اہم ترین
میرواعظ کشمیر کو سوشل میڈیا کے ترازو میں تولنا فکری بددیانتی ہے:. آغا سید حسن

میرواعظ کشمیر کو سوشل میڈیا کے ترازو میں تولنا فکری بددیانتی ہے۔
دینی ادارے ٹوئٹر بایو سے نہیں، قربانی اور وقار سے پہچانے جاتے ہیں۔
صدر انجمنِ شرعی شیعیان، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری سطحی، بدنیتی پر مبنی اور خطرناک مہم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک عظیم دینی و سماجی ادارے کے امین کو محض سوشل میڈیا کے بیانیے، ٹوئٹر بایو یا وقتی سیاسی پروپیگنڈے میں قید کرنا فکری دیوالیہ پن اور تاریخی نادانی کی بدترین مثال ہے۔
آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ میرواعظ کشمیر ایک صدیوں پر محیط دینی، روحانی، تہذیبی اور اجتماعی ادارے کے نگہبان ہیں، جو کشمیری عوام کے ایمان، تشخص اور اجتماعی شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کی حیثیت کو سوشل میڈیا کی سطحی بحثوں اور زہریلے تبصروں کے ذریعے کم تر ثابت کرنے کی کوششیں دراصل خود حملہ آوروں کی فکری پستی کو عیاں کرتی ہیں۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ میرواعظ عمر فاروق کی سیاسی و سماجی زندگی کا مرکزی محور ہمیشہ امن، اتحاد، مفاہمت اور وقار رہا ہے، نہ کہ اقتدار، ذاتی مفاد یا وقتی شہرت۔ وہ ایک ایسے رہنما ہیں جنہوں نے طاقت کے بجائے اصول، نفرت کے بجائے تحمل اور انتشار کے بجائے مکالمے کو اپنا راستہ بنایا، جو آج کے شور زدہ ماحول میں ایک نایاب اخلاقی مثال ہے۔
صدر انجمن نے کہا کہ میرواعظ صاحب نے نہایت کم عمری میں وہ ذمہ داریاں اٹھائیں جن کا تصور بھی آج کے بہت سے نام نہاد ناقدین نہیں کر سکتے۔ ایک کے بعد ایک عظیم قربانی، والد اور پھر چچا کی شہادت کے باوجود، انہوں نے انتقام یا اشتعال کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ کشمیری قوم کے وقار، خودداری اور اخلاقی قوت کی علامت بنے رہے۔ یہ قربانیاں محض تاریخ کا باب نہیں بلکہ ایک زندہ گواہی ہیں، جسے سوشل میڈیا کی زہر آلود مہم مٹا نہیں سکتی۔
آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے واضح کیا کہ اختلافِ رائے ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے، مگر کردار کشی، تمسخر، بہتان اور نفرت انگیز زبان نہ اختلاف ہے اور نہ تنقید، بلکہ یہ سماج کو اخلاقی پستی اور فکری انارکی کی طرف دھکیلنے کی سازش ہے۔ ایسے رویے کشمیری سماج کی روایت، دینی وقار اور اجتماعی دانش کے منافی ہیں۔
انہوں نے علما، سیاسی قائدین، اہلِ قلم، صحافیوں اور خصوصاً سوشل میڈیا استعمال کرنے والے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری، سنجیدگی اور شعور کا مظاہرہ کریں اور ایسے عناصر کو مسترد کریں جو ذاتی ایجنڈوں کے لیے دینی و قومی شخصیات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
آخر میں صدر انجمنِ شرعی شیعیان نے کہا کہ میرواعظ کشمیر کے وقار پر حملہ دراصل کشمیری سماج کے اتحاد، دینی تشخص اور اجتماعی ضمیر پر حملہ ہے، اور انجمنِ شرعی شیعیان ہر اس آواز کے ساتھ کھڑی ہے جو امن، احترام اور خودداری کی علمبردار ہو۔ ہم اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے شور سے نہ تاریخ مٹتی ہے، نہ کردار گھٹتے ہیں اور نہ ہی حق کی آواز دبائی جا سکتی ہے۔