Ad
ادب

ملحد اور خدا پرست کا مکالمہ :.... آزاد نظم

✍️:. عنایت نزیر نجار/ اچھن پلوامہ کشمیر 



email id: enayatnazir2024@gmail.com

وہ کہتا ہے:

یہ کائنات خودبخود ہے،

حادثہ در حادثہ،

اتفاق کی کوکھ سے جنمی ہوئی ایک کہانی۔

کہتا ہے:

نہ کسی نے سوچا،

نہ کسی نے چاہا،

بس مادہ تھا،

اور مادہ ہی سب کچھ ہے۔

میں مسکرا کر پوچھتا ہوں:

کیا کبھی اینٹیں

خود ایک گھر بناتی ہیں؟

کیا بکھرے ہوئے حروف

خود بخود

کوئی بامعنی کتاب لکھ لیتے ہیں؟

وہ خاموش ہوتا ہے،

پھر کہتا ہے:

قدرت کے قوانین ہیں،

نظام ہے، توازن ہے۔

میں نے کہا:

قانون بغیر قانون ساز کے؟

نظام بغیر ناظم کے؟

توازن بغیر میزان تھامنے والے کے؟

ذرا دیکھو!

ایک بیج

جو مٹی کے اندھیرے میں

اپنی سمت جانتا ہے،

کون سکھاتا ہے اسے

جڑ کو نیچے

اور شاخ کو اوپر بڑھانا؟

ذرا سوچو!

ماں کے سینے میں دودھ

بچے کی پیدائش سے پہلے،

کیا یہ بھی محض اتفاق ہے؟

ملحد کہتا ہے:

یہ سب فطرت ہے۔

میں نے کہا:

فطرت خود ایک دلیل ہے،

کہ خالق واحد ہے،

جو ذرّے کو بھی جانتا ہے

اور کہکشاؤں کو بھی سنبھالے ہوئے ہے۔

کائنات کی ہر سانس

کہتی ہے:

وہ ایک ہے،

نہ شریک، نہ متبادل،

نہ ابتدا، نہ انتہا۔

یہی ہے توحید،

جو آنکھ سے بھی دکھائی دیتی ہے

اور دل سے بھی محسوس ہوتی ہے۔

اور میں نے دل ہی دل میں کہا:

جو دیکھ کر بھی نہ مانے،

وہ دلیل کا نہیں، بلکہ

ہدایت کا محتاج ہے۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!