تبصرہ کُتب
ماہانہ " الحیات" کا خصوصی شمارہ " آسمانِ تصوّف و سلوک کے آفتابِ عالمتاب"

ماہانہ " الحیات" کا خصوصی شمارہ " آسمانِ تصوّف و سلوک کے آفتابِ عالمتاب" مدیر و مرتب: ڈاکٹر جوہر قدوسی
تصوّف کے بارے میں بعض اہلِ علم کو زبردست تحفظات ہیں اور ایسا غلط بھی نہیں ہے کیونکہ تصوّف کے نام پر مختلف ادوار میں بدعات و خرافات کی جو نئی نئی پگڈنڈیاں ایجاد کی گئیں انہوں نے واقعتاً سچے اور سیدھے دین کی تعجب خیز بلکہ مضحکہ خیز شکلیں سامنے لائیں جنہیں کوئی بھی سلیم الفطرت اور صحیح الفہم شخص قبول نہیں کر سکتا - امر واقعہ یہ ہے کہ آج بھی خود ساختہ ، جاہل اور مبتدع پیروں کی ہمارے معاشرے میں کمی نہیں ، جعلی خانقاہوں کے سلسلے بھی قائم ہیں - دنیوی امور میں ہر ناکام بندہ جبہ و دستار کی پناہ لے کر مشیخت کی مَسنَد پر براجمان ہے -
لیکن اس کے باوجود امت کے تمام اکابر فقہاء و محدثین اور علماء و مشائخ تصوّف کے قائل ہی نہیں داعی بھی رہے ہیں - جن اکابر علماء نے تنقیدی نقطہِ نظر سے تصوّف کا مطالعہ کیا اور اس کی قرار واقعی غَلَطیوں کی نشاندہی کی انہوں نے مغزِ تصوّف کو سراہا - شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ کے بارے میں تاریخی طور پر ثابت ہے کہ وہ قادری سلسلے میں بیعت تھے - جن لوگوں نے میرے سلسلہ وار مضمون " روایاتِ تصوّف اور علمائے اسلام" کو دیکھا ہوگا ، جس کا سلسلہ ، بحمداللہ ، تا ہنوز جاری ہے ، ان پر مخفی نہیں کہ کس بڑے درجے کے علماء سلسلہ ہائے تصوف سے وابستہ رہے ہیں - اللہ تعالیٰ نے ہر شعبے کی طرح اس شعبے میں بھی مجددین مبعوث فرمائے جنہوں نے تصوف کی دینی روح کو ان امور سے ممیَّز کیا جو مزاج قرآن و سنت سے متصادم و متغائر تھے -
تصوف کا ایک پہلو نظریاتی ہے جس کی بعض تعبیرات سے اتفاق و اختلاف کی گنجائش ہو سکتی ہے البتہ تصوف کا عملی پہلو تو عین آدابِ نبوی ، اَخلاق نبوی اور سنتِ نبوی سے ماخوذ و مستنیر ہے -
جماعت اسلامی ( ہند) کے سابق امیر اور عالمِ اسلام کے بلند پایہ اسکالر ، محقق و مصنف ڈاکٹر عبد الحق انصاری رحمہ اللّٰہ نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ اور امام ربانی مجدد الف ثانی رحمہ اللّٰہ پر بڑا مستند کام کیا ہے - شیخ الاسلام پر ان کی کتاب کو عالَمِ عرب میں کافی سراہا گیا اور مجدد الف ثانی پر ان کی کتاب سے برصغیر اور وسط ایشیا میں کافی استفادہ کیا گیا - ڈاکٹر صاحب مرحوم کی یہ کاوشیں متضاد و متخالف میدانوں میں نہیں تھیں بلکہ دراصل ایک ہی فکر و عقیدہ کی دو تعبیریں تھیں جو ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہیں -
علماء نے لکھا ہے کہ اقامتِ دین ، دعوت و تبلیغ ، تعلیم و تربیت ، فکری و نظریاتی اور سیاسی و سماجی میدانوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے ازحد ضروری ہے کہ وہ تصوّف کا پاکیزہ ذائقہ رکھتے ہوں -
ہمارے زمانے میں حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی رحمہ اللّٰہ نے اس کی بہترین مثالیں پیش کیں -
پیر صاحب مرحوم کی وفات کے بعد وادی کے نامور ادیب و محقق اور مدیر و مصنف پروفیسر جوہر قدوسی صاحب نے اپنے وقیع ماہنامہ " الحیات" کا خصوصی شمارہ پیر صاحب مرحوم کے بارے میں شائع کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا -
ڈاکٹر جوہر صاحب کی منجملہ خوبیوں میں یہ بھی ہے کہ وہ مسلکی ، نظریاتی ، جماعتی اور تنظیمی حدود و قیود سے بلند ہوکر سوچتے ہیں اور اسی سوچ کے تحت مختلف علمی و دینی شخصیات پر " الحیات" کے خصوصی شمارے منظرِ عام پر لاتے رہتے ہیں - پیر صاحب مرحوم پر یہ شمارہ اسی فکری اور نظریاتی وسعت کا زائدہ ہے -
ڈاکٹر صاحب نے از راہِ عنایت راقم کا تفصیلی مضمون اس شمارے میں شائع کیا - انہوں نے یہاں کے اہلِ علم حضرات سے رابطہ کرکے پیر صاحب مرحوم کے بارے میں مضامین جمع کیے اور یقیناً انہیں اس میں کافی کدّو کاوش کرنی پڑی ہوگی کیونکہ یہاں کے علمی اور صوفی حلقوں سے ایک چھوٹی سی تحریر کا حصول بھی کوہکن کی جوئے شیر نکالنے سے کم مشکل نہیں اور بعض لوگوں کو تو اپنے سوا کوئی دوسرا محتاط نظر ہی نہیں آتا - یہ چُھوئی مُوئی نفسیات کے حامل لوگ چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پینے کے عادی ہوگئے ہیں - خیر ان کی مجبوریاں!!
بہرحال یہ شمارہ ڈاکٹر صاحب کی محنتوں کا آئینہ ہے - مضمون نگاروں کے جملہ افکار سے اتفاق ضروری نہیں البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیر صاحب مرحوم کے فکر و نظر سے استفادہ کے اعتبار سے الحیات کا یہ شمارہ بے حد مفید و نافع ہے -
مجھے امید ہے کہ علمی و ادبی حلقوں میں اس کی خاصی پذیرائی ہوگی اور لوگ اسے ذوق و شوق سے پڑھیں گے -