افسانہ
گردش ایام..... افسانہ

یونیورسٹی کے اسکول آف اکنامکس میں میرا آخری سال تھا۔ویسے بھی کسی یونیورسٹی میں چار پانچ سال تحقیق میں گزارنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی ،لہذا سینیر طلبہ کی حالت قابل رشک ہوتی ہے ۔پوسٹ گریجویشن کے لئے طلبہ کا انتخاب ہو یا کانوکیشن ان کا رول فعال ہوتا ہے۔
میرے ہی شعبے میں پی جی کے انٹرنس ہو رہے تھے کانٔوسلنگ کے دوران ایک لڑکی کا طرزِ تکلم اور مضمون کے حوالے سے آگہی کمال کی تھی،خیر اسے تو منتخب ہونا ہی تھا مگر میں اپنا نقد دل ہار بیٹھا۔ریحانہ نام کی اس اسکالر کا چلنا پھرنا میرے لیے کسی خوشگوار ہوا کے جھونکے کی طرح تھا۔ میں، جو ایک آسودہ حال گھرانے کا چشم و چراغ تھا، جس کے پاس گاڑیوں کی چابیوں سے لے کر خاندانی کاروبار تک سب کچھ موجود تھا اور رہی سہی کسر میری ڈگری نے پوری کی ،کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زندگی میں کسی چیز کے لیے "نا" سننے کا اتفاق ہو۔
میں اس خوش فہمی کا شکار تھا کہ ہمارا معیارِ زندگی اور خاندانی پس منظر وہ کنجی ہے جو کوئی بھی دروازہ کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یونیورسٹی سے فارغ ہوتے ہی میں نے ابو اور امی کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ دوسرے شہر جاکر میرے لئے ریحانہ کا ہاتھ مانگ لیں۔
"دیکھو بیٹا اگر ایسی بات ہے تو پھر ریحانہ کے گھر والوں کو ہمارے ساتھ بات کرنی چاہئے"!
ابو کی بات سولہ آنہ صحیح تھی۔
"ابو نہ تو ریحانہ ہی مجھے جانتی ہے اور نہ ہی اس کے والدین "۔
بیٹا پھر تو یہ "بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ" والی بات ہوئی۔
"تو نے یونیورسٹی سے ریسرچ کیا ہے،ریحانہ تمہارے مطابق اسی مضمون میں پوسٹ گریجویشن کر رہی ہے اور تو اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ وہ تجھے جانتی ہے اور نہ تو اسے جانتا ہے۔
امی نے بیچ میں پڑتے ہوئے کہا کہ "کم از کم جاوید پر شک مت کیا کرو اس کی باتوں پر کبھی بھروسہ کرو"۔
چارو ناچار ابو جی اور مما کو ریحانہ کے گھر جانا ہی پڑا۔
مگر ریحانہ کے گھر والوں نے وہ دروازہ کھولا ہی نہیں۔
"ہماری بیٹی ابھی پڑھے گی، ابھی اس کا شادی کا کوئی ارادہ نہیں۔"ریحانہ کے والد نے سرے سے ہی انکار کیا۔
ان کے لہجے کی سپاٹ چھنکار نے میرے والدین کو حیران کر دیا۔
بھئی عبدالحق "ایک بار لڑکے کو دیکھ تو لیں، شادی بے شک تعلیم کے بعد کر لیجیے گا،" ابو جی نے اصرار کیا۔
مگر جواب وہی تھا: "نہیں۔"
چند دن بعد ابو جی نے فون کیا مگر پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ،"
ہماری بٹیا ابھی شادی کرنا نہیں چاہتی ہے۔
میں کوئی ضدی عاشق نہیں تھا، اس لیے جب والدین نے اپنے دوست کی بیٹی کا رشتہ دکھایا جسے میں پہلے سے جانتا تھا تو میں نے خاموشی سے سر جھکا دیا۔
زندگی رواں دواں رہی۔ شادی ہوئی، کاروبار کی ذمہ داریاں بڑھیں، اور ریحانہ کی یاد ذہن کے کسی گرد آلود خانے میں دب گئی۔
تین سال بعد، جب میں اپنے پھیلتے ہوئے کاروبار کے لیے نئے مینیجر کا انٹرویو لے رہا تھا، تو ایک فائل میرے سامنے آئی ،نام لکھا تھا: ریحانہ۔
وہی سنجیدہ چہرہ، وہی باوقار شخصیت۔
اس نے مجھے نہیں پہچانا کیونکہ یونیورسٹی میں ہم کبھی نہیں ملے تھے اور رشتے کی بات کرتے وقت اس کے والدین نے میری تصویر تک دیکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ لہذا انٹرویو میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا۔
اس کی قابلیت مسلمہ تھی، لہٰذا وہ منتخب ہوگئی۔ میں نے پیشہ ورانہ اخلاقیات کا دامن تھامے رکھا اور اسے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ میں وہی " عاشق نامراد" ہوں جسے اس کے گھروالوں نے ٹھکرا دیا تھا۔
حالات نے پلٹا تب کھایا جب میرے چھوٹے بھائی کی شادی تھی۔خوشحال خاندان میں شادی ہو رہی تھی اس لئے اسے ولیمہ کم دعوت عام کہنا زیادہ مناسب ہوگا ۔ میں نے اپنے تمام اسٹاف کو مدعو کیا تھا۔ ریحانہ اپنے والدین کے ساتھ آئی۔ گیٹ پر استقبال کرتے میرے والدین کو دیکھ کر عبدالحق کے قدم وہیں رک گئے۔ وہ پہچان گئے کہ یہ وہی "بڑا گھر" ہے جس کی دہلیز سے وہ منہ موڑ کر آئے تھے۔
کچھ دن بعد، آفس کے ایک خاموش پہر میں، ریحانہ میرے کیبن میں آئی۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی بے چینی اور لہجے میں جھجھک تھی۔
"سر! کیا۔۔۔ کیا یہ سچ ہے کہ آپ کا رشتہ میرے گھر آیا تھا؟" اس نے بمشکل پوچھا۔
میں نے اپنی کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اور سکون سے جواب دیا،
"جی ریحانہ، یہ سچ ہے۔ مجھے آپ اچھی لگی تھیں، میں نے رشتہ بھیجا تھا مگر آپ کے والدین نے کہا کہ آپ ابھی صرف کیریئر پر توجہ دینا چاہتی ہیں۔"
یہ سن کر جیسے اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ ساکت کھڑی رہی۔ اس کی خاموشی اتنی طویل تھی کہ مجھے کمرے کی گھڑی کی ٹک ٹک بھی شور محسوس ہونے لگی۔ وہ کچھ کہے بغیر، بوجھل قدموں سے باہر نکل گئی۔
اگلے کئی دن وہ کسی سائے کی طرح آفس میں پھرتی رہی۔ اس کی کارکردگی گرنے لگی اور چہرے کی رونق جیسے غائب ہوگئی۔ شاید اسے اس بات کا دکھ تھا کہ جس "مستقبل" اور "جاب" کی خاطر اس کے والدین نے ایک اچھے بھلے رشتے کو ٹھکرایا تھا، وہ منزل اسے اسی شخص کی غلامی میں ملی تھی جسے اس نے دیکھا تک نہیں تھا۔ یا شاید اسے یہ ملال تھا کہ اس کے والدین نے اس سے مشورہ کیے بغیر ہی اس کی زندگی کا فیصلہ سنا دیا تھا۔
ایک ہفتے بعد اس کا استعفیٰ میری میز پر تھا۔
"سر! میں یہاں مزید کام نہیں کر پاؤں گی۔ یہ جاب کرنا اب میرے لیے خود فریبی جیسا ہے،" اس نے سر جھکا کر کہا۔
میں نے اسے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ میں جانتا تھا کہ اب میرا سامنا کرنا اس کی انا اور اس کے پچھتاوے کے لیے ممکن نہیں رہا۔ وہ چلی گئی، بالکل اسی طرح جیسے زندگی کے نقشے سے ایک ادھورا خواب مٹ جاتا ہے۔
حالسیڈار ویریناگ
7006146071