Ad
افسانہ

قیمت۔۔۔۔۔۔ (افسانہ)

✍️:. فاضل شفیع بٹ/  اکنگام، انت ناگ


موبائل نمبر:9419041002

وہ بھی کیا زمانہ تھا جب سڑکیں کچی تھیں، کچے مکانوں سے مٹی کی خوشبو اۤتی تھی اور لوگوں کے دل پیار و محبت سے لبریز تھے۔ صبح سویرے اخبار پڑھنا ایک معمول تھا گو کہ ہر جگہ یکساں سہولت دستیاب نہ تھی۔

احمد ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ شہر کے لوگ تو چائے کی چسکیوں کے ساتھ تازہ ترین اخبار سے لطف اندوز ہوتے تھے، مگر گاوں میں اخبار دوپہر کے کھانے کے وقت پہنچتا تھا۔ احمد اخبار پڑھنے کا ایسا شوقین تھا کہ اس کی بے صبری روزانہ گاؤں کی گلیوں میں منڈلاتی رہتی۔ کبھی کبھی اخبار نہ ملنے کی صورت پر گھر میں ایک عجیب اداسی چھا جاتی تھی۔ اخبار کی قیمت صرف دو روپیہ تھی۔ کم قیمت ہونے کے باوجود اخبارات ہزاروں کی تعداد میں بکتے تھے۔ اشتہارات کی بھرمار تھی اور ایک اخبار نویس باعزت بلکہ شان و شوکت سے زندگی بسر کر سکتا تھا۔

 وقت بدلنے میں دیر کب لگتی ہے۔

بیس پچیس برس کے قلیل عرصے میں موبائل فون اور انٹرنیٹ نے دنیا کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ گویا پوری دنیا اس کی زلفِ گرہ گیر کی اسیر ہو چکی ہے۔ انٹرنیٹ نے جہاں بے شمار سہولتیں دیں وہیں کئی پیشوں کی شناخت بھی چھین لی جن میں صحافت خصوصاً اخبار نویسی، سرِفہرست ہے۔

اب وہی اخبار جس کا احمد بے صبری سے انتظار کرتا تھا، ای پیپر بن کر رات کے بارہ بجے موبائل میں دستیاب ہوتا ہے۔ نہ اس کی قیمت ہے، نہ اس محنت اور جستجو کی کوئی قدر جو کبھی اخبار نویس کا سرمایہ تھی۔

احمد سوچ کے سمندر میں ڈوب گیا:

"کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جو اخبار پندرہ برس پہلے دو روپیہ میں ملتا تھا، آج بازار میں ڈھونڈے نہیں ملتا؟ اخبار فروشی… شاید ایک مٹتا ہوا پیشہ بن چکا ہے۔"

اسی سوچ میں غلطاں، وہ ایک دن بازار نکل پڑا۔ ہر طرف دیکھا مگر ایک بھی اخبار فروش دکھائی نہ دیا۔ بالآخر بازار کے ایک کونے میں ایک اداس چہرے والا اخبار فروش کھڑا نظر آیا۔ ہاتھ میں کانگڑی لیے، سردی سے بچتا ہوا، بے نور آنکھوں کے ساتھ۔۔۔۔۔ 

احمد اس کے پاس پہنچا اور جیب سے دس روپے کا نوٹ  نکال کر بولا:

"بھائی صاحب، دو اخبار دیجیے۔"

اخبار فروش نے اخبار تھمائے اور شرمندگی سے کہا:

"جناب… میرے پاس چھٹا نہیں ہے۔"

احمد نے حیرت سے جواب دیا:

"کیوں؟ میں نے تو دس روپیہ ہی دیا ہے۔"

اخبار فروش کی آواز میں ایک ٹوٹا ہوا سا وقار تھا،

"جناب… آپ کو چھ روپیہ واپس بھی کرنے ہیں۔"

احمد کچھ لمحے چپ رہا، پھر پوچھا:

"ایک اخبار کی قیمت کتنی ہے؟"

اخبار فروش کی نحیف مسکراہٹ اس کی پوری زندگی کا خلاصہ تھی۔ وہ بولا:

"جناب… دو روپیہ۔"



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!