Ad
ادب

غزل :...... ڈاکٹر ارشد عبداللّہ /عشیار

✍️:. ڈاکٹر ارشد عبداللّہ /عشیار


میں نے مطرب سے کہا ساز بجاتا جاۓ

اپنی دھن پہ مرے شعروں کو سجاتا جاۓ

---------------------------------------------

بھولنے والوں سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی

وقت کا طوفاں مرے  نقش مٹاتا جاۓ

--------------------------------------------

خون کے آنسو رلا کر وہ گیا ہے ظالم

گر سنائی ہے سزا جرم بتاتا جاۓ

---------------------------------------

روکنے کو تو  اسے  روک بھی  دیتا لیکن

پھر  یہ سوجھی کہ جو جاتا ہے تو جاتا جاۓ

---------------------------------------------

عاشقی صبر سکھاتی ہے جنوں پوشوں کو

شیوہ عاشق کا نہیں زخم دکھاتا جاۓ

----------------------------------------

چکرِ باطل  سے نکل جاۓ  بھلا کیسے دل

آگ اتنی ہی بڑھے جتنی بجھاتا جاۓ

---------------------------------------

تشنگی  میرے لبوں  کی  بھی مٹا دیتے تم

شان ساقی کی  اسی میں ہے  پلاتا جاۓ

----------------------------------------

اس سے عشیار گلہ کیسا اسے حق ٹھہرا

دل اسی کا ہے جسے چاہے بساتا جاۓ



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!