ادب
غزل :...... ڈاکٹر ارشد عبداللّہ /عشیار

میں نے مطرب سے کہا ساز بجاتا جاۓ
اپنی دھن پہ مرے شعروں کو سجاتا جاۓ
---------------------------------------------
بھولنے والوں سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی
وقت کا طوفاں مرے نقش مٹاتا جاۓ
--------------------------------------------
خون کے آنسو رلا کر وہ گیا ہے ظالم
گر سنائی ہے سزا جرم بتاتا جاۓ
---------------------------------------
روکنے کو تو اسے روک بھی دیتا لیکن
پھر یہ سوجھی کہ جو جاتا ہے تو جاتا جاۓ
---------------------------------------------
عاشقی صبر سکھاتی ہے جنوں پوشوں کو
شیوہ عاشق کا نہیں زخم دکھاتا جاۓ
----------------------------------------
چکرِ باطل سے نکل جاۓ بھلا کیسے دل
آگ اتنی ہی بڑھے جتنی بجھاتا جاۓ
---------------------------------------
تشنگی میرے لبوں کی بھی مٹا دیتے تم
شان ساقی کی اسی میں ہے پلاتا جاۓ
----------------------------------------
اس سے عشیار گلہ کیسا اسے حق ٹھہرا
دل اسی کا ہے جسے چاہے بساتا جاۓ