Ad
مضامین

تعلیم و تہذیب کا درخشاں مینار حافظ نوید الاسلام

✍️:. حافظ نوید الاسلام


محترم ظہور احمد شاہ—جو عوام میں ظہور سر کے نام سے بطورِ رمزِ وقار پہچانے جاتے ہیں—علم، اخلاص، خدمتِ خلق اور سماجی شعور کا حسین امتزاج ہیں۔ وہ نہ صرف ایک معلمِ باکمال ہیں بلکہ ایک مصلحِ معاشرہ، دانشور، فعال کونسلر اور علمی دھارے میں رواں ایک نہایت معتبر شخصیت بھی ہیں۔

استاد وہ نہیں جو علم کا دفتر کھول دے

بلکہ وہ ہے جو روح میں اُجالا بھر دے

اُستاد کی توقیر سے روشن ہو زمانہ

اُس کے ہی دم سے بنتا ہے انسان کا فسانہ

کولگام کے نواحی گاؤں پاریون سے تعلق رکھنے والے اس مردِ باصفا نے اپنی علمی زندگی کو مسلسل محنت، مجاہدے اور استقامت کے ذریعے نکھارا۔ پوسٹ گریجویشن اور بی۔ایڈ کے علاوہ NET اور SET جیسے دقیق و دشوار امتحانات میں کامیابی ان کی علمی سنجیدگی کا بین ثبوت ہے۔ 2007ء میں انہوں نے کنٹریکچوئل لیکچرار کے طور پر سفرِ تدریس کا آغاز کیا، جہاں وہ نہ صرف درس دیتے رہے بلکہ کشمیر یونیورسٹی کے انٹرنس امتحان کے لیے طلبہ کی راہنمائی بھی کرتے رہے۔ متعدد نوجوان ان کی مشفقانہ گائیڈنس سے کامیابی کی منزلیں پاتے گئے۔

علم کی شمع جلا دے جو دل کے گوشے میں

وہی ہے اصل میں صاحبِ فن و بینشِ کامل

آج وہ اپنے آبائی گاؤں میں بطور پرائمری اسکول ٹیچر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ باوجود اس کے کہ ان کی قابلیت انہیں بڑے منصب تک لے جا سکتی تھی، مگر انہوں نے علاقے میں نجی اسکولوں کے بڑھتے ہوئے فتنۂ رجحان کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا۔ کم داخلہ کا مسئلہ اُن کے لیے رکاوٹ نہیں بلکہ موقع ثابت ہوا۔

اپنی جدتِ طرزِ تدریس، شیرین رویّے، بے ساختہ خلوص اور بچوں سے فطری محبت کی بدولت انہوں نے چند ہی برسوں میں اسکول کا داخلہ 17 سے بڑھا کر 132 تک پہنچا دیا۔ ایک مدت تک وہ اکیلے ہی تمام تدریسی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے، مگر ان کا حوصلہ نہ ٹوٹا، ارادہ نہ ڈگمگایا۔ ان کے تجربات کی تازگی اور محنت کی صداقت نے گاؤں والوں کے دلوں میں بے پناہ اعتماد پیدا کر دیا۔

جہاں میں اہلِ ہمت کی کمی ہرگز نہیں ہوتی

جو اپنے آپ کو وقفِ عمل کر دیں وہی زندہ

محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی جہاں

جو دل سے کرے، وہی منزل پاتا ہے جہاں

ظہور سر کا تدریسی اسلوب نہایت دلنشین ہے۔ وہ کھیل کھیل میں سیکھنے کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچے ان کے پڑھائے ہوئے اسباق کو گھر میں گنگناتے نظر آتے ہیں اور اپنے والدین کو ان کے اخلاق و کردار کے خوبصورت پہلو سناتے نہیں تھکتے۔

یہاں ایک اور دل آویز و پوشیدہ حقیقت یہ بھی ہے کہ محترم ظہور احمد شاہ اپنی ذمہ داری کو محض ایک منصب نہیں بلکہ امانتِ عظیمہ تصور کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ وہ اکثر اوقات وقتِ مقررہ سے ایک گھنٹہ یا کم از کم نصف گھنٹہ قبل اسکول پہنچ کر پورے شوق و ذوق سے  خود تالا کشائی کرتے ہیں، اور چھٹی کے وقت بھی آخری دم تک موجود رہ کر تالا بندی کی ذمہ داری بنفسِ نفیس انجام دیتے ہیں۔ یہ معمول ان کی فرض شناسی، بیداریِ شعور اور احساسِ خدمت کا بے نظیر مظہر ہے۔

مزید برآں، ان کی شخصیت کا ایک لطیف مگر نہایت مؤثر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ والدین سے ہمہ وقت رابطۂ مستقیم میں رہتے ہیں۔ بچوں کی حاضری، تربیت، کارکردگی اور ان کے روزمرہ احوال کے بارے میں نہایت شفقت آمیز تحقیق کرتے رہتے ہیں—

“آج وہ کیوں نہیں آیا؟”

“اس نے دیا گیا کام مکمل کیوں نہ کیا؟”

“کیا وہ گھر میں مطالعہ کر رہا ہے؟”

یہ سوالات صرف پوچھے نہیں جاتے بلکہ ایک حقیقی معلم کی دل سوزی اور خیرخواہی کے اظہار ہوتے ہیں۔

یوں گویا وہ اسکول تک محدود نہیں رہتے بلکہ بچوں کے گھروں تک اپنی تربیتی رسائی کو قائم رکھتے ہیں۔

اُستاد وہ ہے جو آنکھوں میں خواب جگا دے

اور ہاتھ پکڑ کر منزل کا راستہ دکھا دے

درس و تدریس کے علاوہ وہ ایک پختہ قلم کار بھی ہیں۔ ان کی دو کتابیں—گنجینۂ اردواور"اردو کے چند مشہور اصناف" —ادب دوستی اور لسانی شعور کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ وہ مختلف موضوعات پر مضامین بھی قلم بند کرتے رہتے ہیں۔ان کی شخصیت کی سب سے دلکش بات یہ ہے کہ وہ اپنے اسکول کے چھوٹے سے چھوٹے کام کو بھی فریضہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں—چاہے صفائی ہو، برف ہٹانا ہو، باتھ روم کی نگہداشت ہو یا نل لگانے جیسا کام۔ ان کا یہ عمل خدمتِ خلق اور عاجزی کا بے مثل نمونہ ہے۔

جھکا رہے جو شجر، پھل اسی پہ آتے ہیں

عاجزی میں ہی بزرگوں کی شان پائی جاتی ہے

بڑا بننے کا شوق جسے ہوتا ہے دنیا میں

وہ پہلے اپنے آپ کو چھوٹا بناتا ہے

آخر میں، میں دل کی گہرائیوں سے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ محترم ظہور احمد شاہ کے علم، عمل، اخلاص اور خدمت میں مزید برکت عطا فرمائے۔وہ یوں ہی علم کی شمعیں روشن کرتے رہیں اور پسماندہ طبقے کے بچوں کے لیے امید کا چراغ بنے رہیں۔

خدا کرے کہ یہ محنت ثمر بار ہو ہمیشہ

خدا کرے کہ ہر قدم رہگزر بہتر ہو ہمیشہ

hafiznaveedahkhan@gmail.com



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!