Ad
مضامین

خاموش خدمت کا روشن حوالہ — محترم ماسٹر فاروق احمد بٹ

✍️: عنایت نزیر نجار/اچھن پلوامہ


 Email id: anayatbinnazir@gmail.com 

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

گورنمنٹ ہائی اسکول بانڈرپورہ، ضلع پلوامہ ایک ایسا تعلیمی ادارہ جو میرے لیے محض جائے تعیناتی نہیں بلکہ عملی تربیت، انسان دوستی اور پیشہ ورانہ دیانت کا آئینہ دار رہا ہے۔ سن 2020ء میں تبادلے کے بعد میں نے اس اسکول میں جوائن کیا۔ بانڈرپورہ، ضلع پلوامہ کا ایک خوبصورت اور پُرسکون علاقہ ہے جو قوئیل فوجی ایئرپورٹ کے بالکل دامن میں واقع ایک مختصر سی بستی پر مشتمل ہے۔ چاروں اطراف چھوٹی چھوٹی ٹیلوں میں گِھرا یہ گاؤں اپنی محنت کش آبادی، سادہ طرزِ زندگی اور مہمان نواز طبیعت کے سبب ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کی اکثریتی آبادی باغبانی اور زراعت سے وابستہ ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ محض دو دہائیاں قبل تک یہ گاؤں بنیادی رابطہ سڑکوں جیسی سہولتوں سے بھی محروم تھا، جس کے باعث یہ علاقہ ضلع کے دیگر حصوں سے تقریباً منقطع تھا۔ چنانچہ جب میرا تبادلہ یہاں ہوا تو آمد و رفت، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور متوقع مشکلات کے پیشِ نظر میں ذہنی طور پر آمادہ نہ تھا۔ اسی باعث میں نے جوائن کرنے سے قبل تبادلے کے حکم نامے پر نظرِ ثانی کے لیے اپنے افسر کو درخواست بھی دی تاہم بیک وقت اسکول میں جوائن بھی کیا۔

مگر چند ہی دنوں میں حالات نے نیا رخ اختیار کیا۔ محض ایک دو ہفتوں کی ڈیوٹی کے بعد میں نے وہ درخواست واپس لے لی، حالانکہ وہ منظور بھی ہو چکی تھی اور ایک بہتر متبادل پوسٹنگ بھی تجویز کی گئی تھی۔میرے اس فیصلے کی بنیادی وجہ اسکول کا مثبت تعلیمی ماحول اور فاروق صاحب جیسے مخلص، فعال اور ہمہ جہت استاد کے ساتھ کام کرنے کا نادر موقع تھا۔

محترم فاروق صاحب نے لگ بھگ پینتیس سال، یعنی ساڑھے تین دہائیوں تک محکمۂ تعلیم میں بحیثیت استاد خدمات انجام دیں۔ اس طویل اور بامقصد سفر میں وہ محض ایک مضمون کے معلم نہیں رہے بلکہ کردار سازی، نظم و ضبط اور ادارہ جاتی استحکام کی علامت بن کر ابھرے۔

فاروق صاحب کو میں نے ایک مکمل ادارہ جاتی شخصیت کے طور پر پایا۔ درس و تدریس، نظم و ضبط، بچوں کی تربیت، کھیلوں کی رہنمائی، مارننگ اسمبلی کی فعالیت میں ان کا کردار غرض ہر شعبے میں ان کی موجودگی نمایاں تھی۔ وہ اسکول آنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے اور متعین وقت سے دس پندرہ منٹ پہلے ہی پہنچ جاتے تھے۔ اساتذہ اور طلبہ دونوں کے لیے وہ ایک زندہ مثال تھے۔

فاروق صاحب دفتری اور کلرکل امور میں بھی غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ مجھے ان کا تعارف ابتدائی طور پر کلرکل امور کے حوالے سے ہی ہوا ، ایک عرصے تک ان کی تعیناتی گورنمنٹ ہائی اسکول وہی بگ پلوامہ میں رہی اور چیف ایجوکیشن آفیسر پلوامہ کے دفتر سے ان کا قریبی رابطہ رہا چونکہ راقم الحروف کی اپنی تعیناتی بھی ایک مدت تک چیف ایجوکیشن آفیسر پلوامہ کے دفتر میں رہی، جہاں دفتری نظم و نسق، فائل ورک اور انتظامی امور کے دوران فاروق صاحب کی پیشہ ورانہ مہارت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اسی بنا پر وہ زونل اور ضلعی سطح پر بطور ریسورس پرسن بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ علاوہ ازیں، وہ ٹیچرز فورم سے وابستہ رہ کر اساتذہ کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتے رہے۔

یہ امر بھی نہایت قابلِ توجہ ہے کہ رہبرِ تعلیم اساتذہ کی ریگولرائزیشن کے عمل کے دوران محکمۂ تعلیم میں نان ٹیچنگ اور کلرکل اسامیوں کو منجمد کئے جانے کے باعث ایک شدید انتظامی خلا پیدا ہوا، جو آج تک برقرار ہے۔ اس کمی کے نتیجے میں ایک ایک کلرک کو بیک وقت دو دو، بلکہ تین تین اسکولوں کا اضافی چارج سونپ دیا گیا، جس کا لازمی بوجھ بالآخر اساتذہ کے کندھوں پر آ پڑا۔ ایسے مشکل اور دباؤ بھرے حالات میں بھی فاروق صاحب نے کبھی شکوہ زبان پر نہیں لایا، بلکہ ہر اضافی ذمہ داری کو خلوصِ نیت سے عبادت سمجھ کر قبول کیا اور خاموشی، دیانت اور استقلال کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔

گورنمنٹ ہائی اسکول بانڈرپورہ میں ہیڈماسٹر محترم شمیم احمد شمیم صاحب کی سبکدوشی کے بعد فاروق صاحب کو ناظمِ امور (ہیڈ آف انسٹیٹیوشن) کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انہوں نے تقریباً ڈیڑھ سال تک نہایت ہی حسنِ خوبی سے نبھایا۔ فنڈز کی کمی کے باوجود اسکول کی تعمیر و ترقی کے لیے انہوں نے نہ صرف خود مالی تعاون کیا بلکہ تمام اسٹاف کو بھی رضاکارانہ ڈونیشن پر آمادہ کیا۔ اسکول کے صحن میں پانی جمع ہونے کے مستقل مسئلے کو مٹی کی بھرائی اور مشینی لیولنگ کے ذریعے حل کرنا ان کی عملی قیادت کی روشن مثال ہے۔

بطور ایم ڈی ایم انچارج مجھے یہ بھی یاد ہے کہ کچن گارڈننگ میں انہوں نے میرے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ سربراہِ ادارہ ہونے کے باوجود وہ خود زمین کھودتے، سبزیوں کی کاشت میں حصہ لیتے اور کھانا پروسنے جیسے کاموں میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔ اجتماعی صفائی مہمات میں وہ محض نمائشی شرکت نہیں کرتے تھے بلکہ عملی طور پر واش رومز اور قریبی نالوں کی صفائی میں بھرپور حصہ لیتے۔ انہیں کسی کام میں عار محسوس نہیں ہوتی تھی کیونکہ ان کے نزدیک رزقِ حلال اور خدمتِ خلق ایک مقدس فریضہ تھا۔

یہ ان کی پیشہ ورانہ دیانت کا ثبوت ہے کہ اگر کبھی کوئی استاد رخصت پر ہوتا تو وہ سربراہ ہونے کے باوجود بھی خود اپنا نام ارینجمنٹ رجسٹر میں درج کرتے اور اپنی کلاسز وقت پر لیتے۔ میں نے بارہا دیکھا کہ وہ گھنٹی بجنے سے پہلے ہی کلاس روم کے باہر مستعد کھڑے ہوتےتھے۔ 

اگرچہ آج میں اس ادارے میں خدمات انجام نہیں دے رہا ہوں، مگر فاروق صاحب کی سبکدوشی کی تقریب میں شرکت کو میں نے اپنے لیے سعادت سمجھا۔ حیرت اور مسرت کی بات یہ تھی کہ اپنی سروس کے آخری دن بھی وہ اسکول آفس میں دفتری امور میں مصروف پائے گئے جو ان کی اس محکمے کے ساتھ عملی وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ان کی الوداعی تقریب میں، سردیوں کی چھٹیوں کے باوجود، طلبہ، اساتذہ اور چاہنے والوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ کشمیری شال پوشی، گل ہائے عقیدت، نمناک آنکھیں اور سسکیاں، یہ سب اس بات کا اعلان تھیں کہ ایسے اساتذہ روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ تقریب میں ہیڈماسٹر محترم غلام محمد بٹ صاحب، محترم محمد اشرف خان صاحب، محترم جاوید احمد بند صاحب ، محترم بشیر احمد حجام صاحب، محترم محمد سکندر ڈار صاحب، محترم فاروق احمد صاحب، محترمہ ماہ جبینہ اختر  ، محترمہ مرجانہ اختر ، محترم نزیر احمد ڈار، راقم الحروف اور دیگر معززین کے ساتھ ساتھ طلبہ نے بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت طالبہ مسکان منظور نے بڑی ہی خوش اسلوبی سے انجام دی۔

محترم فاروق احمد بٹ صاحب کا تعلق ضلع پلوامہ کے معروف گاؤں ملنگ پورہ سے ہے، جو تاریخی شہر اونتی پورہ کے قریب اونتی پورہ پلوامہ روڈ پر واقع ایک خوش منظر اور دلکش علاقہ ہے۔

اپنے الوداعی خطاب میں فاروق صاحب نے محکمۂ تعلیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے دورانِ سروس ہمیشہ یہ احساس زندہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقدس، پیغمبرانہ پیشے کو ان کی روزی کا ذریعہ بنایا ہے، اس لیے ہر حال میں اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے نبھانا ان پر فرض تھا تاکہ وہ سماج کے لیے کچھ مثبت کردار ادا کر سکیں۔

آج، 31 دسمبر 2025ء کو، محترم فاروق صاحب کی سبکدوشی کے ساتھ ہی اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں واقعی ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جو محض تقرری سے نہیں بلکہ کردار، اخلاص اور عمل سے ہی پُر ہو سکتا ہے۔

اسی احساسِ تشکر اور محبت کے ساتھ راقم الحروف اپنی یہ تخلیق، محترم فاروق صاحب کے نام، بطورِ نذرانۂ الوداع پیش کرتا ہے:

کہہ رہی ہیں نم آنکھیں خموشی سے، الوداع

دل کے آنگن میں  چھائی ہوئی ہے غم کی گھٹا، الوداع

وہ معلم جس کی باتوں میں اثر بولتا تھا

جس کے سکوت میں بھی تھی حق کی صدا، الوداع

جس نے لفظوں کو سکھایا سلیقۂ معنیٰ 

جس کے لہجے میں تھی تہذیب کی ادا، الوداع

وقت نے جس کے سلیقے سے سبق سیکھا ہو

ایسی ہستی کو ہے یہ لمحہ کہہ رہا، الوداع

جس کے کردار سے روشن رہے ایوانِ شعور

جس کے دم سے تھی  زینت ِ درسگاہ ، الوداع

نہ نمود و نہ ہی نمائش، فقط اخلاص و عمل

ایسے لوگوں سے ہی بنتی ہے وفا، الوداع

آج خالی ہے وہ مسند، وہ صدا، وہ دستک

جو تھے پہچانِ ادارہ، مثلِ جفا، الوداع

رخصتی ہے مگر آثارِ بقا چھوڑ گیا

اپنے نقشِ قدم با اہلِ وفا چھوڑ گیا

ہم دعا گو ہیں کہ رب  فاروق صاحب کو سدا رکھے شاد

 خدمت ِ علم کا ملے ان کو بھرپورصلہ، الوداع

برلبِ عنایتؔ یہی نکلی ہے دعا

حق کرے مساعی کو عطا احسن جزا،  الوداع



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!