Ad
افسانہ

گرام سبھا :..... افسانہ

✍️:. تنویر الاسلام 


دو اکتوبر‌  کا سورج ابھی طلوع بھی نہیں ہوتا کہ اکرم پرے اپنی برف جیسی سفید، بے ہنگم ریش کو سہلاتا، لاٹھی ٹیکتا، آہستہ آہستہ پنچایت گھر کی طرف بڑھ جاتا۔ اس کے قدموں کی چاپ میں ایسی مستقل مزاجی تھی جیسے کوئی سپاہی ہر صبح ایک ہی مورچے پر حاضری دینے نکلتا ہو۔

سر پر روایتی کشمیری ٹوپی، کندھوں پر وقت کا بوجھ، اور دل میں جمہوریت پر ایسا راسخ یقین کہ گویا دنیا کی سانسیں اسی امید کے سہارے چل رہی ہوں۔

اکرم پرے کی کل ملکیت بس چار کنال کا ایک باغ تھا اور جموں میں برسوں سے مسابقتی امتحان کی تیاری میں مصروف اس کا اکلوتا بیٹا۔ وہی باغ جس کے پہلو سے بہنے والا پہاڑی نالہ ہر برسات میں مشتعل درندے کی طرح غرّاتا ہوا آتا۔ نالے کی بے رحم لہریں اکثر اس کے دل میں سوالوں کی دھڑکن جگاتیں:

"اگر اس سال بندھ نہ بنا… تو کیا میرا باغ بچ رہ پائے گا؟"

اسی فکر نے اسے گزشتہ سات برس سے گرام سبھا کا مستقل اور پابند رکن بنا رکھا تھا۔ اس کے چہرے کی ہر جھری "منریگا" Mgnrega کے کسی ضابطے، کسی درخواست یا کسی ادھورے وعدے کی پوری ایک داستان تھی۔

اس برس بھی وہ سب سے پہلے صحن میں پہنچا۔

پھر وہی ٹھیکیدار نما نوجوان آئے—چہروں پر طاقت کا بےلگام غرور، لہجوں میں بے نیازی—اور یوں کرسیوں پر دھنس گئے جیسے گرام سبھا ان کی موروثی جاگیر ہو۔ اپنی پسند کے منصوبے لکھوا کر فائلوں میں شامل کرواتے چلے گئے۔

اکرم پرے ایک کونے میں خاموش بیٹھا رہا؛ ایک نگاہ میں وہی پرانی امید، وہی برسوں کا انتظار۔

جب اس کی باری آئی تو پنچایت سیکریٹری نے یوں فائل بند کر دی جیسے دروازہ کسی من چاہے وقت پر کسی کے منہ پر بند کیا جاتا ہے۔

“اکرم صاحب… نئے ضابطے نافذ ہو گئے ہیں۔ بندھ انفرادی کام ہے، اس پر فنڈ نہیں ملتا۔ اب سرکار صرف اجتماعی کاموں کو ترجیح دیتی ہے۔”

اکرم پرے نے چونک کر پوچھا:

“مگر حاجی سلہ جو کے باغ پر جو بندھ بنا تھا؟ اور غلام بخش ہیڈ کلرک کی حویلی کے پیچھے…؟”

سیکریٹری نے نظریں چرا لیں۔

ٹھیکیدار زور سے ہنسے—ایسے جیسے کسی کی بے بسی ان کے لئے ایک دلچسپ تماشہ ہو۔

گرام سبھا ختم ہوئی۔

لوگ اٹھ کر چلے گئے۔

اور اکرم پرے صحن کے بیچوں بیچ اکیلا رہ گیا—جیسے کسی پرانے برگد کے نیچے بھٹکتا ہوا سایہ۔

اسی دن اسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ کچھ لفظ اتنے کھوکھلے ہوتے ہیں کہ انسان کی پوری زندگی ان میں رُل جاتی ہے—جمہوریت، انصاف، عوامی رائے، اختیارِ فیصلہ… سب کاغذی دعوے۔

اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے۔

آواز لرزتی آہوں میں بدل گئی:

“یا اللہ… مجھ پر اور میری اولاد پر اپنا فضل و کرم رکھ۔

اور ان منریگا کے مافیا کو—سات پشتوں تک—اسی ذلت کے کام سے جکڑے رکھ۔”

آنسو اس کی جھریوں میں بہتے گئے—

بالکل ایسے جیسے برسات میں نالہ اس کے باغ کی مٹی بہا لے جاتا تھا۔

شام ہوئی۔

اکرم پرے اپنی زندگی کا سب سے بھاری صفحہ الٹتا ہوا گھر لوٹا۔

دروازہ کھلا ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔

“ابا! میں ‌جے کے پی ایس سی میں کامیاب ہو گیا ہوں!”

یہ جملہ اس کے اندر بجھے ہوئے چراغ کی لو کو دوبارہ روشن کر گیا۔

اکرم پرے کی آنکھوں میں برسوں بعد نمی نہیں، روشنی تھی—امید کی، وقار کی، قبولیت کی۔

اگلے سال اس کا بیٹا سری نگر کے IMPA سے تربیت مکمل کر کے اپنے ہی علاقے کا بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر بن گیا۔

وہی دفتر…

وہی کرسی…

وہی فائلیں…

صرف فیصلے بدل چکے تھے۔

اب اکرم پرے کبھی گرام سبھا نہیں جاتا۔

گاؤں کے ٹھیکیدار اب پہلے سے زیادہ تختیاں اٹھائے پھرتے ہیں،

نئے منصوبے بنتے ہیں،

اور ہر سال دو اکتوبر کو بی ڈی او صاحب کی ایمانداری کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے۔

اکرم پرے البتہ پنچایت کے صحن میں نہیں جاتا—اسے اب کسی منصوبے کی ضرورت نہیں۔

اس کا بندھ اب نالے سے نہیں، زمانے سے بچ چکا ہے۔

ہاں…

وہ دعا جو اس نے اُس روز آسمان کی طرف نظر اٹھا کر مانگی تھی—وہ آج بھی فضا میں کہیں موجود ہے۔

اور شاید…

کبھی کبھی…

وہ ٹھیکیدار اسے اپنے سائے کے پیچھے چلتی ہوئی محسوس بھی کرتے ہیں۔



غیر جانبدار اور آزاد صحافت کا ساتھ دیں!


نوکِ قلم نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جو غیر جانبدار صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ نازیبا اشتہارات سے اجتناب کرتے ہوئے گوگل اشتہارات بند کر دیے گئے ہیں۔ اب یہ سفر آپ کے تعاون کا محتاج ہے۔ خصوصاً قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ ہفتہ وار یا ماہانہ مالی تعاون کے ذریعے اس مشن کو جاری رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ شکریہ!