Ad
مضامین

اخوان المسلمون مصر کی حکمت عملی اور کشمیر کے اسلام پسند

✍️:. ڈاکٹر عادل اشرف


عالمِ اسلام میں کامیاب ترین اسلامی تحریکوں میں اخوان المسلون مصر سرفہرست ہے- لیکن چونکا اور متحیر  کر دینے والی بات ہے کہ اس جماعت پر 1954 سے 2011  تک مسلسل قانونی پابندی رہی اور 57 سال کی اس بلا ناغہ پابندی کے باوجود یہ جماعت 2011 کے انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آگئی! آخر یہ کونسا کرشمہ اور کس نوع کا کرتب تھا کہ جو جماعت اتنی طویل بین کے بموجب محض ماضی کی ایک خوشنما یاد بن کر رہ گئی ہونی چاہیے تھی ، وہ تمام مذہبی اور لامذہبی حریفوں کو پچھاڑ کر نمبر ایک ثابت ہوگئی؟ اس جماعت کی تاریخ کا مطالعہ کیا جاۓ تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نا کوئی کرشمہ اور کرتب تھا اور نا ہی کوئی حسن اتفاق، بلکہ یہ اس بہترین اور طویل مدتی(Long Term) حکمت عملی کا نتیجہ تھا جو اس جماعت کی زیرک قیادت نے مابعد 1970 کے اختیار میں لائی تھی! 

اس حکمت عملی کی روداد  یوں ہے کہ جب 1954 کے بعد اخوان کو انتہاہی بہیمانہ ریاستی جبر کا شکار بنایا گیا تو 1969 تک پہنچتے پہنچتے اس تنظیم کا cadre مکمل crush ہوکر رہ گیا تھا- وجودی خطرے کے اس مقام تک پہنچنے کے سبب اسکے قدآور زعماء نے سر جوڑ کر یہ فیصلہ لیا کہ اخوان کو اب مختلف مزاجوں سے پاک کرکے محض دعوتی مزاج پر کاربند رکھتے ہوۓ ایک ٹھنڈے انقلاب کی اٹھان اٹھائی جاۓ، اور مختلف پرتشدد  ذرائع کے بجاۓ عمومی دعوت اور جمہوری طریقہ کار کو لازم پکڑا جاۓ! اخوان کو یکسوئی کے ساتھ اس پٹری پر ڈالنے میں سب سے نمایاں کردار تو عمر  تلسمانی اور حسن الہضیبی کا ہی ہے، لیکن اس میں خارج سے ایک کیلدی رول جانشینِ سید مودودی اور سابق امیر جماعت میاں محمد طفیل کا بھی تھا- اپنی کتاب مشاہدات میں انہوں نے اس رول پر کچھ روشنی بھی ڈالی ہے کہ کس طرح بحیثیت ایک ثالث کے انہوں نے اخوان کے لوگوں کو بھی سمجھایا اور مصر کی فوجی حکومت کو بھی معتدل رویے کی تلقین کی! 

اخوان کی اس حکمت عملی اور مفاہمت کی اساس یہی تھی کہ اسے  ممنوعہ (Banned) ہونے کے باوجود بھی کام کرنے کا موقعہ دیا جاۓ گا،لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اسکے لوگ فوجی حکومت کے ساتھ کسی بھی نوع کا کوئی تصادم اختیار نہیں کرینگے اور اپنے کام سے کام رکھیں گے- عمر تلسمانی نے اس موقعے کو غنیمت جان کر اخوان کو صرف دعوتی کام پر مرکوز رکھتے ہوۓ اسے ازسر نو تعمیر (rebuild )کرنا شروع کردیا- “جامع اسلام” کی طرف دعوت کے ساتھ ساتھ اخوان نے مختلف ناموں پر رفاع عام کے ادارے بھی کھولے اور حکومت سے بڑھ کر لوگوں کی خدمت کی، جہاں حکومت پہنچ نہیں پاتی وہاں اخوان کے لوگ پھٹا پھٹ حاضر ہوجاتے اور لوگوں کیلۓ راحت کا سامان کرکے انکے دل پر دستک دیتے! اسی طرح اخوان نے کالجوں میں بھی مختلف ناموں پر طلبہ کو منظم کرکے وہاں نسل نو کی تعمیر کا کام انجام دیا اور مغریبت کے آگے بند باندھا- اور یہ سب اس طرح نہیں ہوا کہ انہوں نے انور سادات اور حسنی مبارک کو اپنا چاچا ماما جانتے ہوۓ انکی طرف سے پابندی ہٹاۓ جانے کا انتظار کیا، بلکہ انہوں نے اپنی اور حریف کی حیثیت  کا بخوبی اندازہ لگاکر تمام حاصل اور میسر مواقع کا فائدہ اٹھایا اور بین کے باوجود پانی کی طرح مصری سوسائٹی میں سرایت کیا- یہ ہوتی ہے حکمت اور اسکو کہتے ہیں صلاحیت!

اس پسمنظر میں ایک اور چیز کا ذکر بھی فائدہ سے خالی نہیں ہوگا- وہ یہ ہے کہ ممنوعہ ہونے کے باوجود اخوان نے تاریخ کے اس دور میں ہر طرح کے انتخابات میں حصہ لیا- اخوان کے آمیدوار اکثر بطور آزاد امیدوارں یعنی Independent candidates کے انتخابات میں حصہ لیتے تھے، اور بڑھ چڑھ کر لیتے تھے! جب ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا تو اپنے امیدوارں کو مادر پدر سیکولر اور کمیونسٹ پارٹیوں کے نشان پر انتخابات میں اتارتے  مثلاً Wafd Party اور Labor Party! یہ Wafd Party مصر کی قدیم سیکولر پارٹی ہے اور یہ وہی پارٹی ہے جو حسن البنا کے دور میں اخوان کی سب سے بڑی حریف رہ چکی تھی- ہے نا تعجب کی بات! اسی طرز پر کام کرتے ہوۓ اخوان کے آزاد امیدوارں نے 2000 میں 17 سیوٹوں پر کامیابی حاصل کی اور 2005 میں حیران کن نتائج  پیدا کرتے ہوۓ 88 سیوٹوں پر بازی مار لی- اور پھر اسی جدوجہدکے تسلسل میں اخوان نے 2011 میں Freedom and Justice Party کو وجود بخشا اور اخوان کی اس سیاسی ونگ نے ۵۰ فیصد ووٹ لیتے ہوۓ خود کو تمام مذہبیوں اور لا مذہیوں سے فائق منوا لیا. 

غرضیکہ انسان چاہے مشرق کا ہو یا مغرب کا، قدیم ہو یا جدید اور مصر کا ہو یا کشمیر کا— اسکی فطرت کی اساسات یکساں ہیں اور پھر ایسے انسانوں سے جو معاشرے وجود میں آتے ہیں ان میں بھی یکسانیت کے متعدد پہلو  کار فرما ہوتے ہیں!! اسی لیے تاریخ سے سبق سیکھنا یا اپنے ہی جیسے انسانوں کے کسی گروہ کے تجربات سے فائدہ اٹھانا ایک مسلمہ اور مبنی پر حکمت طرز عمل ہے- دراصل ہمارے لوگوں تک حکمت عملی کے ان اقدامات کا علم نہیں پہنچ پاتا بلکہ ان تک صرف جیل و جبر اور پھانسی گھاٹ کے قصوں کی ہی ترسیل ہوتی ہے! یہی وجہ ہے کہ وہ تحریک اسلامی کے ان سپوتوں سے یہ قیمتی اسباق اور تجرباتی حکمت سیکھنے سے قاصر رہے ہیں اور All or None کی نفسیات سے نکلنے میں ہنوز ناکام ہیں!

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

(نوٹ :. مزکورہ بالا مضمون میں پیشی گیی آرا اور تجاویز مضمون نگار کی اپنی ہیں،اسے ادارہ نوکِ قلم سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے.) 



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!