تبصرہ کُتب
رسائل من النبی صل اللہ علیہ والہ سلام تعارف و تجزیہ

اسلامی ذخیرۂ علم و ادب میں سیرتِ نبوی ﷺ اور احادیثِ رسول ﷺ پر جو کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئی ہیں، وہ امت کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ ثابت ہوئی ہیں۔ ہر دور میں اہلِ قلم نے یہ کوشش کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ، آپ کی تعلیمات اور آپ کے اقوال و افعال کو اس انداز میں پیش کریں کہ نہ صرف دین کی فہم میں اضافہ ہو بلکہ قاری اپنی عملی زندگی کو بھی ان ہدایات کے مطابق ڈھال سکے۔ تاہم کچھ کتابیں ایسی بھی وجود میں آتی ہیں جو عام دینی کتابوں سے ہٹ کر اپنے انداز، اسلوب اور اثر انگیزی کی وجہ سے الگ پہچان رکھتی ہیں۔ انہی کتابوں میں سے ایک ہے "رسائل من النبی ﷺ (نبوی تعلیمات)" جس کے مصنف معروف عرب مفکر اور ادیب ادم شرقاوی ہیں اور جس کا اردو ترجمہ ابوالاعلیٰ سید سبحانی نے انجام دیا ہے۔ یہ کتاب ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز نئی دہلی کے زیراہتمام شائع ہوئی ہے۔
یہ کتاب بظاہر مختصر ہے لیکن اپنے اندر معانی و مطالب کی ایک وسیع دنیا سموئے ہوئے ہے۔ ادم شرقاوی نے اپنی تحریر میں جو اسلوب اختیار کیا ہے وہ نہایت دلنشین اور قاری کو اپنی گرفت میں لینے والا ہے۔ وہ بڑی سادہ اور عام فہم زبان میں گہرے مسائل کو بیان کرتے ہیں۔ ان کی تحریر میں عربی ادب کی چاشنی بھی موجود ہے اور جدید ذہن کو اپیل کرنے والی وضاحت بھی۔ انہوں نے چھوٹی چھوٹی احادیث کو بنیاد بنا کر قاری کے سامنے بڑے بڑے مسائل کا حل پیش کیا ہے۔ ان کی تحریر پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ براہِ راست ہمارے سامنے بیٹھے ہیں اور ہماری زندگی کے مختلف مسائل پر رہنمائی فرما رہے ہیں۔
اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر حدیث کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ انسانی نفسیات اور روزمرہ زندگی کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف کا مقصد یہ نہیں رہا کہ وہ محض احادیث کا ذخیرہ قاری کے سامنے رکھ دیں بلکہ انہوں نے ان احادیث کی عملی معنویت کو اجاگر کیا ہے۔ وہ یہ احساس دلاتے ہیں کہ حدیثِ رسول ﷺ محض مذہبی ہدایت نہیں بلکہ ایک ایسا عملی لائحہ عمل ہے جو انسان کے اخلاق، سماجی تعلقات، روحانی سکون اور نفسیاتی مسائل سب پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب جدید دور کے انسان کے لیے ایک طرح کی کاؤنسلنگ ہے، جو اسے اپنے مسائل کے حل کے لیے سنتِ نبوی ﷺ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
ادم شرقاوی کی تحریر کی ایک اور خوبی اس کی ترتیب اور اندازِ بیان ہے۔ وہ مشکل ترین بات کو بھی نہایت سہل اور دل کو چھو لینے والے جملوں میں ادا کرتے ہیں۔ قاری کو نہ کہیں بوجھل محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی وہ پیچیدگیوں میں الجھتا ہے۔ مختصر پیراگراف، فکرانگیز جملے اور گہرے نکات ایک خاص ترتیب کے ساتھ سامنے آتے ہیں اور قاری کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ انداز عربی ادب کی اس خاص روایت کی یاد دلاتا ہے جس میں حکمت اور فصاحت ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔
ابولاعلیٰ سید سبحانی نے اس کتاب کے ترجمے میں جو مہارت دکھائی ہے وہ لائقِ تحسین ہے۔ کسی بھی غیرملکی زبان کی کتاب کو اردو میں منتقل کرنا محض الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فکری اور اسلوبی چیلنج ہوتا ہے۔ عربی زبان کی لطافت اور دلنشینی کو اردو میں منتقل کرنا آسان کام نہیں، لیکن مترجم نے یہ کام نہایت کامیابی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ ان کا ترجمہ نہ صرف رواں اور شستہ ہے بلکہ اصل متن کے ذوق اور روح کو بھی برقرار رکھتا ہے۔ مترجم نے اپنی فنی مہارت سے اس کتاب کو اردو کے قارئین تک اس حسن کے ساتھ پہنچایا ہے کہ ایسا محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ کسی دوسری زبان سے ترجمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری اسے پڑھتے ہوئے براہِ راست مصنف کے خیالات سے ہمکلام ہوتا ہے۔
یہاں یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ مترجم پہلے بھی اس نوعیت کے کام کر چکے ہیں۔ جیسا کہ کتاب کے مقدمے میں ذکر ہے کہ اس سے قبل "رسائل من القرآن" کا ترجمہ بھی انہوں نے ہی کیا تھا اور وہ بھی اپنی مثال آپ تھا۔ ان کی علمی بصیرت اور زبان پر قدرت اس بات کی ضامن ہے کہ اصل پیغام نہ صرف برقرار رہتا ہے بلکہ اردو کے قارئین کے ذوق کے مطابق بھی ڈھل جاتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مترجم نے اس کام کو محض پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک دینی فریضہ جان کر ادا کیا ہے۔
پبلشرز یعنی ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز نئی دہلی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے جنہوں نے اس قیمتی سرمایہ کو شائع کرنے کا اہتمام کیا۔ کتاب کی طباعت معیاری ہے، کاغذ اور فونٹ کی تراش خراش قاری کو مطالعے کے دوران سکون دیتی ہے۔ اردو قاری کے لیے یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ علمی اور دینی نوعیت کی ایسی کتابیں اعلیٰ معیار کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں۔
کتاب کے مطالعے کے دوران قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ محض ایک علمی تحریر نہیں پڑھ رہا بلکہ ایک روحانی اور فکری سفر سے گزر رہا ہے۔ ہر صفحے پر ایک نیا دروازہ کھلتا ہے جو انسان کو اپنی ذات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ مثال کے طور پر مصنف نے بعض چھوٹی احادیث کو ایسے انداز میں بیان کیا ہے کہ وہ انسانی نفسیات کے گہرے پہلوؤں کو اجاگر کر دیتی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح رسول اللہ ﷺ نے مختصر ترین الفاظ میں انسانی زندگی کے بڑے مسائل کا حل پیش کیا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نبوی تعلیمات وقت اور مقام کی قید سے آزاد ہیں اور ہر دور میں انسان کے لیے روشنی کا ذریعہ ہیں۔
اگر تنقیدی پہلو سے دیکھا جائے تو شاید بعض قارئین یہ خواہش کریں کہ کچھ مضامین مزید تفصیل سے بیان کیے جاتے۔ لیکن دراصل مصنف کا مقصد طوالت اختیار کرنا نہیں بلکہ سادہ اور مختصر انداز میں بات کو دل و دماغ تک پہنچانا ہے۔ اور وہ اس مقصد میں سو فیصد کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا ہر جملہ نیا تاثر چھوڑتا ہے، ہر پیراگراف نیا زاویہ فکر عطا کرتا ہے۔ یہی اس کتاب کی بڑی خوبی ہے کہ یہ قاری کو باندھ کر رکھتی ہے اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
اس کتاب کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ یہ ہر طبقے کے افراد کے لیے یکساں مفید ہے۔ چاہے وہ نوجوان ہوں جو اپنی عملی زندگی کے مسائل کا حل ڈھونڈ رہے ہیں، یا وہ طلبہ و اساتذہ جو دینی تعلیمات کو سمجھنا چاہتے ہیں، یا عام مسلمان جو روزمرہ کی زندگی میں سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی چاہتے ہیں، سب کو یہ کتاب فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ یہ محض علماء اور محققین کے لیے نہیں بلکہ عام قاری کے لیے بھی ہے۔
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ "رسائل من النبی ﷺ" محض احادیث کا ایک مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی رہنمائی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے والا نہ صرف اپنے دین کی بنیادوں کو بہتر طور پر سمجھتا ہے بلکہ اپنی روزمرہ زندگی کے مسائل کا حل بھی پاتا ہے۔ یہ کتاب ایک دعوت ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ حقیقی سکون اور کامیابی اسی میں ہے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب اسلامی ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔ ادم شرقاوی کی تحریر اپنی جگہ ایک شاہکار ہے، لیکن اس کو اردو دنیا میں پہنچانے کا سہرا ابوالاعلیٰ سید سبحانی کے سر جاتا ہے۔ ہدایت پبلشرز نے اسے عمدہ طباعت کے ساتھ قارئین تک پہنچا کر ایک قابلِ قدر خدمت انجام دی ہے۔ جو بھی قاری اس کتاب کو پڑھے گا وہ نہ صرف علمی طور پر مالا مال ہو گا بلکہ روحانی سکون بھی محسوس کرے گا۔ اس کے ہر صفحے سے یہ پیغام جھلکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ آج بھی ہماری زندگی کے مسائل کے سب سے بڑے معالج اور رہنما ہیں۔