Ad
افسانہ

دو سائے ایک راستہ :... افسانہ

✍️: بٹ سحران 


احسن اور وقار ایک ہی گاؤں کی کچی گلیوں میں پلے بڑھے تھے۔ لوگ کہتے تھے یہ دونوں دوست نہیں بلکہ ایک ہی جان کے دو حصے ہیں۔ احسن کم بولتا تھا مگر وقار اس کی خاموشی بھی سمجھ لیتا تھا۔ وقار زیادہ ہنستا تھا مگر اس کی ہنسی کے پیچھے چھپا درد احسن پہچان لیتا تھا۔

وہ ایک ہی اسکول جاتے تھے اور ایک ہی درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنے خواب بُنتے تھے۔ وقار کہتا تھا کہ وہ شہر جا کر بڑا آدمی بنے گا۔ احسن مسکرا کر کہتا تھا کہ وہ وہیں رہے گا جہاں وقار رہے گا۔

وقت آگے بڑھا۔ وقار روزگار کے لیے شہر چلا گیا۔ ذمہ داریاں بڑھ گئیں اور زندگی مصروف ہو گئی۔ گاؤں میں لوگ کہنے لگے کہ شہر والے گاؤں والوں کو جلد بھول جاتے ہیں۔

مگر احسن ہر جمعہ اسی پرانے درخت کے نیچے بیٹھ کر وقار کا انتظار کرتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ جو رشتہ نیت سے بندھا ہو وہ فاصلے سے نہیں ٹوٹتا۔

ایک دن خبر آئی کہ وقار ایک شدید حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔ احسن نے نہ کچھ پوچھا نہ سوچا۔ وہ فوراً شہر روانہ ہو گیا۔ اس کے پاس نہ پیسے تھے نہ کوئی سفارش۔ اس کے پاس صرف دوستی تھی۔

ہسپتال کے بستر پر وقار نے آنکھ کھولی تو سامنے احسن کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے کمزور آواز میں کہا کہ میں جانتا تھا تم ضرور آؤ گے۔

احسن نے آہستہ سے جواب دیا کہ دوست بلائے بغیر بھی پہنچ جاتے ہیں۔

مہینے گزر گئے۔ وقار صحت یاب ہو گیا مگر اب وہ چل نہیں سکتا تھا۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ اب احسن بھی اس کا ساتھ چھوڑ دے گا۔

لیکن احسن نے وقار کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ اس نے کہا کہ جس دن تم چلتے تھے میں تمہارے ساتھ تھا۔ آج تم نہیں چل سکتے تو میں تمہاری جگہ چلوں گا۔

آج بھی شام کے وقت وہ دونوں ایک ہی راستے پر نظر آتے ہیں۔ ایک سہارے کے ساتھ اور دوسرا یقین کے ساتھ۔

کچھ رشتے نام کے محتاج نہیں ہوتے۔ نہ وقت انہیں کمزور کرتا ہے اور نہ حالات انہیں توڑ سکتے ہیں۔ وہ کبھی بچھڑتے نہیں۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!