Ad
مضامین

سادگی، صبر اور خدمتِ دین کی روشن مثال: مولوی عبدالاحد گنائیؒ

✍️: غیاث الدین ملک، نمبلن، بارہمولہ


بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو خاموشی سے اپنی زندگی گزار دیتی ہیں، مگر ان کا کردار اور عمل پورے سماج کے لیے مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔ مرحوم مغفور مولوی عبدالاحد گنائی صاحبؒ بھی انہی خوش نصیب اور باعمل انسانوں میں سے تھے، جن کی زندگی سادگی، صبر، استقامت اور خدمتِ دین سے عبارت تھی۔

مولوی عبدالاحد گنائی صاحبؒ تقریباً 1950ء کے آس پاس اپنے آبائی گاؤں نمبلن میں ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ حالاتِ زندگی کے تقاضوں کے تحت ابتدا میں زراعت سے وابستہ رہے، بعد ازاں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں بحیثیت لائن مین تقرر ہوا اور تادمِ آخر اسی محکمے کے ساتھ وابستہ رہے۔ سچائی، دیانت اور نرم گفتاری کے باعث پورا علاقہ انہیں عزت و احترام سے “مولوی صاحب” کے نام سے جانتا تھا۔

سن 1975ء میں محض 25 برس کی عمر میں آپ کو مقامی مسجد میں امامت کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اگرچہ آپ کسی باقاعدہ دینی ادارے کے فارغ التحصیل نہ تھے، مگر اخلاص، مطالعہ اور مسلسل محنت کے بل بوتے پر 1975ء سے 2010ء تک امامت کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔

اسی دوران آپ نے جامع مسجد آڈورہ، نارواؤ، بارہمولہ میں لگ بھگ 22 سال تک بحیثیت جامع خطیب خدمات بھی انجام دیں۔

یہ وہ دور تھا جب ایک طرف سرکاری ملازمت کی مصروفیات تھیں اور دوسری جانب پنجگانہ نماز، جمعہ کے خطبات کی تیاری اور عوامی دینی ذمہ داریاں۔ ان سب کے باوجود مولوی صاحبؒ نے چالیس برس کی عمر کے بعد حفظِ قرآن کا آغاز کیا، جو ان کے عزم، صبر اور دینی شوق کا واضح ثبوت ہے۔ یہ مرحلہ آسان نہ تھا، مگر انہوں نے صبر و استقامت کے ساتھ اسے سر کر کے سماج کے سامنے ایک عملی مثال قائم کی۔

مرحوم کی پوری زندگی سادگی اور عبادت میں گزری۔ مسجد میں قرآنِ پاک کی تلاوت، نوافل اور ذکرِ الٰہی آپ کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ گھر میں بھی مکمل دینی ماحول قائم کیا، اور یہ کہنا بجا ہوگا کہ بہت سے دلوں میں خدا شناسی اور دین سے محبت کی بنیاد مرحوم ہی کے ذریعے پڑی۔

آج پورا گاؤں ہی نہیں بلکہ آس پاس کے علاقوں میں بھی مولوی عبدالاحد گنائی صاحبؒ کے بے شمار شاگرد موجود ہیں، جو ان سے دینی فیض حاصل کر چکے ہیں۔ اسی لیے ان کا وصال صرف ایک فرد کا بچھڑ جانا نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا اختتام محسوس ہوتا ہے۔

بہرحال، موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس کا ذائقہ ہر ذی روح کو چکھنا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم مولوی عبدالاحد گنائی صاحبؒ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!