مضامین
سال 2025: دنیا اور ہندوستان — آفات، جنگیں اور انسانی نقصان

سال 2025 عالمی سطح پر ایک ایسا سال ثابت ہوا جس میں قدرتی آفات اور جنگوں نے انسانیت کو شدید نقصان پہنچایا۔ اقوامِ متحدہ اور مختلف بین الاقوامی اداروں کے ابتدائی اندازوں کے مطابق، صرف 2025 میں دنیا بھر میں لاکھوں افراد قدرتی آفات اور مسلح تنازعات سے متاثر ہوئے، جبکہ بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
دنیا میں قدرتی آفات اور جانی نقصان
2025 میں موسمی تبدیلیوں کے اثرات واضح طور پر سامنے آئے۔
شدید گرمی کی لہر کی وجہ سے ایشیا، یورپ اور افریقہ میں تقریباً 20 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں جنوبی ایشیا کا حصہ سب سے زیادہ رہا۔
سیلاب اور شدید بارشوں کے نتیجے میں بنگلہ دیش، بھارت، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں تقریباً 10 سے 12 ہزار اموات ہوئیں، جبکہ 5 کروڑ سے زائد افراد متاثر یا بے گھر ہوئے۔
جنگلاتی آگ (امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا) میں تقریباً 2 ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں ایکڑ جنگلات تباہ ہوئے۔
یوں 2025 میں صرف قدرتی آفات کے باعث دنیا بھر میں تقریباً 30 سے 35 ہزار انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
دنیا میں جنگیں اور تنازعات
2025 میں مسلح تنازعات انسانی المیے کا سب سے بڑا سبب بنے۔
روس–یوکرین جنگ میں
تقریباً 45 سے 50 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔ غزہ اور اسرائیل میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں تقریباً 30 سے 35 ہزار اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ لاکھوں افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہو گئے۔
افریقہ (سوڈان، کانگو اور دیگر خطے) میں اندرونی تنازعات اور بدامنی کے باعث
تقریباً 20 ہزار افراد جان سے گئے اور 1 کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔
یوں 2025 میں جنگوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں تقریباً 90 ہزار سے 1 لاکھ انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔
ہندوستان میں 2025 کی صورتحال ہندوستان کے لیے بھی 2025 ایک سخت سال ثابت ہوا، جہاں قدرتی آفات اور حادثات نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔
ہیٹ ویوز
دہلی، اتر پردیش، راجستھان، بہار اور مدھیہ پردیش میں شدید گرمی کے باعث تقریباً 3 سے 4 ہزار افراد ہیٹ اسٹروک اور متعلقہ بیماریوں سے جاں بحق ہوئے۔سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے آسام، بہار، مغربی بنگال، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش میں تقریباً 800 سے 1,000 امواتیں ہوئیں۔تقریباً 1 کروڑ افراد مختلف درجے میں متاثر ہوئے، جبکہ لاکھوں کو عارضی کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔
حادثات
ریل اور سڑک حادثات میں
تقریباً 5 ہزار افراد جان سے گئے، جس نے سفری تحفظ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے۔
نتیجہ
اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 1.3 سے 1.4 لاکھ انسانی جانیں
قدرتی آفات اور جنگوں کی نذر ہوئیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اعداد محض نمبر نہیں بلکہ ایک سخت تنبیہ ہیں۔ موسمی تبدیلی، جنگی جنون اور کمزور انتظامی نظام مستقبل میں مزید تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہندوستان سمیت پوری دنیا کے لیے ضروری ہے کہ ماحولیاتی تحفظ، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور عالمی امن کو اولین ترجیح دی جائے، تاکہ آنے والے برس انسانیت کے لیے کم نقصان دہ ثابت ہوں۔