جس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، صرف احساس ہوتا ہے۔

حالسیڈار ویریناگ

7006146071



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!