Ad
مضامین

میرواظ کشمیر کا نیا فیصلہ۔۔۔ سیاسی مصلحت یا نظریاتی ارتقا؟

✍️:. محمد رفیق راتھر / بارہمولہ 


میرواعظ کشمیر ڈاکٹر محمد عمر فاروق کے حالیہ طرزِ عمل، بالخصوص سوشل میڈیا پروفائل سے “چیئرمین” کے لفظ کے اخراج، نے کشمیر کے سیاسی اور فکری حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی اور تکنیکی نوعیت کا اقدام محسوس ہوتا ہے، تاہم کشمیر جیسے حساس خطے میں، جہاں سیاست محض فیصلوں سے نہیں بلکہ علامات، القابات اور اشاروں سے بھی جانی جاتی ہے، اس قدم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایک لفظ کیوں ہٹایا گیا، بلکہ یہ ہے کہ اس کے پس منظر میں سیاسی مصلحت کارفرما ہے یا نظریاتی ارتقا۔

سیاسی مصلحت اور نظریاتی تبدیلی کے درمیان فرق کو سمجھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، خصوصاً جب معاملہ ایسے رہنما سے متعلق ہو جو محض ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک ادارہ جاتی علامت بھی ہو۔ میرواعظ کشمیر کا منصب محض ایک عہدہ نہیں، بلکہ کشمیر کی تاریخ، مذہبی قیادت اور سیاسی شعور سے جڑا ہوا ایک تسلسل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر محمد عمر فاروق کے ہر اقدام کو ذاتی فیصلے کے بجائے اجتماعی اور تاریخی تناظر میں پرکھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عمر فاروق کو ان کے خاندانی، تاریخی اور فکری پس منظر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ میرواعظ خاندان صدیوں سے کشمیر میں مذہبی رہنمائی، سماجی اصلاح اور سیاسی بیداری کی علامت رہا ہے۔ کم عمری میں والد، میرواعظ مولوی محمد فاروق، کے قتل کے بعد اس منصب کی ذمہ داری سنبھالنا ایک غیر معمولی آزمائش تھی۔ اس سانحے نے ان کی شخصیت میں تحمل، برداشت اور احتیاط کو مرکزی حیثیت دی، جس کا اثر ان کے سیاسی رویے میں بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ تشدد سے اجتناب، مکالمے پر یقین اور جذباتی سیاست سے فاصلہ ان کے سیاسی مزاج کی بنیادی خصوصیات رہی ہیں۔

ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جدید سیاسی شعور رکھنے والے رہنما کے طور پر میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل، بات چیت اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔ وہ ان چند کشمیری قیادتوں میں شامل رہے ہیں جنہوں نے وقتی اور جذباتی نعروں کے بجائے فکری استدلال اور تدریجی سیاسی عمل کو ترجیح دی۔ اختلافِ رائے کے باوجود، ان کا بیانیہ عمومی طور پر سنجیدہ، متوازن اور تشدد سے پاک تصور کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم سیاست میں علامات اور القابات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ سیاسیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عہدے اور اصطلاحات صرف ذاتی شناخت نہیں ہوتیں بلکہ عوامی توقعات، تاریخی تسلسل اور نظریاتی وابستگی کی بھی نمائندگی کرتی ہیں۔ “چیئرمین” جیسے لفظ کا ہٹایا جانا، اگر کسی قانونی دباؤ، سیاسی حکمتِ عملی یا وقتی مصلحت کے تحت کیا گیا، تو اس پر اختیار کی گئی خاموشی نے عوامی سطح پر سوالات کو جنم دیا۔ یہاں ایک ہلکی مگر ضروری تنقید یہ بنتی ہے کہ میرواعظ جیسے ادارہ جاتی کردار کے حامل رہنما سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسے علامتی فیصلوں پر بروقت وضاحت فراہم کریں، تاکہ قیاس آرائیوں اور غلط فہمیوں کی گنجائش کم ہو۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی مصلحت پسندی بذاتِ خود کوئی منفی تصور نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ قیادت وقتی لچک کا مظاہرہ کرے تاکہ جدوجہد کا تسلسل برقرار رہ سکے۔ تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مصلحت اور نظریے کے درمیان حدِ فاصل واضح نہ رہے۔ میرواعظ کے معاملے میں اب تک ایسا کوئی ٹھوس اشارہ سامنے نہیں آیا جو یہ ثابت کرے کہ انہوں نے اپنے بنیادی مؤقف، یعنی امن، مکالمہ اور سیاسی حل، سے دستبرداری اختیار کی ہو۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود ابہام نے ان کے ناقدین کو شکوک و شبہات کا موقع فراہم کیا ہے۔

قیادت سے متعلق جدید مطالعات اس امر پر زور دیتے ہیں کہ عوامی اعتماد کی بنیاد مسلسل رابطے، شفافیت اور فکری وضاحت پر قائم ہوتی ہے۔ خاموشی بعض مواقع پر حکمت ہو سکتی ہے، مگر طویل خاموشی قیادت کے خلا کا تاثر بھی پیدا کر سکتی ہے، بالخصوص ایسے معاشرے میں جہاں سیاست شناخت، تاریخ اور قربانی سے گہرے طور پر جڑی ہو۔ میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق آج بھی ایک متوازن سوچ، مضبوط اعصاب اور پرامن حل پر یقین رکھنے والے رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں، مگر بدلتے سیاسی حالات میں ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنی حکمتِ عملی اور علامتی فیصلوں کو زیادہ شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھیں۔

آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ “چیئرمین” کے لفظ کا ہٹایا جانا نہ تو محض سادہ سیاسی مصلحت قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے واضح نظریاتی انحراف کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ سیاسی ماحول میں لیا گیا ایسا فیصلہ ہے جسے بہتر ابلاغ اور بروقت وضاحت کے ذریعے زیادہ قابلِ فہم بنایا جا سکتا تھا۔ سنجیدہ بحث کا تقاضا یہی ہے کہ شخصیات کے بجائے اصولوں، اور جذبات کے بجائے فہم و تدبر کو بنیاد بنایا جائے، تاکہ کشمیر کی سیاست مزید ابہام کے بجائے وضاحت اور شعور کی سمت آگے بڑھ سکے۔

مصنف ٹریڈ یونین لیڈر سے سیاست میں آگئی ہیں۔ ایک کالم نویس اور ٹیلی ویژن ڈیبیٹر بھی ہیں۔

mrafiqr65@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!